بدھ ۰۳ مارچ۲۰۲۱

روزے کے جسمانی فوائد

بدھ, ۰۸   مئی ۲۰۱۹ | ۰۲:۱۴ شام

مریم عبید

روزہ دین اسلام کا تیسرا رکن ہے ۔شرعی اصطلاح میں عبادت کی نیت سے بوقت طلوع  فجرسے غروب آفتاب تک اپنے آپ کو کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے باز رکھنے کا نام روزہ ہے۔ روزہ رکھنے سے روحانی تسکین کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جسے دنیا بھر کے طبی ماہرین اور جدید سائنس نے ہزاروں کلینیکل ٹرائلز سے تسلیم کیا ہے .کچھ عرصہ قبل یہی خیال کیا جاتا تھا کہ روزہ کے طبی فوائد نظام ہضم تک ہی محدود ہیں لیکن جیسے جیسے سائنس اور علم طب نے ترقی کی دیگر بدن انسانی پر اس کے فوائد سےآشکار ہوتے چلے گئے اورمحقق اس بات پر متفق ہوئے کہ روزہ تو ایک طبی معجزہ ہے ۔اس کے علاوہ روزے سے معدے کی رطوبتوں میں توازن آتا ہے جبکہ عام حالت میں بھوک کے دوران یہ رطوبتیں زیادہ مقدار میں خارج ہوتی ہیں جس سے معدے کی تیزابیت بڑھ جاتی ہے ۔روزوں کے جسم پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر خون کے روغنی مادوں میں ہونے والی تبدیلیاں ہیں خصوصا دل کے لیے مفید چکنائی  ایچ ڈی ایل  کی سطح میں تبدیلی بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے دل اور شریانوں کو تحفظ ملتا ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رمضان المبارک ہمیں غذائی بے اعتدالیوں  پر قابو پانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے ۔دن میں روزے کے دوران خون کی مقدار کم ہو جاتی ہے یہ اثر دل کو انتہائی فائدہ مندآرام مہیا کرتا ہے ،سب سے اہم بات یہ ہے کہ روزےکے دوران بڑھا ہوا خون کا دباوہمیشہ کم سطح پر ہوتا ہے ،شریانوں کی کمزوری کی اہم وجوہات میں سے ایک وجہ خون میں باقی ماندہ مادے کا پوری طرح تحلیل نہ ہو سکنا ہے،جبکہ دوسری طرف بطورخاص افطار کے وقت خون میں موجود غذائیت کے تمام ذرے تحلیل ہو چکے ہوتے ہیں اس طرح خون کی شریانوں کی دیواروں پر چربی یا دیگر اجزا جم نہیں پاتے جس کے نتیجے میں شریانیں سکڑنے سے محفوظ رہتی ہیں ۔چنانچہ موجودہ دور کی انتہائی خطرناک بیماری شریانوں کی دیواروں کی سختی سے بچنے کی بہترین تدبیر روزہ ہی ہے یاد ہے کہ دوران رمضان چکنائی والی چیزوں کاکژت سے استعمال ان فواہد کو مفتود کر سکتا ہے۔ اسلام نے روزے کو مومن کے لیے شفا قرار دیا ہے اور جب سائنس نے اس پر تحقیق کی تو سائنسی ترقی چونک اٹھی اور اقرار کیا کہ اسلام ایک کامل مذہب ہے ۔اسلام نے اپنے ماننے والوں کو اتنا عظیم فارمولا دیا ہے ۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مور پالڈا کہتے ہیں کہ  اگراسلام اپنے ماننے والوں  کو اور کچھ  نہ دیتا صرف روزے کافارمولا ہی دیتا تو پھر بھی اس سے بڑھ کران کے پاس کوئی نعمت نہ ہوتی۔۔۔۔۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مندرجہ بالا فواہد تبھی ممکن ہو سکتے ہیں جب ہم سحروافطارمیں سادہ غذاکا استعمال کریں خصوصاافطاری کے وقت  جب زیادہ مرغن تلی ہوئی اشیاکا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے جس سے روزے کا روحانی مقصد تو فوت ہوتا ہی ہےخوراک کی اس بے اعتدالی سے جسمانی طور پر ہونے والے فواہدبھی مفتود بلکہ معدہ مزید خراب ہو جاتا ہے لہذا  افطاری میں دستر خوان پر دنیا جہان کی چیزیں اکٹھی کرنے کی بجائے افطار کسی پھل ،کھجوراور سادہ غذا سے کی جائےاور پھر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کھا لیا جائے،اس طرح معدے پر بوجھ نہیں پڑے گا ۔اس احتیاطی تدبیر پرعمل درآمد سےیقینا ہم روزے کے جسمانی وروحانی فواہد حاصل کر سکتے ہیں۔  

تبصرہ کریں