بدھ ۰۳ مارچ۲۰۲۱

سوال پر مرضی کے جواب کا حق ضرور ہے مگر غلط بیانی کا نہیں

جمعرات, ۰۲   مئی ۲۰۱۹ | ۰۳:۳۲ شام

تحریر: فدا حسین

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل اپنے پیش رو ترجمانوں سے دو یا تین پہلوں سے مختلف نظر آتے ہیں ایک تو وہ تمام سوالوں کا جواب انگریزی میں ہی دینے کے بجائے قومی زبان اردو میں دیتے ہیں اور بعض اوقات کسی معاملے پر تبصرہ کرنے کے لئے اشعار کا بھی سہارا لیتے ہیں تاہم سوالات پراپنی ناراضگی اور  شک و شبے کا اظہار کرنے میں وہ اپنے پیش رو ترجمانوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔  ڈاکٹر محمد فیصل صاحب ناراضگی کا برملا اظہار کرنے کے ساتھ اس ناراضگی کو اپنے اعصاب پر سوار کرنے کے بجائے خندہ پیشانی سے جواب دیتے ہیں، ناراضگی کا اظہار شائد ان کی مجبوری بھی ہو ۔حالانکہ  سوالات پر شک و شبے کا اظہار کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہے کیونکہ سوالات کسی کو نیچا دکھانے کے لئے نہیں بلکہ معاشرے میں موجود مسائل کی نشاندہی کے لئے ہوتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر وقت سوالات افلاطونی فلسطے کا حامل بھی ہو ۔ سوال پوچھنے والا بھی انسان ہے اس لئے  غلط سوال کے احتمال کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جا سکتا ۔تاہم سوال غلط ہونے کی صورت میں بھی کم ازکم فائدہ  غلط فہمی کے ازالے کی شکل میں ملے گا۔  اگر مسائل موجود ہوں تو سوالات تو اٹھیں گے جس کے حل کے لئے راہیں  سوجھی جاتی ہیں سوالات اٹھانے والوں پر  شک و شبے کا اظہار کرنا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔ آمدم برسر مطلب! گزشتہ ہفتے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل صاحب گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی پرتلملا کر فرمانے لگے  سوال کرنا آپ (صحافی) کا حق ہے مگر سوال کا مقصد اگر گلگت بلتستان کی صورتحال کا موازنہ  مقبوضہ کشمیر سے کیا جائے تو یہ میرے (ترجمان) لئے بڑا تکلیف دہ ہے۔اگر وہاں کوئی اس قسم کی متوازی صورتحال موجود ہے تو میں (ترجمان ) پیچھے نہیں ہٹوں گا۔مگر ایسی کوئی متوازی صورتحال نہیں ہے۔نہ وہاں پر سپشل ارمڈ فورسز ایکٹ کا استعمال ہو رہا ہے نہ پی ایس اے یعنی پبلک سیفٹی ایکٹ کا استعمال ہو رہا ہے۔ یاسین ملک کی بیوی مشال ملک کے بارئے میں بات ہوئی وہ بھارت سے ویزہ مانگ رہی ہے مگر مجھے یقین ہے کہ بھارت شائد مشال ملک کو ویزہ نہیں دے گا۔اس لئے دونوں میں موازنہ درست نہیں ہے ۔ سوال کرنا آپ کا حق ہے مگر آپ آسمان اور زمین کو ملا نہیں سکتے ۔ ایک آسمان کی بات ہو رہی ہے ایک زمین کی بات ہو رہی ہے مقبوضہ کشمیر میں اسی ہزار سے زیادہ شہادتیں ہو چکی ہیں اس کا گلگت بلتستان سے کیا موازنہ ؟مقبوضہ کشمیر میں گاؤں کے گاؤں ریب کر چکے ہیں جس کے گواہی بین الاقومی میڈیا اور دیگر ادارے دے چکے ہیں اب ایرانیوں نے بھی کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہونا چاہیے ۔ سوال کرنا آپ کا حق ہے میں شائد آخری بندہ ہوگا جو آپ کے سوال کرنے کے حق پر اعتراض کرتے ہوئے روکا جائے مگر سوال بامقصد ہونا چاہے کیونکہ وہ سوال آپ ( صحافی) کی (ذہینی )  کی استعداد کا آئینہ دار ہوتا ہے کیونکہ ناراضگی کسی  سے بھی ہو سکتی ہے جو ہر کسی کا حق ہے۔ بنیادی طور پر ان سے سوال تھا کہ  ایک طرف تو پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر آواز اٹھاتا ہے مگر دوسری طرف گلگت بلتستان میں پانی جیسے بنیادی حق مانگنے والوں پر انسداد دہشت گردی کے دفعات لگائے جاتے ہیں ،کیا اس سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اٹھائی جانے والی پاکستان کی اپنی آواز کمزور نہیں ہو جائے گی؟ (کیونکہ) یہاں پر پہنچ کر معیار میں فرق سا محسوس ہوتا ہے ۔ تاہم افسوس ترجمان دفتر خارجہ نے اپنی بریفنگ کی ٹرانسکرپٹ میں اس سوال کا غلط ترجمے  کرکے غلط رنگ میں پیش کیا ہے انہوں نے لکھا ہے کہ آپ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف وزیوں کو اجاگر کرتے ہیں گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا کبھی اجاگر نہیں کیا ۔حالانکہ ہم نے ہرگز اس طرح نہیں پوچھا ہے۔جو بات کی ہی نہ گئی اس سے لکھ دینے کو دیدہ دانستہ بددیانتی کے علاوہ کیا کہا جا سکتا ہے مگر ہم اس کو بھی غلط فہمی ہونے کے حسن ظن میں مبتلا تھے اس لئے گزشتہ روز یہ بات ترجمان کے نوٹس میں لانا بھی چاہتے تھے مگر انہوں نے ہم سے سوال لینا مناسب نہیں سمجھا۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سوال پر ناراض ہونے اور اپنی مرضی کا جواب دینے کا حق آپ کو ضرور حاصل ہے مگر جو بات سرے سے کی ہی نہ گئی ہو اس کو ٹرانسکرپٹ میں ڈال کر غلط بیانی کرنا بددیانتی  ہے۔یہ سوال اسی بریفنگ سے دو دن پہلے سکردو میں پانی کے لئے  احتجاج کرنے والی خواتین کی رہنمائی کرنے والے وکیلوں پر مبینہ طور پر انسداد دہشت گردی کے دفعات لگانے سے متعلق تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہاں آنے والے بیورو کریٹ اپنی جھوٹی انا کی تسکین کے لئے اس قسم کے دفعات کا سہارا لے مقامی لوگوں کو دبانا چاہتے ہیں جو کہ بین الاقومی سطح پر پاکستان کی بدنامی کا باعث ہوگی ۔مثال کے طور پر ذرا تصور کریں کہ پاکستان  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں پورے اعداد وشمار اور ثبوت کے ساتھ رپورٹ پیش کرتا ہے اور اگلے ہی لمحے  جب بھارت کو موقع ملتا ہے تو وہ اس کا جواب میں کہا جاتا ہے۔۔۔  چلے ایک منٹ کے لئے یہاں پر مان لیتے ہیں کہ ہم وہاں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں تو ذرا یہ توفرمائیں آپ وہاں پر پانی مانگنے والوں پر انسداد دہشت گردی کے دفعات لگا کر کون سے انسانی حقوق کی پاسداری کر رہے ہیں ؟ تو اس وقت پاکستان کیا جواب دے گا؟اب پاکستان اس کو اپنا اندرونی معاملہ بھی نہیں کہہ سکتا کیونکہ پاکستان کئی دفعہ گلگت بلتستان کو متنازعہ علاقہ قرا ر دے چکا ہے۔ گلگت بلتستان میں معمولی باتوں پر انسداد دہشت کے دفعات کا استعمال پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے اس وقت گلگت بلتستان کے سینکڑوں نواجوں انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت قائم ہونے والے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں ایسا کرنے والوں میں صرف عام لوگ نہیں ہی نہیں ہیں بلکہ گلگت بلتستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کپٹین ریٹائرڈ محمد شفیع تک شامل ہیں۔راستہ مانگنے یا ا حتجا ج کی صورت میں جیل بھیجوانے کی دھمکی دینا ، گائنی ڈاکٹر کے مطالبے پر ٹیکس نہ دینے کا طعنہ دینا ، وہاں کے ارکین اسمبلی کے ساتھ بدتمیزی کرنا انہی بیورکریٹس کے کار ہائے نمایاں ہیں ۔ ان کے یہ کار ہائے نمایاں بین الاقوامی برادری میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں جس سے بچنے لے لئے لازمی ہے کہ وہاں پر جانے والے افسران کو خصوصی تربیتی مراحل سے گزارنے کے بعد وہاں پر اپنی خدمات کا موقع فراہم کیا جائے اوران تربیتی کورسز میں انہیں حاکم کے بجائے خادم ہونے کا تصور ذہین نشین کرانے کے ساتھ لوگوں میں پائے جانے والے احساس محرومی اور  اس علاقے کی حساسیت کے بارے میں بھی آگاہ کیا جائے ۔ گلگت بلتستان کے لوگوں نے متنازعہ علاقے کے باسی ہونے کے باوجود استحکام پاکستان میں اپنے خون سے حصہ ڈالا ہوا ہے اگر یقین نہیں آتا تو گلگت بلتستان میں قبرستانوں کا دورہ کریں وہاں کے ہر قبرستان میں آپ کو سبز ہلالی پرچم لہراتا نظر آئے گا۔وہاں کے لوگ ابھی تک علیحدگی کے بجائے الحاق پاکستان کی تحریک چلا رہے ہیں گلگت بلتستان اسمبلی بھی کئی قرار دادایں منظور ہو چکی ہیں۔اب اگر بعض نوجوانوں کے تیور بدل رہے ہیں تو اس میں انہی ناعاقبت اندیش بیورو کریٹس کی جانب سے بنیادی حقوق کی بات کرنے والے نوجوانوں کو فور شیڈول میں ڈالنے جیسے  نامناسب رویے ہیں ۔ آج کا نوجوان باشعور ہے اور وہ سوال کرتا ہےکہ اگر گلگت بلتستان متنازعہ ہے تو آزاد کشمیر اورمقبوضہ کشمیر کی طرح غیر مقامی افراد کی وہاں پر زمین خریدنے پر پابندی کیوں نہیں ؟آج کا نوجوان پوچھتا ہے کہ اگر گلگت بلتستان متنازعہ ہے تو لوکل اٹھارٹی کیوں قائم نہیں کی جاتی ؟ ۔ حکومت اور سپریم کورٹ کی طرف سے گلگت بلتستان کو متنازعہ قرار دینے کے باوجود گلگت بلتستان کا کوئی نوجوان سی پیک منصوبے کی مخالفت نہیں کرتا ہے لیکن وہ اتنا سوال  ضرور پوچھتا ہے کہ اس منصوبے سے گلگت بلتستان میں کتنے صعنتی زون بنیں گے تاکہ وہاں کے لوگوں کا بھی بھلا ہو؟ گلگت بلتستان کے دور دارز  علاقوں کی سٹرکوں کو سی پیک سے منسلک کیوں نہیں کیا جاتا ہے ؟ لہذا ان سوالات پر ناراض ہونے کی بجائے ان کو استحکام پاکستان کی جانب قدم سمجھیں اور ان پر غور کریں۔سوال کرنے سے روکنے کا عندیہ دینے کے بجائے سوال اٹھانے والوں کو گلے سے لگائیں کیونکہ سوال اٹھانے سے روکنا انتہائی خطرناک اقدام ہوگا ۔مبادا کل آپ کو  یہ کہنا پڑے کہ ان کی شکایت درست ہیں مگر لہجہ درست نہیں ۔ اس لئے دفتر خارجہ کے سطح پر گلگت بلتستان میں موجود خامیوں کی نشاندہی کو استحکام پاکستان کا موجب سمجھنے میں ہی دانشمندی اور عقلمندی پنہاں ہے۔ غلط بیانی سے اپنی عاقبت خبر کرنے کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہو سکتا ہے گورنر شاہ فرمان بننے کے بجائے تھوڑی سی اپنی عاقبت کی بھی فکر کریں تو بہتر ہے۔

 

 

 

نوٹ: یہ خیالات لکھاری کے اپنے ہیں ریڈیونیوز نیٹ ورک کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ 



تبصرہ کریں