بدھ ۲۷ جنوری۲۰۲۱

آئی ایم ایف کی پاکستان میں بیروزگاری بڑھنے، شرح نمو ایک فیصد رہنے کی پیش گوئی

بدھ, ۱۴   اکتوبر ۲۰۲۰ | ۱۱:۰۱ صبح

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے رواں مالی سال کے دوران بلند شرح مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافے کے ساتھ پاکستان کی شرح نمو کم رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

دنیا کے اقتصادی منظر نامے 2020 میں آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی شرح نمو جی ڈی پی (مجموعی ملکی پیداوار) کا ایک فیصد، افراط زر کی اوسط شرح 8.8 فیصد، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2.5 فیصد رہنے اور بیروزگاری 0.6 فیصد سے بڑھ کر 5.1 فیصد ہوجانے کی پیش گوئی کی ہے۔  یہ پیش گوئی پاکستان کی شرح نمو جی ڈی پی کے 2.1 فیصد، افراط زر 6.5 فیصد اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.5 فیصد رہنے کے اہداف کے بالکل برعکس ہے۔ مزید یہ کہ واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے قرض دہندہ ادارے نے 2025 میں معاشی نمو بحال ہو کر جی ڈی پی کے 5 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ آئی ایم ایف نے کہاکہ مالی سال 2021 کے اختتام تک مہنگائی کی شرح 10.2 فیصد تک بلند رہے گی۔ اس کے علاوہ فنڈ نے پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 2020 میں جی ڈی پی کے 1.1 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2021 میں 2.5 فیصد اور اس کے بعد مالی سال 2025 میں 2.7 فیصد تک پہنچ جانے کا تخمینہ لگایا ہے۔ عالمی اقتصادی منظر نامے میں عالمی شرح نمو سال 2020 میں 4.4 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا جو کہ جون 2020 کے اندازے سے 0.8 فیصد زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف کاکہنا تھا کہ جون 2020 کے اندازے کے مقابلے میں 2020 کے لیے مضبوط اندازہ 2 مسابقتی عوام کے اثر کو ظاہر کرتا ہے جس میں ایک جی ڈی پی کی دوسری سہ ماہی کے متوقع تنائج سے بہتر صورتحال اور اس کے مقابلے سماجی دوری میں کمی کے ساتھ سال کے دوسرے نصف حصے میں بند شعبہ جات کھلنا شامل ہے۔ عالمی منظر نامے میں نشاندہی کی گئی کہ سال 2020 کی تیسری سہ ماہی میں جڑ پکڑی ہے جو 2021 میں بتدریج بہتر ہوتی جائے گی۔ آئی ایم ایف نے اندازہ لگایا کہ2021 میں عالمی شرح نمو 5.2 فیصد رہے گی جو رواں سال جون کے تخمینے سے 0.2 فیصد کم ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ لاک ڈاؤن کے ابتدائی مرحلے میں ترسیلات زر کی صورتحال تیزی سے متاثر ہوئی تھی جس میں اب بحالی کے آثار دکھ رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی اقتصادی کونسلر اور ڈائریکٹر آف ریسرچ گیتا گوپی ناتھ نے کہا کہ ’بہرحال، تارکین وطن مزدوراں کی جانب سے اپنے ممالک میں ادائیگیوں اور رقوم کی منتقل کم ہونے کا خطرہ بہت نمایاں ہے جس میں بالخصوص بنگلہ دیش، مصر، گوئٹے مالا، پاکستان اور فلپائن اور سب صحارا افریقہ کے ممالک شامل ہیں۔

تبصرہ کریں