اتوار ۰۵ دسمبر۲۰۲۱

انسٹیٹوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد کا گلگت بلتستان کے صحافیوں کو آئندہ اجلاسوں اور سمینار میں مدعو کرنے کا اعلان

جمعہ, ۰۸   جنوری ۲۰۲۱ | ۱۱:۱۲ شام

انسٹیٹوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد کے ڈائکریٹر ڈاکٹر طلعت شبیر نے گلگت بلتستان صحافیوں خاص طور پر جرنلسٹ فورم کے ممبران کو آئندہ اجلاسوں اور سمینار میں موعو کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان انہوں نے اسلام آباد میں کام کرنے والے گلگت بلتستان کے صحافیوں کی شکایت کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسٹیٹوٹ کے ڈائکریٹر نے کہا کہ آئندہ ہر سیشن میں فورم کے ممبران کو مدعو کیا جائے گا۔ اور جلد ایک علیحدہ سیشن کا انعقاد بھی ہوگا۔

 

                                جمعہ کے روز انسٹیٹوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے زیر اہتمام گلگت پریس کلب سے آئے 15 رکنی وفد کے لیے سی پیک اور مختلف شعبوں میں تحقیق کے حوالے سے ایک انٹرایکٹیو سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ سیشن میں جی بی جرنلسٹ فورم کی نائب صدر شاہین صفدر، غلام الدین [جی ڈی] اور صحافی فداحسین نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ کالم نگار عامرحسین نہال اور فہمیدہ برچہ بھی شریک تھیں۔

 

                              انسٹیٹوٹ کے ڈائکریٹر ڈاکٹر طلعت شبیر اور ریسرچ فیلو نیلم نے شرکا کو انسٹیٹوٹ کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کیا اور سی پیک کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ سیشن کے شرکا نے گلگت بلتستان میں ترقیاتی منصوبوں اور سی پیک فیز ٹو پر اپنے آرا کا اظہار کیا اور سوالات پوچھے۔ گلگت بلتستان کے صحافیوں اس موقع پر چائنا پاکستان اقتصادی راہداری سے گلگت بلتستان کو اس حق کے مطابق فائدہ نہ دینے پر کڑی تنقید بھی کی اور ساتھ گلگت بلتستان کے صحافیوں کو موعو کرنے پر ادارہ شکریہ بھی ادا کیا۔

 

                               ادارے کے سربراہ نے گلگت بلتستان کے صحافیوں کے اٹھائے گئے سوالات کو جائز قرار دیتے ہوئے حکومت وقت کو انہیں صحیح معنوں میں فائدہ پہنچانے کا مشورہ بھی دیا۔ ڈاکٹر طلعت کا مزید کہنا تھا سی پیک سے پاکستان کے پالیسی سازوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے محنت کرنی چاہے۔ تاہم انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیاں تجارت میں موجود عدم توزان کے حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔ ڈاکٹر طلعت نے صحافیوں کو لوگوں میں مایوسی پھیلانے کے بجائے امید دکھانے کا مشورہ دیا جس پر ان سے پوچھا گیا کہ ماضی میں ڈرائی پورٹ خنجراب سے حویلیاں منتقل ہونے کی خبر آتی رہی، گلگت سکردو روڈ انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے سی پیک منصوبے کے تحت شاہرہ قراقرم کی توسیع تک نہیں ہوئی ایسے میں وہ کونسی چیز ہوگی جس سے لوگوں کو امید دلایا جائے تو انہوں نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ تاہم انہوں نے ان معاملات پر گفتگو کرنے کے لئے آئندہ گلگت بلتستان کے صحافیوں کے ساتھ الگ سیشن رکھنے عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے مسائل کی نشاندہی ہونے  سے حل ہونے میں مدد ملے گی۔ ڈاکٹر طلعت نے احساس محرومی جیسے الفاظ پر بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ 

 

ریسرچ فیلو نیلم نے گلگت سی پیک حوالے سے گلگت بلتستان کی حکومتوں کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  اس معاملے پر کوئی تحقیقات کرنا چاہیں تو مطلوبہ معلومات بھی فراہم نہیں کی جاتی۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں کئی ای میل کئے ہیں مگر جواب کہیں سے بھی نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگر ریسرچ کرنے والے معلومات فراہم کی جائیں بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

 

                                وفد میں شامل صحافیوں کی طرف سے انسٹیٹوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے شاخ گلگت بلتستان میں بھی قائم کرنے کا مشورہ دیا تاکہ وہاں کے لوگوں کے جذبات اور ضروریات کے بارئے میں بروقت آگاہ مل سکے۔ جس پر صحافیوں کو بتایا گیا کہ انسٹیٹوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کام کر رہے ہیں جن میں سے نیلم ہیں جن کا فوکس ایریا ہی گلگت بلتستان ہے جس پر شرکاء کی طرف سے تالیاں بجا کر خیرمقدم کیا گیا۔

تبصرہ کریں