جمعہ ۲۲ جنوری۲۰۲۱

اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج

بدھ, ۰۶   جنوری ۲۰۲۱ | ۰۷:۳۴ شام

فدا حسین: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے تاہم ہراحتجاج کے مقاصد الگ الگ بتائے جاتے ہیں۔

 وفاقی دارالحکومت اسلام آباد معروف کاروباری علاقے بلیو ایریا میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے چند دن پہلے کوئٹہ دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہونے ہزارہ برادری کے لواحقین سے اظہار ہمدری اور ان کے مطالبات کے حق احتجاج کر رہے ہیں تو دوسری طرف اسلام آباد معروف شاہرہ سری نگر ہائی جو اس سے پہلے کشمیر ہائی وے کے نام سے معروف تھا بیرونی ممالک سے پڑھ کر آنے والے ڈاکٹروں احتجاج ہو رہا ہے وہاں پر پولیس اور مظاہریں کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ دوسری طرف آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفر آباد اساتزہ اپنے مطالبات کے احجاج کر رہے ہیں۔ 

 

        وائس آف امریکہ کے مطابق صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں کم ازکم اٹھارہ مقامات پر احتجاجی دھرنے جاری ہیں۔ کراچی میں جاری یہ دھرنے3 جنوری کو صوبہ بلوچستان کےعلاقے مچھ میں ہزارہ برداری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کے قتل کے بعد ان کے لواحقین کے مطالبات کے حق میں دیئے جا رہے ہیں ۔

 

                 ان سب دھرنوں مرکز کوئٹہ ہے جہاں پر ان کان کنوں کے لواحقین اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے سامنے والے اطلاعات کے مطابق مقتولین کے ورثا وزیر اعظم عمران خان سے وہاں احتجاجی کمپ میں آکر ان کی حفاظت کی یقین دہانی کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے دیگر مطالبات میں بلوچستان حکومت کا خاتمہ اور اس واقعے کی تحقیقات کے لئے بااختیار کمیشن کا قیام ہے ۔ لواحقین نے اپنے ان مطالبات کو سننے اور ان پر عمل درآمد کی یقین دہانی کے لئے وزیر اعظم عمران کو اس احتجاجی کمیپ میں آنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور وزیر اعظم کی آمد سے پہلے لاشوں کو دفنانے سے انکار ہیں۔ انہیں وزیر اعظم کی آمد سے پہلے لاشوں کو دفنانے اور احتجاجی دھرنے ختم کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال اور وفاقی وزراء اور معاؤنین ان سے مذکرات کر چکے ہیں مگر وہ لوگ وزیر اعظم کی آمد سے پہلے دھرنا ختم کرنے لاشوں کو دفنانے سے انکاری ہیں۔

 

                اسلام آباد میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت المسلمین گلگت بلتستان کے جنرل سیکریڑی آغا علی رضوی وزیر اعظم سے فوری طور پر ان کے پاس جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے واقع کی ذمہ داری داعش پر عائد کرتے ہوئے افواج پاکستان کے خلاف آپریشن کرنے کا مطالبہ کیا۔  اس خطاب کے بعد ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے آغا علی رضوی نے کہا ہے کہ انہوں نے حکومت سے اتحاد اپنے تحفظ کے لئے کیا ہے اگر انہیں تحفظ نہ ملا تو اقتدار چھوڑ بھی سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ اتحادی ہونے کا یہ ہرگز مطب نہیں خاموش رہیں۔ انہوں نے پی ڈی ایم کی قیادت پر بھی تنقید کی۔ 

 

                                                                                یاد رہے کہ مجلس وحدت المسلمین اس گلگت بلتستان میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی اتحادی ہے۔ اقتدار میں آنے سے پہلے ہزارہ برادری کے قتل اور اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھنے والے گمشدہ افراد کی رہائی کے لئے ملک گیر دھرنے اوراحتجاج کرتی رہی ہے۔ 

تبصرہ کریں