بدھ ۱۶ جون۲۰۲۱

شاہ محمود قریشی کا افریقی ممالک کے ساتھ سفارتی کاری میں سست روی کا اعتراف

بدھ, ۰۶   جنوری ۲۰۲۱ | ۰۵:۵۰ شام

فدا حسین: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افریقی ممالک کے ساتھ سفارتی کاری میں سست روی کا اعتراف کرتے ہوئے تعلقات بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

 دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے اس عزم کا اظہار اسلام آباد میں"انگیج افریقہ پالیسی" کے تحت منعقدہ معاشی سفارت کاری کے تیسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افریقہ 1.3 ارب آبادی اور 54 ممالک پر مشتمل اہم براعظم ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے نومبر 2019 میں ہم نے وزیر اعظم عمران خان کے وژن کی روشنی میں وزارتِ تجارت کی معاونت کے ساتھ وزارت خارجہ میں پہلی انگیج افریقہ کانفرنس منعقد کی۔

 

                     اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہا کہ اس مقصد کے لئے کل اسلام آباد میں تعینات افریقی سفراء کو وزارتِ خارجہ میں مدعو کیا ہے تاکہ ان کی آراء سے مستفید ہو کر انگیج افریقہ پالیسی کو مزید مربوط، فعال اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے ۔ اجلاس میں افریقہ میں قائم چودہ پاکستانی سفارت خانوں کے سربراہان /سفراء کی ورچول شرکت,اجلاس میں شریک، افریقہ میں تعینات پاکستانی سفراء میں ابوجا، ادیسا عبا، الجائر ،نیروبی، ٹرائی پولی، پورٹ لوئس، رباط، پری ٹوریا، نیامے، خرطوم، دارالسلام، داکر، ہرارے، اور تیونس کے سفراء شریک ہوئے اس موقع پر افریقی ممالک میں تعینات پاکستانی سفراء نے معاشی سفارت کاری کے تحت وزارت خارجہ کی طرف سے طے کردہ اہداف کے حصول کیلئے کی جانے والی کاوشوں سے وزیر خارجہ کو آگاہ کیا گیا۔ وزیرخارجہ نے دو طرفہ تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشی سفارت کاری محض درآمدات اور برآمدات کی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک کثیر الجہتی اور جامع عمل ہے جس میں ہماری تجارت کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری، خدمات، سیاحت، ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور دیگر شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کا فروغ بھی شامل ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے روایتی سفارت کاری کو معاشی سفارت کاری سے ہم آہنگ کیا ہے۔

 

                      شاہ محمود قریشی نے افریقی ممالک میں پاکستان کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کافی عرصے سے امن کی بحالی کیلئے اقوام متحدہ پیس کیپنگ آپریشنز میں فعال اور نمایاں کردار ادا کرتا آ رہا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان نے افریقی ممالک کی بیرونی تسلط سے نجات کی جدوجہد (Decolonization) میں ان کی معاونت بھی کی۔ شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا معاشی سفارت کاری کے فروغ اور پاکستان کے نقطہ ء نظر اور بیانیے کی ترویج کیلئے وزارت خارجہ میں اسٹریٹیجک کمیونیکیشن ڈویژن کا قیام عمل میں لایا گیا ہےانہوں نے معاشی سفارت کاری کے حوالے سے دیے گئے اہداف پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے وزارت خارجہ کے افسران کی حوصلہ افزائی کیلئے اعزازات کی سفارش کرنے کا بھی اعلان کیا۔ 

تبصرہ کریں