ہفتہ ۲۴ اگست۲۰۱۹

حمزہ شہباز جسمانی ریمانڈ پر 26 جون تک نیب کے حوالے

بدھ, ۱۲   جون ۲۰۱۹ | ۰۱:۰۴ شام

لاہور کی احتساب عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر حمزہ شہباز کو 26 جون تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

لاہور کی احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت کی۔  نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ جبکہ حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیے۔ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی تھیں۔قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کی ٹیم نے حمزہ شہباز شریف کو درخواست ضمانت خارج ہونے کے فوراً بعد لاہور ہائی کورٹ سے گرفتار کرلیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی جانب سے حمزہ شہباز کے چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی ہے ۔ نیب کی جانب سے حمزہ شہباز پر الزام عائد کیا گیاہے کہ 2015 میں 36 کروڑ روپے سے مقامی آبادیوں کے نام پر رمضان شوگر ملز کیلئے نالہ تعمیر کیا گیا۔ نیب رپورٹ کے مطابق حکومتی محکموں نے شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کی خوشنودی کیلئے مقامی آبادیوں کے فنڈز رمضان شوگر ملز کیلئے استعمال کیے۔قانون عوامی نمائندوں کو اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے، تجاوز کی نہیں۔ نیب کی طرف سے کہا گیاہے کہ حمزہ شہباز نے 12 کمپنیز کرپشن سے بنائیں، جعلی اکاؤنٹس کا جال بنا،حمزہ شہباز نے 2 ارب کرپشن سے حاصل کیے اور اسی رقم سے اپنی کمپنیز بنائیں۔ حمزہ شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر پولیس کی اضافی نفری احتساب عدالت لاہور کے باہر تعینات کی گئی ہے۔  

 

 

تبصرہ کریں