جمعرات ۲۲ اکتوبر۲۰۲۰

مشکوک ٹرانزیکشن ریفرنس: آصف علی زرداری کی عبوری ضمانت میں توسیع

جمعہ, ۱۶   اکتوبر ۲۰۲۰ | ۱۱:۱۹ صبح

اسلام آباد بائی کورٹ نے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف 8 ارب روپے سے زائد کی مشکوک ٹرانزیکشن ریفرنس میں عبوری ضمانت میں 5 نومبر تک توسیع کردی۔

ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے ٹرانزیکشن کیس میں آصف زرداری کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ آصف علی زرداری کی جانب سے فاروق ایچ نائیک اور جاوید اقبال ایڈووکیٹ جبکہ نیب کی پراسیکوشن ٹیم بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ دوران سماعت وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہم نے آصف علی زرداری کی حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر بیٹھتے ہیں تو کھڑا نہیں ہوا جاتا۔جس پر نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرنے کہا کہ مذکورہ کیس میں درخواست گزار کی موجودگی ضروری ہے۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا ریفرنس دائر ہو چکا یا ابھی انویسٹی گیشن چل رہی ہے۔ پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ مذکورہ کیس میں ابھی انویسٹی گیشن چل رہی ہے اور جب کیس انکوائری اسٹیج پر تھا تو وارنٹ جاری نہیں کیے گئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ آصف علی زرداری کے خلاف خاطر خواہ مواد اکٹھا کیا جا چکا ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سابق صدر پہلے ہی ضمانت پر ہیں اور قومی احتساب بیورو (نیب) نے 4 ریفرنسز دائر کیے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2 ریفرنسز میں چیف جسٹس نے ضمانت منظور کی ہے۔ جس پر جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کی کیا صورتحال ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ آصف علی زرداری کل تک ہسپتال میں زیر علاج تھے آج کی اَپ ڈیٹ نہیں ہے۔ عدالت نے آصف علی زرداری کی آج کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے عبوری ضمانت میں 5 نومبر تک توسیع کردی۔ علاوہ ازیں عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو وارنٹ گرفتاری کی کاپی آصف علی زرداری کے وکیل کو دینے کی بھی ہدایت کی۔ واضح رہے کہ نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں 8 ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن سے متعلق ضمنی ریفرنس میں شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔ اس حوالے سے جاری ایک اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری پر دستخط کردیے۔

تبصرہ کریں