ہفتہ ۲۴ اگست۲۰۱۹

والد سے آخری ملاقات اور شباب کی ناراضگی

جمعہ, ۱۷   مئی ۲۰۱۹ | ۰۶:۱۹ شام

تحریر: فدا حسین

والدین انسان کا ایسا سرمایہ ہے جس کی موجودگی میں ان کی قدر کا احساس کم ہی لوگوں کو ہوتا ہے مگر جب یہ سرمایہ  چھین جائے تو ایسا لگتا جیسے کسی نے  پاؤں کے نچے سے زمین کھنچ لی ہے ۔ اگر یہ سرمایہ آپ سے بچپن میں چھین جائے تو اس وقت اتنا احساس نہیں ہوتا مگر جوں جوں وقت گزرتا ہے انسان کو والدین  کے نہ ہونے کا احساس شدت سے محسوس ہونے  کے ساتھ  یتیمی کے دکھ  کی سمجھ آتی ہے۔ خاص طور پر جب کوئی یتیم اپنے سامنے کسی دوسرے بچے کو والدین کی جانب سے پیار کرتا ہوا دیکھتا ہے تو وہ دل ہی دل میں یہ ضرور سوچتا ہے اگر میرے بھی والدین ہوتے تو مجھے بھی ایسا ہی پیار کرتے اور ایسے ہی میرے بھی لاڈ اٹھاتے۔ یتیمی کی ایک انتہائی تکلیف دہ بات یہ بھی ہے پھر انسان پر جوانی کیا لڑکپن کا بھی پتہ نہیں ہوتا ہے گویا اس سے یہ دونوں ہی روٹھ جاتےہیں ۔ کچھ ایسی ہی صورت حال سے میں بھی گزرا ہوں اور گزر رہا ہوں آج سے ٹھیک 24سال پہلے 17مئی 1995کو بدھ کا دن تھا اس گاؤں میں بکریوں کی ریوڑھ چرانے کی باری ہماری تھی اور والد صاحب کا نام اس وقت کے چیرمین حاجی محمد علی (حاجی تلی) اللہ انہیں صحت و تندرستی دے نے بیت المال میں شامل کیا تھا اس کے بعد انہیں کارڈ  لینے کے لئے خپلو جانا تھا سو انہوں نے وہ بکریوں کے ریوڑھ میرے حوالے کرکے خود خپلو چلے گے ۔ ویسے عمومی طور پر گاؤں میں ضروری کام درپیش ہونے پر ریوڑھ چرانے کی باری کا ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ بھی ہوتا تھا، اس لئے شائد میرے والد نے بھی ضرور سوچا ہوگا اس دن کوئی اور یہ ریوڑھ چرانے کی باری لے مگر اس دن شاہی پولو گرونڈ خپلو میں جشن گانچھے کا فائنل میچ تھا اس لئے ان کے پاس وہ ریوڑھ میرے حوالے کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہ آیا ، مگر میرا بھی دل مچل گیا تو میں نے بھی ان بکریوں کے ریوڑھ کو میدان میں چھوڑ کر پولو گڑونڈ پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ میں اس وقت  ساتوں جماعت کا طالب علم تھا۔ اس میدان سے خپلو تک کیسے گیا کچھ خاص یاد نہیں شائد کوئی ٹریکٹر میسر آیا تھا مگر آج سوچتا ہوں تویہ بات شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ شائد قدرت نے مجھے والد سے آخری ملاقات کے لئے وہاں بلایا تھا ۔اس لئے پولو گراونڈ جاتے ہوئے آنکھ میں کوئی چیز لگ گئی جس سےآنکھ میں  تکلیف کی وجہ سےگراونڈ  میں زیادہ دیر بیٹھنا مشکل ہو گیا اور دل ہی دل میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ وہاں  ریوڑھ کو کھلے میدان چھوڑ آیا ہوں اور اگر وہ لوگوں کی کھیتوں میں چلا گیا تو پھر شامت آئے گی ۔یہ سوچ کر میں وہاں سے واپس آیا تو  بازار میں  والد صاحب سے سامنا ہوا۔بجھے دیکھتے ہی انہوں نے فورا ریوڑھ سے متعلق سوال کیا میری خاموشی یا چہرے کے تاثرات دیکھتے ہی انہیں یقین ہو گیا کہ میں  اس ریوڑھ کو کھلے میدان میں چھوڑ آیا ہوں ۔تب انہوں نے فورا واپس جا کر ریوڑھ کو سنبھالنے کی ہدایت کی اور میں واپس آگیا۔واپس جانے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں غصہ کے ساتھ افسوس بھی تھا۔ یہ ہماری اخری ملاقات تھی کیونکہ وہاں سے جانے کے بعد میرے والد حادثے کا شکار ہو گئے ۔حاجی تلی بتاتے ہیں کہ جب انہیں گاڑی سے گرنے کے بعد ہسپتال پہنچایا جا رہا تھا تو انہوں نے ہشاس بشاس ہونے کے باوجود کہا تھا کہ میرے بیٹے کو سلام پہنچا دینا کیونکہ مین  بچ نہیں پاؤں گا اور وہ مجھے یتیم بنا کر ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے۔ آج جب آنکھیں بند کرکے اس وقت کو یاد کرتا ہوں تو دل میں یہ گماں سا ہونے لگتا ہے کہ شائد والد سے اس اخری ملاقات میں انہوں نے مجھے انتہائی حسرت بھری نگاہ سے دیکھا ہوگا کیونکہ شائد ان کو پتہ چل گیا تھا  یا شائد کہیں سے کوئی اشارہ مل گیا ہو گا کہ آج کے بعد وہ اپنے بچے کو کبھی بھی دیکھ اور  ڈانٹ نہیں سکیں گے اور شائد یہ بھی سوچا ہو گا کہ آج کے بعد انکے بچے کی حالت کیا ہوگی ؟کیا اس کو کوئی پیار سے گلے  لگانے والا ملے گا؟ بچپن میں ہی والدہ کے انتقال کے بعد میرے والد نے مجھے ماں اور باپ دونوں بن کر پالا اور صرف میری خاطر کبھی دوسری شادی نہیں کی کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں سوتیلی ماں میرے بیٹے پر ظلم نہ کرے۔ ان کی میری تعلیم کے بارئے میں فکر کا عالم یہ تھا کہ وہ خود کہا کرتے تھے اگر مجھے تمہاری پڑھائی کے لئے اپنی ایک ٹانگ فروخت کرنی پڑے تو بھی فروخت کر دوں گا ۔ اس تمنا نے ان کو قبر میں بھی ستایا ہوگا لہذا اس نے وہاں پر بھی  اللہ کے حضور اسی طرح روتے بلکتے ہوئے کہا ہو گا کہ مالک تو میرے بچے کو علم کی دولت سے مالا مال فرما تاکہ اسے صحیح اور غلط کے درمیاں پہنچان ہونے کے ساتھ وہ اپنی زندگی کو باوقار طریقے سے گزار سکے۔ میں اپنا وہ بچپنا ہرگز نہیں بھولتا جب شب عاشورہ کو مسجد میں علم و تعزیے برآمد ہوتے تو وہ مجھے اپنی گود میں اٹھائے یوں بلک بلک کرروتے تھے جیسے بچے اپنے والدیں سے کسی چیز کے لئے ضد کرتے ہوئے روتے ہیں میں باپ کے گود میں حیران ان کو دیکھتا رہتا کہ میرا باپ کیوں رو رہے ہیں۔ نہیں معلوم وہ اس دوران اللہ سے رو رو کر میرے لیا کیا کیا مانگ لیا کرتے تھے۔ باظاہر غصیلا نظر آنے والے میرے باپ کا رب تعالیٰ پر ایمان ایسا کہ وہ جس  یقین سے ساتھ میرے لیے دعا کرتے تھے اس کو یاد کرنا بھی میرے لئے سرمایہ سے کم نہیں ہوگا جب کبھی بیمار پڑھ جاتا قرآن پاک کی بعض سورتیں اور مسنون دعائیں پڑھ کر دم کیا تو بیماری ایسی غائب کہ کبھی بیمار ہی نہ ہوا ہو ۔آج اس شفقت پدری کی عدم موجودگی میں بھی تن و تنہا ہر قسم کے موسم کے تھپڑوں سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ رکھتا ہوں تو یہ یقینا ان شب عاشور میں بلکتے ہوئے مانگی ہوئی دعاؤں کا ہی نتیجہ ہی ہے ۔ بظاہر اپنا نام تک نہ لکھ سکنے والا میرا والد میرا ایسا رہنما تھا کہ اس نے علم کے موتی ایسے میرے اندار ڈال دیئے جیسے ایک پرندہ اپنے بچہ کو دانا کھلاتا ہے جب میں ان کو سکول میں ہونے والے معلومات عامہ کے مقابلوں کا ذکر کرتا تو مجھے کچھ ایسی باتیں بتاتے جو اگلے دن یا اگلے ہفتے میں پیش کرنے کے بعد میری جیت یقینی تھی۔ والد کے گزر جانےکے بعد ان جیسا  پیار تو کبھی نصیب نہیں ہوا مگر دو دفعہ کسی نے سینے سے لگایا تھا ایک مرتبہ میرے چیچا مرحوم اورایک مرتبہ  پھوپھی مرحومہ نے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔ اس کے بعد سے زمانے کے تھپڑوں کی زد میں ایسا آیا  کہ کبھی شباب کے آنے کا پتہ نہ چل سکا اور یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ والد سے آخری ملاقات کے بعد شباب روٹھ گیا  کیونکہ  اوئل عمری میں ہی فکر معاش ستانے لگی اسی فکر معاش میں سکول چھوڑنا چاہا تو میرے چچا جنہیں اللہ تعالیٰ جنت نصب کرئے ایسے حملہ آور ہوئے کہ دوبارہ سکول چھوڑ کر مزدوری کے لئے جانے کی ہمیت نہیں ہوئی مگر چھٹی کے دنوں میں مزدوری جاری رہی ۔مگر رب تعالیٰ کا شکر مزدوری چلنے کے ساتھ تعلیم کا سلسلہ کہیں بھی جا کر مکمل رک نہیں گیا اگرچہ اس کوشش کی رفتار حد درجہ سست رہا ۔ مزدوری کے لئے بجری اتارنے اور پتھر لوڈ، ان لوڈ کرنے سے لے کر غیر ملکی سیاحوں کے لئے مال برداری تک سب کچھ کرنا پڑا مگر یہ سب مشکلات اپنی جگہ مگر اس مسبب الاسباب نے یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کرنے لئے راہیں یوں ہموار کی کہ بظاہر ہرقسم کی سہولت رکھنے والے دنگ بھی رہ گئے اور داد بھی دی ۔اب میں قلم کا مزدور یعنی صحافی ہوں۔ اور اب  قلم کا مزدور بننے کے بعد بعض اواقات شکستہ دل کے ساتھ یہ سوچتا ہوں کہ کاش کوئی اور کام کر لیتا تو شائد اس سے اچھی مزدوری ملتی ۔ساتھ میں یہ خیال بھی آتا ہے کہ اپنے والد کی باوقار زندگی گزارنے کی خواہش نے شائد ہمیں قلم کا ہی مزدور بنایا ہوگا کہ کیونکہ اس رب کائنات نے اس قلم اور اسی قلم سے لکھے جانے والے الفاظ کی قسم کھا رکھی ہے ۔ اب رب تعالیٰ نے دو پھول جیسے بچے ایک بیٹی اور بیٹا  بھی عطا کئے ہیں تو رب تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ پرور دگار  مجھے صحت کے ساتھ اتنی زندگی ضرور عطا کرنا کہ میں ان پھولوں کی آبیاری کر سکوں اور اللہ یتیمی کا دکھ کسی کو نہ دیکھائے(آمین) ۔۔۔۔۔۔

تبصرہ کریں