بدھ ۰۵ اگست۲۰۲۰

آج دنیا بھر میں ریڈیو کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

جمعرات, ۱۳   فروری ۲۰۲۰ | ۰۲:۲۸ شام

آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں ریڈیو ڈے منایا جا رہا ہےاس سال ورلڈ ریڈیو ڈے کا موضوع ‘‘ریڈیو اور تنوع’’ ہے۔

ریڈیو انسانیت کو اپنے تمام تنوع میں منانے کا ایک طاقتور ذریعہ اور عالمی سطح پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والا وسیلہ ہے۔ وسیع تر سامعین تک پہنچنے کی اس انوکھی صلاحیت کا مطلب ہے کہ ریڈیو معاشرے کے تنوع میں ایم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس دن کو منانے کی باقاعدہ منظوری اقوام متحدہ کےادرہ برائے تعلیم و ثقافت یونیسکو نے 3نومبر 2011کواپنے 36سالانہ اجلاس میں دی ۔اس کی تجویز سپین ریڈیو اکیڈمی کے صدر نے یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل کے نام 2008میں ایک خط لکھ کر دی تھی۔اس کے بعد ہر سال 13فروری کو ریڈیو کے عالمی دن کومنایا جانے لگا ۔ابتدائی انسانوں کے وہم و گمان میں شاید یہ بات نہیں رہی ہوکہ انسانوں کو تسخیر کائنات پر اس قدر دسترس ہو گی کہ ہوا کو ہی تسخیر کرتے ہوئے وہ خود ہی ہوا میں اڑنا شروع کر دے گا۔لیکن آج کا انسان نہ صرف ہوا میں اڑتاہے بلکہ ہوا کے ہی دوش پر اپنے عزیز و اقاریب اور دوست احباب سے رابطہ بھی قائم کرتاہے۔ ہوائی لہروں کو قابو میں کرتے ہوئے اس سے پیغام رسانی کا لینا اور لوگوں کی کثیر تعداد سے مخاطب ہونا آج کے جدید دور میں بھی کوئی آسان کام تو نہیں ۔ لیکن اس مشکل کام کا آغاز 19ویں صدی کے آخر میں شروع ہوا جو آج ترقی کرتے ہوئے موبائل فون تک آگیا ہے دنیا کی معلوم تاریخ کے مطابق ہوا کی لہروں کو قابو کرنے کا تصور 1830میں ابھر کر سامنے آیا جس کوریڈیو کا نام دیا گیا۔ جو تاروں کی مدد کے بغیر پیغا م رسانی کا عمل سے شروع ہوتا تھا ۔اور اس کے ذریعے لاتعداد لوگوں تک اپنے پیغام پہنچاتے تھے ۔اس کے بعد 1873میں جمیزکلرک میکسویل نامی سائنسدان نے ایک فارمولا ایجاد کیا جس کے تحت انہوں نے مقناطیس کے ذریعے برقی لہروں کوفضا میں بھیج کر تجربہ کیا ۔تاہم 1830میں ڈیوڈ ایڈورڈ ہوز نے بین الاقومی سطح پر نشریات کا تجربہ کیا۔اس کے بعد 1888میں ایک مشہور سائنسدان ہنرچ ہرٹاز نے اپنے تجربے میکسویل کے دیئے ہوئے فامورمولے کو درست ثابت کیا۔جس کو مکمل شکل گوگلیمو مارکونی نے دی اس کے بعد ریڈیو نے باقاعدہ طور پرصنعت کا درجہ حاصل کیا۔ اس کے بعد بھی بی بی سی نے 1922میں اپنی نشریات کا آغاز کیا اس وقت اس کا نام برٹش براڈ کاسٹینگ کمپنی تھا جویکم جولائی 1927میں برٹش براڈکاسٹینگ کارپویشن میں بدل گیا۔ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس کااعلان ریڈیو سے ہی کیا گیا۔ قیام پاکستان کے وقت پاکستان میں 3ریڈیو سٹیشن تھے ۔ ریڈیو پاکستان لاہور،ریڈیو پاکستان پشاور اور ریڈیو ڈھاکہ جواس وقت بنگلہ دیشن کا درالحکومت ہے۔اس کے بعد1948میں کراچی اور راولپنڈی میں ریڈیو اسٹیشن قائم ہوئے۔ 1950میں سندھ کے شہر حیدر آباد 1956میں کوئٹہ اور 1970میں اسلام آباد میں ٹریننگ سینٹر اور ملتان میں ریڈیو سٹیشن قائم کیا گیا ۔ 1974اور 75میں خیرپور اور بھاولپورمیں1977میں گلگت اور سکردو میں ریڈیو سٹیشن قائم ہوئے۔1981میں تربت اور 1982میں ڈیرہ اسماعیل خان ،خضدار اور فیصل آباد میں ریڈیو سٹیشن قائم ہوئے ۔ ریڈیو کی صنعت میں ایف ایم کے آمد کے ساتھ اس میں اور جدت آگئی ۔جس کا آغاز محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں ہوا ۔پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغ عامہ کے ایسویٹ پروفیسر مرحوم ڈاکٹر احسان اختر ناز کی ایک تحقیق کے مطابق 1994میں پہلا ایف ایم ریڈیو نے کام کا آغاز کر دیا ۔ جس کا  نام ایف ایم گولڈ کا  رکھا گیاتھا۔جس کی صبح کے سات بجے سے دن 1بجے تک نشریات ہوتی تھیں۔ تاہم اس وقت وہ نشریات تجرباتی بنیادوں پر تھیں جس کی کامیابی کے بعد 1996میں پاکستان براڈ کاسٹینگ کارپورشن نے ایف ایم 101کی باقاعدہ نشریا ت کا آغازکر دیا اور س وقت صورتحال یہ ہے کچھ ٹیلی ویژن چینلز نے بھی اپناایف ایم ریڈیو چینل کی نشریات کا آغاز کیا اور ہمارے ملک کی یونیورسٹیاں بھی ایف ایم ریڈیو کے ذریعے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔پرائیوٹ سیکٹر میں ایف ایم 99نے پہلی مرتبہ اپنی نشریات کا آغاز 23مارچ 2003سے شروع کیا اس کے بعد 23مارچ 2007سے خبریں نشر کرنا شروع کردیں۔مزید یہ کہ پرائیوٹ سیکٹر میں ایف ایم 99 بھی ریڈیو کے ذریعے بچوں کو تعلیم دینے کا پروگرام نشرکرتا ہے جس کا آغاز 2012سے ہوا۔ دستیاب معلومات کے مطابق اس وقت ایف ایم 93 کے پورے ملک میں 22سٹیشن ۔اس وقت پاکستان میں سرکاری اور نجی ریڈیو اسٹیشنز کی تعداد کم و بیش 190 ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد میں اسلام آباد ٹریفک پولیس والوں کا بھی ایف ایم ریڈیو سٹیشن 92.4 ہے جس کا کام لوگوں کو ٹریفک کے بارے میں آگاہی دینا ہے۔چائنا ریڈیو انٹرنیشنل اب ایف ایم 98 پر نہ صرف عالمی خبریں اور حالات حاضرہ پر تبصرہ نشر کرتا ہے بلکہ چینی زبان سیکھنے کا پروگرام نشر کررہا ہے۔    

تبصرہ کریں