بدھ ۰۳ مارچ۲۰۲۱

شیخ رشید اور مولانا فضل الرحمان آمنے سامنے

ہفتہ, ۰۲   جنوری ۲۰۲۱ | ۰۶:۳۱ شام

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور جمیعت علما اسلام ف کے رہنما مولانا فضل الرحمان کے ممکنہ اور مبینہ فوج مخالف بیان کے معاملے پر آمنے سامنے آگئے ہیں۔

دونوں رہنماؤں کے درمیاں کے یہ لفظی جنگ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے طرف سے فوج کے خلاف بیان دینے خلاف مقدمہ درج کرنے کے اعلان کی بعد شروع ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے شیخ رشید کو مقدمہ درج کرنے کے صورت وزارت ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔

 

                 شیخ رشید نے راولپنڈی میں میڈیا کے نمائندؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے خلاف بیان دینے کی صورت 72 گھنٹوں کے اندار مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اگرچہ شیخ رشید سے منسوب بیان میں مقدمہ درج زییبا الفاظ کے استعمال پر ہوگا تاہم یہ وضاحت نہیں ہے کہ زیبا الفاظ سے شیخ رشید کی مراد کیا ہے۔اس حوالے سے لاہور مولانا فضل الرحمان کی توجہ شیخ رشید کے اس بیان کی طرف دلائی گئی تو انہوں نے شیخ رشید کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وزیر داخلہ نے ایسی حرکت تو ان وزارت نہیں رہے گی۔ 

 

                       اس وقت ملک میں پاکستان ڈیموکیٹ موومنٹ کا سے نام جاری اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ تحریک میں وزیر اعظم عمران کو سلیکٹٹد کہہ کر فوج پر تنقید کی جاتی ہے۔ تاہم فوج کئی بار اس الزام کو مسترد کر چکی ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف بھی فوج پر سخت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں مولانا فضل الرحمان اور ان دیگر سربراہ خاص طور پر مفتی کفایت اللہ پر بھی فوج مخالف بیان دینے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے سلیکٹڈ کی اصطلاح پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے شروع کیا تھی۔ جو کہ بلواسطہ فوج پر تنقید سمجھی جاتی ہے۔ ان سب جماعتوں کا اصرار کہ 2018 انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے تاہم قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس مبینہ دھاندلی کے حوالے کسی بھی سیاسی جماعت نے ابھی تک عدالتوں کا باضبطہ پر رخ نہیں کیا جس طرح تحریک انصاف 2013 کے انتخابات کے حوالے سے عدالت گئی تھی۔

 

             پی ڈیم ایم حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی آئی ہے یہ جماعتیں اس مطالبے کو عوامی مطالبہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں جبکہ وزیررستان کے دو منتخب ارکیں جس میں علی وزیر اور محسن داوڑ شامل ہیں دونوں کو ان  تحریکوں سے دور رکھا گیا ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سابق رہنما افرا سیاب خٹک ان دو ممبروں کے باہر رکھنے کی وجہ مولانا فضل الرحمان کی ذاتی مخاصمت کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ افرا سیاب خٹک یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ علی وزیر اور محسن داوڑ کے مطالبات عوامی ہیں۔ 

 

                       دوسری حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں عوامی مفاد کے لئے نہیں بلکہ اپنے کرپشن بچانے کے لئے حکومت کو گرانا چاہتی ہیں۔ اس لئے شیخ رشید نے فوج پر تنقید کرنے والوں پر مقدمہ درج کرنے کا اعلان کر کے پی ٹیم ایم میں شامل لوگوں کو ڈرانے کی کوشش کی ہے تاہم مولانا فضل الرحمان نے سخت ردعمل دے کر شیخ رشید کو ایسی حرکتوں سے باز رہنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔  

تبصرہ کریں