جمعرات ۲۲ اکتوبر۲۰۲۰

نصف صدی بعد لائبریری کو کتاب واپس کرنے والی خاتون کا نام گنیز بک میں درج

جمعرات, ۰۴   جون ۲۰۲۰ | ۱۱:۵۵ صبح

کتابیں پڑھنے کے شوقین کتب لوٹانے میں نہایت سست واقع ہوتے ہیں۔ کتاب سے محبت چیز ہی ایسی ہے جس میں مبتلا افراد کو کتابیں واپس کرنا پہاڑ جیسا معلوم ہوتا ہے اور کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ قاری کتاب واپس کرنا بھول ہی جاتے ہیں۔

امریکی ریاست الینوائے میں ایک خاتون ایملی کینی لوس سمز نے اپنی گھر میں بچوں کی نظموں پر مشتمل کتاب Days and Deeds دیکھی جس پر کیوانی پبلک لائبریری کی مہر ثبت تھی اور تاریخ اجرا 19 اپریل 1955 درج تھی۔ اس کتاب کو ایملی کی والدہ نے 2 سینٹ فی دن کے حساب سے لائبریری سے حاصل کی تھی، نصف صدی بعد جب کتاب واپس کی گئی تو 347 ڈالر کا جرمانہ بھی ادا کیا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی کتاب کو تاخیر سے لوٹانے پر کیا جانے والا یہ اب تک کا سب سے زیادہ جرمانہ ہے، کتاب واپسی پر سب سے زیادہ جرمانہ ادا کرنے پر خاتون کا نام گنیز بک آف ریکارڈ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ لائبریری کو تاخیر سے کتاب لوٹانے کا اعزاز امریکا کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کے پاس ہے جنہوں نے 1790 میں ‘ دی لا آف نیشن‘ نامی کتاب نیویارک لائبریری سے صدر بننے کے بعد حاصل کی تھی لیکن واپس نہیں کی تھی۔ امریکا کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کے انتقال کے بعد ان کے زیر استعمال عمارت اور اشیاء کو تاریخی ورثہ قرار دے دیا گیا اور اس کا نظم و نسق سنبھالنے والے ادارے نے ان اشیاء میں سے یہ کتاب 221 سال بعد نیویارک لائبریری کو واپس کی تھی۔

تبصرہ کریں