بدھ ۰۳ مارچ۲۰۲۱

جمہوریت، سرکاری محصولات اور عوام

منگل, ۰۷   مئی ۲۰۱۹ | ۰۱:۴۵ شام

ریاض مسن

موجودہ ٹیکس نظام استعماری دور کی پالیسی کا تسلسل ہے جو حق حکمرانی تو اشرافیہ کو دیتی ہے  لیکن محصولات کا سارا بوجھ عوام پر ڈال دیتی ہے۔عالمی بنک نے  حال ہی میں دعوی کیا ہے کہ پاکستان  اپنے  محصولات میں دگنا  اضافہ کرسکتا ہے  اور اس کے لیے اسے حالیہ  ٹیکسوں کی  تعداد اور شرح میں اضافے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔  اسکے "  ریونیو موبالائزیشن پراجیکٹ"  کے مطابق اگر پاکستان کا محصولاتی ادارہ  پچھتر فیصد قابل ٹیکس افراد اور اداروں تک رسائی کرلے تو  ٹیکس اور قومی آمدنی  کی شرح 26 فیصد ہوجائے گی جو کہ اس وقت13 فیصد ہے۔  عالمی بنک  کے اس ڈیڑھ ارب  ڈالر  لاگت کے منصوبے پر وفاقی محصولاتی ادارے، ایف بی آر،  نے عملدرآمد کرنا ہے  اور اس کے لیے اسے اپنے سٹاف کی بھرتیوں کے معیار اور ان کی صلاحیت میں بہتری کے علاوہ  مختلف شعبہ جات (کسٹمز اور ان لینڈ ریونیو) کا ادغام بھی کرنا پڑے گا۔ ممکنہ  ٹیکس دہندہ کی شناخت کے لیے نہ صرف  نئے آلات اور  مشینری درکار ہوگی بلکہ  ٹیکس ادائیگی کے طریقہ کار کو بھی سادہ اور آسان بنانا پڑے گا۔ عالمی بنک  اس لاگت میں سے چار سو ملین ڈالر ادا کریگا جبکہ باقی رقم حکومت پاکستان  دے گی۔ پچھلی حکومت نے کچھ صنعتوں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ کے خاتمے اور  انتظامی اصلاحات کی وجہ سے محصولات کی شرح میں چار فیصد اضافہ  کیا تھا۔  2010 کے این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی محصولات میں صوبوں کا  ساڑھے ستاون فیصد مقرر کیا گیا ہے  جبکہ جائداد، زرعی آمدن اور خدمات پرٹیکس صوبوں کا خصوصی حق قرار دیا گیا ہے لیکن  وہ اس حوالے سے  قومی آمدن کا صرف ایک اعشاریہ دو فیصد جمع کرپا تے ہیں۔   زراعت سے صوبے کل محصولات کا اعشاریہ ایک فیصد جمع کر پاتے ہیں حالانکہ زراعت کا قومی آمدنی میں حصہ بیس فیصد ہے۔  بارہ ایکڑ سے کم کے مالک  زمیندار ٹیکس سے مستشنی ہیں،  پیچیس ایکڑ تک والے فی ایکڑ  ایک سو جبکہ اس سے اوپر والے زمیندار تین سو روپے فی ایکڑ کے حساب سے ادا کرتے ہیں۔  چونکہ نوے فیصد  زمیندار ساڑھے بارہ ایکڑ سے کم کے مالک ہیں،  اس شعبے سے حاصل ہونے والے محصولات کل محصولات کا  صرف اعشاریہ ایک فیصد ہیں۔  کمرشل جائیدادیں  کل قومی پیداوار کا  اعشاریہ صفر  چار جبکہ خدمات اعشاریہ چھ فیصد اداکرتی ہیں۔  انکم ٹیکس اور انڈسٹری کو  دی جانیوالی چھوٹ کل آمدنی کا 1.3  سے 1.5 فیصد بنتی ہے۔ سماجی شعبہ اور دیگر اخراجات کے لیے انکا زیادہ انحصار وفا قی محصولات پر ہی ہے۔  یوں وفاقی محصولات میں کمی کا اثر بالاخر تعلیم، صحت اور صفائی پر اخراجات کی صورت میں نکلتا ہے۔ مجموعی طور پر موجودہ ٹیکس نظام استعماری دور کی پالیسی  کا تسلسل ہے جو   حق حکمرانی  تو اشرافیہ کو دیتی ہے لیکن محصولات کا سارا بوجھ عوام پر  ڈال دیتی ہے۔  اس کا واضح ثبوت  سرکاری محصولات کا  لازمی اشیاء صرف(کچن مصنوعات ) پر انحصار ہے جن سے نہ صرف سمگلنگ کو شہ ملتی ہے بلکہ  مارکیٹ میں غیر معیاری اشیا کی بھر مار بھی ہوجاتی ہے۔  جائز صنعتوں  کی آمدنی کم ہوگی تو ظاہر ہے اس کا اثر محصولات پر پڑیگا اور  محصولاتی ادارہ عوام پر ٹیکس لگانے کا کوئی اور راستہ ڈھونڈ  نکالے گا۔ آج جمہوری دور میں بھی محصولاتی نظام سے منسلک یہ روایت جاری ہے۔ جمہوری نظام میں صارف، یا عوام بادشاہ  ہوتے ہیں۔ منتخب حکومتوں کو خیال کرنا پڑتا ہے کہ وہ ایسی ٹیکس پالیسی سے گریز کرے جس سے صارفین کی قوت خرید متاثر ہو۔  جمہوری نظام حکومت میں  کاروبار کو ضرور فروغ دیا جاتا ہے لیکن اس کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔   علاقائی تجارت  کو فروغ دیا جاتا ہے  جس سے نہ صرف  انڈسٹری کو مشینری اور خام مال  سستے داموں مہیا ہوتا ہے  بلکہ ہمسایہ ملکوں سے بوقت ضرورت  سستی لیکن معیاری اشیائے ضرورت  بھی صارفین کو میسر ہو جاتی ہیں۔  محصولات کا راستہ الگ نکلتا ہے۔ دیکھنا  یہ کہ مجوزہ ٹیکس اصلاحات جن پر اتنی خطیر رقم صرف ہورہی ہے  اس سے  متوقع نتائج حاصل ہوپاتے ہیں یا نہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اصلاح شدہ نظام ٹیکس  جمہوریت کی روح سے کتنا ہم آہنگ ثابت ہوتا ہے۔  

 

  نوٹ: یہ خیالات لکھاری کے اپنے ہیں ریڈیونیوز نیٹ ورک کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ 

تبصرہ کریں