پیر ۱۷ فروری۲۰۲۰

روسی صدر کے مخالف مسلمان شخص کی لاش برآمدگی کی خبرایک ہفتہ بعد پاکستان میں شائع

پیر, ۱۰   فروری ۲۰۲۰ | ۰۳:۳۲ شام

پلوشہ اقبال: فرانس میں روسی صدر کے مخالف مسلمان عمران علویف کی گردن کٹی ہوئی لاش برآمدگی ہونے کے ایک ہفتے کے بعد پاکستانی میڈیا میں خبر شائع ہوگئی ہے۔

کاکیسیئن کنوٹ نامی آن لائن نیوز سائٹ کے مطابق یہ واقعہ یکم فروری کو پیش آیا تھا۔ مذکورہ ادارے کے مطابق یورپی ممالک میں مقیم چیچنا کے مہاجروں نے عمران علویف کے قاتلوں گرفتار کرکے سزا دلوانے کے لئے دو دن پہلے یورپ کے مختلف شہروں میں روسی سفارت خانوں کے باہر احتجاج کیا ہے۔ مغربی میڈیا میں یہ خبر سات پہلے سی دی گارڈین نامی برطانوی اخبار نے شائع کی تھی۔  اس کے بعد امریکہ کے نشریاتی ادارہ سی این این نے شائع کی اس بعد برطانوی اور پاکستان میڈیا اس واقعے کو جگہ دینا شروع کیا ہے۔ مختلف میڈیا رپورٹ کے مطابق ویٹر44 سالہ عمران علویف سے  کھانا اور ضروریات  سے متعلق پوچھنے گیا تو خون میں لت پت پڑی لاش اور ایک تیز دھار آلہ بھی موجود تھا۔ مبینہ مقتول کی شہریت کے حوالے مختلف رپوٹس ہیں سی این این کے مطابق مبینہ مقتول کا تعلق چیچنیا سے ہیں اور اپنے صدر رمضان قدیروف کو روس کے صدر ولادی میر پوٹن کا یافتہ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کرتے تھے۔ سی این نے مزید لکھا ہے عمران علویف اپنے یوٹویوب چینل کے ذریعے حکومت پر تنقید کرتے تھے۔ ڈیلی میل نے مزید لکھا مسلمان بلاگر عمران علویف روسی صدر کے سخت ترین مخالفوں میں سے تھے۔ فرانسی پولیس نے اس واقعے کو سیاسی قتل ہونے کے شبے کا اظہار کیا ہے۔ کیونکہ  عمران علی  نے اپنی جان بچانے کے لئے  یورپ  میں پناہ لی ہوئی تھی۔ مقتول بلاگر کا ساتھی واقعے کے بعد منظر عام سے با لکل مبینہ طور پرغائب ہو ہے جس کو تلاش کیا جارہا ہے ۔  فرانسیسی پولیس کے مطابق تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ضرورت پڑنے پر روسی حکومت سے بھی رابطہ کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف ہفتہ گزرنے کے بعد اس واقعے پر روس طرف چیچینا اور روس طرف کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہین آیا ہے۔

تبصرہ کریں