جمعہ ۲۲ جنوری۲۰۲۱

نمک کی زیادتی امنیاتی نظام کے لیے نقصاندہ ہوسکتی ہے:تحقیق

ہفتہ, ۱۱   اپریل ۲۰۲۰ | ۰۷:۳۳ شام

نمک کا اندھا دھند استعمال نہ صرف بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے بلکہ امراضِ قلب کی وجہ بھی بن رہا ہے۔ اب معلوم ہوا کہ نمک کا زائد استعمال قدرتی دفاعی یعنی امنیاتی نظام کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔

تجربات طور پر چوہوں کو جب بلند مقدار میں نمک دیا گیا تو وہ بیکٹیریا کے انفیکشن کے زیادہ شکار ہوئے اور ان کا امنیاتی نظام بگڑا ہوا دیکھا گیا۔  یہ تحقیق جرمنی کے بون یونیورسٹی ہسپتال میں ہوئی ہے۔ اسی طرح جن انسانی رضاکاروں کو روزانہ چھ گرام کے قریب نمک کھلایا گیا ان کے امنیاتی نظام میں بھی کمزوریاں نوٹ کی گئی ہیں۔ اس کی تحقیقات جرنل سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن میں شائع ہوئی ہے۔ عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق  روزانہ پانچ گرام نمک بھی صحت کے بہت مضر ہے جو چائے کے ایک چمچے کے برابر مقدار ہے۔ لیکن جرمنی کے باشندے اس سے زیادہ نمک کھاتے ہیں جن میں مرد دس گرام اور خواتین آٹھ گرام روزانہ نمک کھاتی ہیں۔  اس تحقیق سے وابستہ کرسٹیان کرٹس کہتی ہیں کہ اگرچہ اس سے قبل متضاد نتائج بھی ملے ہیں مثلاً جلد کے انفیکشن میں زیادہ نمک خوری مفید ثابت ہوئی اور جلد بہتر ہوئی لیکن ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ یہ دعویٰ درست نہیں کیونکہ نمک کی بلند مقدار پہلے گردوں کو متاثر کرتی ہے۔ جس سے بدن میں گلوکو کارٹی کوئیڈز بڑھتے ہیں جو عام امنیاتی خلیات کو شدید متاثر کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔

تبصرہ کریں