جمعرات ۲۸ جنوری۲۰۲۱

اگلے سال پاکستان کی معاشی ترقی ایک فیصد رہنے کا امکان ہے: آئی ایم ایف

جمعرات, ۲۵   جون ۲۰۲۰ | ۰۱:۴۰ شام

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی ورلڈ اکنامک آؤٹ لُک رپورٹ میں اگلے سال پاکستان کی معاشی ترقی ایک فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے ورلڈ اکنامک آوٹ لُک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں بتایا گیا کہ اگلے سال پاکستان کی معاشی ترقی ایک فیصد رہنے کا امکان ہے۔   آئی ایم ایف کے معاشی شرح نمو کا تخمینہ حکومتی اندازوں کے برعکس ہے جس میں حکومت نے نئے بجٹ میں معاشی ترقی کا ہدف 2.1 فیصد مقرر کیا۔  آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق اس سال پاکستان کی گروتھ منفی صفر اعشاریہ چار فیصد رہے گی کیونکہ کورونا سے عالمی معاشی بحران توقعات سے زیادہ سنگین ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری تامارچ 2021 میں مزید مالی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔  آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ کورونا کو شکست دینے والے ممالک میں وبا پھر پھیلنے کا خدشہ بھی ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنے تازہ ترین عالمی معاشی آؤٹ لک میں یہ بھی کہا ہےکہ 21-2020 کے دوران عالمی معیشت کو 12 ہزار ارب ڈالر کا نقصان متوقع ہے اور دنیا بھر میں کاروبار بند ہونے سے کروڑوں ملازمتیں ختم ہوگئی ہیں۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق معیشت کی بحالی کے امکانات بھی خطرے سے دوچار ہیں۔عالمی ادارے نے پیش گوئی کی کہ اگلے سال کے لیے عالمی شرح نمو 5.4 فیصد ہوسکتی ہے جو گزشتہ تخمینے سے 0.4 فیصد کم ہے۔ واضح رہے کہ عالمی سطح پر اعلان کردہ مالی اعانت 11 ہزار ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہے جو اپریل میں 8 ہزار ارب ڈالر تھی۔ آئی ایم ایف کی چیف ماہر معاشیات گیتا گوپی ناتھ نے کہا کہ ان تخمینوں سے 21-2020 کے دوران عالمی معیشت کو 12 ہزار ارب ڈالر سے زیادہ کے مجموعی نقصان ہونے کا خطرہ ہے، جبکہ اس سے دو ماہ قبل تخمینہ 9 ہزار ارب ڈالر تھا۔ انہوں نے کہا کہ 'جہاں لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے وہاں معاشی پالیسیوں کے ذریعے گھریلو آمدنی کے نقصانات کو کم کرنے اور صنعتوں کو مالی مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے'۔ ان کا کہنا تھا کہ 'جہاں معیشتیں دوبارہ کھل رہی ہیں وہاں بحالی کا کام چلنے کے ساتھ ہی اہداف طے کر لینا چاہیے'۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ وہ کورونا وائرس سے متاثرہ اور معاشی اثرات سے نبرد آزما ممالک کی مدد کے لیے 10 کھرب ڈالر قرضہ دینے کے لیے تیار ہے۔

تبصرہ کریں