جمعرات ۰۹ جولائی۲۰۲۰

زیادہ تر بچوں میں کورونا کی شدت زیادہ نہیں ہوتی، تحقیق

پیر, ۲۹   جون ۲۰۲۰ | ۰۱:۰۱ شام

نئے کورونا وائرس کی روک تھام میں تو اب تک کچھ خاص کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے مگر ایک اچھی خبر آخرکار ماہرین طب نے سناتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ بچے بڑی حد تک کووڈ 19 کے بدترین اثرات سے محفوظ رہتے ہیں۔

طبی جریدے دی لانسیٹ چائلڈ اینڈ ایدولینٹ ہیلتھ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 کے شکار ایک فیصد سے بھی کم بچے اس بیماری کے نتیجے میں انتقال کرتے ہیں اور بڑی تعداد کو آئی ی یو کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس کے مقابلے میں کووڈ 19 سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں بالغ افراد کی اموات کی شرح (ابتدائی ڈیٹا کے مطابق) 10 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ اس تحقیق میں 21 یورپی ممالک میں 600 کے قریب ایسے بچوں کو دیکھا گیا جن میں کووڈ 19 کی تصدیق ہوئی تھی۔ ان بچوں کی عمریں 3 دن سے لے کر 18 سال کے درمیان تھیں جبکہ 75 فیصد کے قریب بچوں میں پہلے سے کوئی بیماری نہیں تھی۔ محققین نے دریافت کیا کہ 50 فیصد سے زیادہ بچوں کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا مگر صرف 8 فیصد کو آئی سی یو کی ضرورت پڑی جبکہ صرف 4 اس بیماری کے نتیجے میں چل بسے، اموات کی شرح 0.69 فیصد رہی۔ تحقیق کے مطابق مجموعی طور پر بچوں میں کووڈ 19 سے اموات کی شرح اس سے بھی کم ہوسکتی ہے کیونکہ زیادہ تر بچوں کو طبی امداد کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر تحقیق میں شامل 16 فیصد بچوں میں کووڈ 19 کی علامات ظہار نہیں ہوئیں اور ان کے ٹیسٹ بھی کسی اور متاثرہ فرد کے قریب ہونے کی وجہ سے ہوئے۔ محققین نے دریافت کیا کہ ایک ماہ کے بچوں کو زیادہ عمر کے بچوں کے مقابلے میں آئی سی یو کی ضرورت زیادہ ہوسکتی ہے، تاہم جن 4 بچوں کا انتقال ہوا ان کی عمریں 10 سال سے زائد تھیں۔ ان میں سے بھی 2 بچے پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا تھے جو پہلے ہی کووڈ 19 کی شدت بڑحانے والا عنصر قرار دیا جاتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ کسی اور وائرس کا انفیکشن جیسے انفلوائنزا یا کسی اور قسم کا کورونا وائرس بچوں میں اس بیماری کی شدت بڑھانے کا باعث نظر آتا ہے، ہوسکتا ہے کہ رواں سال یا اگلے سال موسم سرما میں اس نئے وائرس کا دیگر وائرسز سے امتزاج بچوں پر زیادہ اثرات مرتب کرے۔ اس سے قبل رواں ماہ برطانوی سائنسدانوں نے کہا کہ بچوں کو ممکنہ طور پر کورونا وائرس سے تحفظ اس لیے مل رہا ہے کیونکہ وہ متعدد بار عام نزلہ زکام کا شکار ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ بچوں میں اس وائرس کے خلاف مزاحمت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ ان کا مدافعتی نظام پہلے ہی عام نزلہ زکام سے نمٹنے کے لیے تیار رہتا ہے۔

تبصرہ کریں