منگل ۲۲ اکتوبر۲۰۱۹

دو سوسے زائد ایف ایم ریڈیوزکا مستقبل خطرے میں پڑ گیا

پیر, ۰۷   اکتوبر ۲۰۱۹ | ۱۲:۱۷ شام

پاکستان الیکڑانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی کی پالیسوں اور اقدامات کے باعث ملک بھر میں ضلعی سطح سے زاہد ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کے بند ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

پاکستان الیکڑانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سے دس سال کی مدت کے لیے جاری کردہ ریڈیو لائسنسوں کی تجدیدی فیس متعلقہ ضلع میں لائسنس کی آخری منعقد شدہ کامیاب بولی کی رقم مقرر اور طلب کی گئی۔ ریڈیو سٹیشنوں نے لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان الیکڑانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی کے اقدامات کو چیلنج کیا اور فیصلہ ان کے حق میں ہو گیا۔تاہم پاکستان الیکڑانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی کی اپیل پر ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے تمام ریڈیو سٹیشنوں سے تجدیدی لائسنس فیس وصول کرنے کے لیے پاکستان الیکڑانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی کو اجازت دے دی۔ جس کے نتیجے میں اب پاکستان الیکڑانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی ریڈیو سٹیشنوں سے دس سالہ تجدیدکے لیے کامیاب بولی کی رقم کے برابر فیس وصول کر سکے گی۔سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ آنا ابھی باقی ہے تاہم مقامی سطح پر عوام کی آواز اور مسائل کو اجاگر کرنے والے سینکڑوں ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ جب کہ پاکستان الیکڑانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی کی نااہلی اور بے اختیاری کے باعث بڑی تعداد میںبلا لائسنس ایف ایم سٹیشنو ں نے  پہلے ہی مارکیٹ میں مقابلے اور بزنس کی فضا کو مکدرکر رکھا ہے۔ سپریم کورٹ نے ایسے ہی آئی ایس پی ار اور شالیمار ریکارڈنگ کمپنی زیر انتظام بظاہر سرکاری ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کی کاروباری سرگرمیوں کے خلاف دائر درخواست پر کسی قسم کی سماعت نہیں کی ۔ مرحومہ عاصمہ جہانگیر کے ذریعے پی بی اے کی دائر درخواست میں آئی ایس پی آر اور ایس آرسی  70 سے زائد ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کوپاکستان الیکڑانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی کے لائسنس کے بغیر کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینے کو چیلنج کیا تھا۔ایسے غیر قانونی ریڈیو سٹیشنوں کے باعث پاکستان الیکڑانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی کے لائسنس یافتہ ریڈیو سٹیشنوں کو ایک غیر صحت مندانہ اور غیر ہموار کاروباری مقابلے کا سامناہے۔ جب کہ ریڈیو سٹیشنوں میں کاروباری  مقابلے کو صحت مندانہ اور منصفانہ بنانا پاکستان الیکڑانک میڈیاریگولر اتھاڑی کی قانونی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ان ذمہ داریوں کو پورا کیے بغیر پاکستان الیکڑانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سے دس سال سے زائد عرصہ سے کام کرنے والے ریڈیو سٹیشنوںپر تجدیدی لائسنس کے لیئے بھاری اور کامیاب بولی کے برابر فیس کا تقاضہ ملک میں آزاد ریڈیو سٹیشنوںاور عوام کی آوازوں کو بند کرنے کے مترادف ہے۔ پاکستان الیکڑانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی کو چاہیے کہ تجدیدی لائسنس فیس کا تعین کرتے وقت دس سال کے دوران لائسنس یافتہ ریڈیو سٹیشنوں کی طرف سے کی گئی سرمایہ کاری اور ان کے مثبت معاشرتی کردار کے ساتھ ساتھ ان کی سالانہ آمدن کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ ہماری عدالتیں بھی تجدیدی لائسنس فیس کے نام پر آزاد اور جمہوری سوچ کی پرورش کرنے والے ریڈیو سٹیشنوں کو تحفظ دینے کی پابند ہیں۔ اگر ہمارے آئینی اداروں نے بر وقت اور درست فیصلے نہ کیے تو ضلعی سطح پر قائم کردہ ریڈیو سٹیشنوںکا حال بھی ضلعی حکومتوں جیسا ہو گا جنہیں انتخابی عمل ہونے کے باوجود ابھی وسائل اور اختیار نہیں دیے جا سکے۔ مقامی ریڈیو سٹیشن بنیادی سطح پر جمہوریت اور جمہوری عمل کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مگر اس کے باوجود بھی پاکستان الیکڑانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی نے ابھی تک مفاد عامہ کے تحت ایسے ریڈیو سٹیشنوں کا اجرا ہی نہیں کیا جو کہ عوام کی معاشرتی اور ثقافتی حقوق کا بلا منافع  تحفظ کریں۔ پاکستان الیکڑانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی کے قانون میں اسے غیر منافع بخش ریڈیو سٹیشنوں کے لائسنسوں کے اجرا کا اختیار بھی دیا گیا ہے تاہم پیسے کی لالچ میں ایسے لائسنسوں سے متعلق آج تک کوئی پالیسی وضع نہیں کی گئی دوسری طرف ان ریڈیو سٹیشنوں کی کھلے عام بولیاں لگا کر اربو ں روپے اکھٹے کیے گئے اور ساتھ ہی سینکڑوں کی تعداد میں سرکاری یا فوج کے زیر انتظام ریڈیو سٹیشنوں کے ذریعے میڈیا کی صنعت اور اس کاروبار کی تباہی کا خاموشی سے تماشہ دیکھا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان الیکڑانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی حکومتی اداروں کو ریڈیو سٹیشن لگانے سے نہیں روک سکتی اگر یہی صورت حال رہی جس میں نجی سرمایہ کاری کو حکومت کے ماتحت اداروں کے ساتھ کاروباری مطابقت کرنا پڑ رہی ہے تو پھر اس ملک میں سرمایہ کون لگائے گا۔ اور ملک کی معیشت میں بہتری کیسے آئے گی۔ امید ہے عدالت عظمی ایف ایم ریڈیو سٹیشنو ں کے تجدیدی لائسنس فیس لے حوالے سے اپنے فیصلے میں  پاکستان الیکڑانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی کو مذکورہ قانونی ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہونے کا پابند بنائے گی اور آئی ایس پی آر کے زیرکنٹرول بلا لائسنس ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کے خلاف مرحومہ عاصمہ جہانگیر کی درخواست کا فیصلہ بھی جلد کرے گی۔ مقابلہ سیاست کے میدان میں ہو یا کاروبار کے محاذ پر طاقت ور اداروں کو سرکار کے وسائل استعمال کرنے کی اجازت دینا ملک کی سیاست اور معیشت دونوں کے لیے زہر قاتل ہے۔

تبصرہ کریں