بدھ ۰۳ مارچ۲۰۲۱

پاکستان کا بھارت کی جانب سے دوبارہ سرجیکل سٹرائیک کے خدشے کا اظہار

جمعہ, ۱۸   دسمبر ۲۰۲۰ | ۱۱:۰۷ شام

فدا حسین: پاکستان نے بھارت کی جانب سے دوبارہ سرجیکل سٹرائیک کے خدشے کا اظہار اظہار کرنے ہوئے بھرپورا جواب دینے کے عزم کا اطہار کیا۔

اسلام آباد میں جمعہ کے روز ہفتہ وار نیوز بریفنگ دیتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے بتایا ہے بھارت کے اس ممکنہ غیر ذمہ دارنہ حرکت سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ ترجمان نے عالمی سے بھارت کو اس طرح کی حرکتوں سے باز رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس سے پہلے یہ بات پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں پریس کانفرنس میں کی۔

 

                      ترجمان نے گلگت بلتستان کے علاقوں میں موجود سرحدی علاقے خاص طور پر کرگل لداخ کے منقسم کے خاندانوں کے افراد کو ایک دوسرے سے ملنے کے طریقہ کار کی عدم موجودگی کی وجوہات کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اس کی تفصیلات تحریری طور پر فراہم کریں تو اس تو جواب دیا جائے گا۔

 

                              یاد رہے کہ رواں مہینے کے شروع میں بھارت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے سے ایل او سی عبور کر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں داخل ہونے والی دو خواتین کو اگلے روز پونچھ سیکڑ سے کراسنگ پوانٹ پر پاکستان کے حوالے کیا تھا دوسری طرف رواں سال ستمبر میں لداخ سے گلگت بلتستان علاقے ضلع گانچھے میں دریا شیوک میں بہ کر پہنچنے والی لاش گانچھے سے واپس بھیجنے کے بجائے 14 سو کلومیٹر کے راستے سے واپس بھیجنے پڑی تھی۔ برطانوی خبررساں ادارے انڈیپنڈٹ اردو کے مطابق اس کی وجہ بھارتی فوج کی تھنگ اور پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان کے آخری گاؤں فرانو کو منقسم کرنے والی خاردار تار کو کاٹنے سے انکارتھی۔ برطانونیہ کے دوسرے مشہور خبررساں ادارے بی بی سی اردو کے مطابق تھنگ اور فرانو کے مسافت محض 10 کلومیٹر ہے جبکہ انڈیپنڈٹ اردو کے مطابق یہ فاصلہ 7 کلومیٹر ہے۔ 

 

                             بھارت کے زیر انتظام علاقوں کرگل لداخ اور پاکستان کے علاقے کھرمنگ اور گانچھے کے گاؤں چھوربٹ میں منقسم خاندانوں کی کہانیاں وقتا فوقتا سامنے آتی رہتی ہیں۔ اس وقت ڈاکٹر محمد مشتاق نامی ایک ٹویٹر صاف نے سکردو کے علاقے منٹھل سے لداخ میں اپنی ماں سے ملنے کے لئے جانے کی خاتون کی کہانی شیئر کرتے ہوئے لکھا اس خاتوں کو4 ہزار کلومیٹر کا سفر کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ زیبا خاتون کے گھر سکردو منٹھل سے لداخ کے درمیان مسافت محض 150 کلومیٹر ہے اس کے ساتھ انہوں نے کرگل اور لداخ کو کرتاپور کی طرح کھولنے کی بھی تجویز دی ہے۔

 

                             پاکستان اور بھارت کے علاقوں میں رہنے والے منقسم خاندانوں کے افراد طویل عرصے سے دونوں ملکوں کے حکومتوں کو انہیں اپنے عزیز و اقاریب سے ملنے کے لئے پالیساں واضع کرنے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں جس میں شدت لداخ کی خیرالنسا کی لاش دریاے شیوک سے پاکستان پہنچنے پر آئی تھی اس وقت لوگوں کا مطالبہ تھا اس لاش کو براستہ فرانو واپس کر جائے تو لواحقین کی ذہنی ازیت میں کمی ہوگی اس مطالبے کے باوجود اس طرف توجہ نہیں دی گئی۔ مقامی لوگ کہتے رہے ہیں متنازعہ علاقہ ہونے کے باوجود پونچھ، راولاکوٹ اور مظفر آباد سرینگر بس سروس اور تجارت ہو سکتی ہے تو کرگل اور لداخ کے منقسم خاندانوں کے افراد کو ان کے عزیز و اقاریب سے ملنے کیوں نہیں دیا جاتا ہے۔ یہ سوال کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پونچھ، راولاکوٹ اور مظفر آباد سرینگر کے نسبت کرگل اور لداخ پرامن علاقے ہیں اس لئے یہاں یہ سہولت دینے میں کون سی قباحت ہے۔ 

 

                              زاہد حفیظ چوہدری نے پاکستانی وفد کا دورہ اسرائیل کی خبر کو مکمل بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئےتردید کی۔ 

 

                                         سانحہ آرمی پبلک پشاور سانحے والے دن افغان طالبان وفد کا پاکستان کے دورے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے سے دہشت گردی کے لئے کوشاں ہے طالبان وفد کا دورہ اسلام آباد اس سلسلے کی کڑی ہے لہذ اس کو سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور سے جوڑنا سمجھ سے بالاتر ہے۔   

تبصرہ کریں