پیر ۱۶ ستمبر۲۰۱۹

اشفاق احمد کی 94ویں سالگرہ

جمعرات, ۲۲   اگست ۲۰۱۹ | ۰۵:۱۰ شام
Loading the player ...

مریم عبید:پاکستان کے نامور افسانہ نگار، ڈرامہ نویس ، ناول نگار، ادیب ،سفر نامہ نگار ،براڈ کاسٹر اشفاق احمد کی 94ویں سالگرہ آج منائی جا رہی ہے۔

اشفاق احمد خان بھارت کے شہر ہوشیار پور کے ایک چھوٹے سے گائوں میں ڈاکٹر محمد خان کے گھر 22اگست 1925 کو پیدا ہوئے ۔آپکی پیدائش کے بعد اُن کے والد ڈاکٹر محمد خان کا تبادلہ خان پور سے فیرز پور ہو گیا۔آپ نےاپنی تعلیمی زندگی کا آغاز فیروز پور سے ہی کیا اور بی اے کا امتحان بھی فیروز پور کے ایک کالج سے امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔قیام پاکستان کے بعد آپ اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آگئے۔پاکستان آنے کے بعد انہوں نے گورنمٹ کالج لاہور سے اردو ادب میں ماسٹرزکیا ۔ گورنمٹ کالج لاہورمیں ایم اے کے دوران بانو قدسیہ آپ کی ہم جماعت تھی ۔ذہنی ہم آہنگی کی وجہ سے آپ نے قدسیہ بانو سے شادی کا فیصلہ کر لیا۔آپ 1967 میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہو گیا ۔آپ 1989 تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ آپ صدر جنرل ضیاءالحق کے دور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گئے۔ اشفاق احمد کا شمار سعادت حسن منٹو اور کرشن چندر کے بعد ادبی افق پر نمایاں رہنے والے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے ۔ آپ نے 1953میں اپنے ایک مشہور افسانے ”گدڑیا“ سے غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ا ردو زبان اور پنجابی جملوں کو ادبی تناظر کے جس قالب میں اشفاق احمد نے ڈھالا اس کی مثال نہیں ملتی،ایک محبت سو افسانے،من چلے کا سودا،سفر در سفر،اجلے پھول،کھیل کہانی،توتا کہانی اور دیگر ان کی معروف تصانیف ہیں۔ستر کی دھائی میں آپ نے ریڈیو پاکستان لاہور پر ایک ہفتہ وار فیچر پروگرام تلقین شاہ کے نام سے کرنا شروع کیا جو اپنی مخصوص طرز مزاح اور دومعنی گفتگو کے باعث مقبول عام ہوا اور تیس سال سے زیادہ چلتا رہا۔ستر کی دہائی کے شروع میں اشفاق احمد نے معاشرتی اور رومانی موضوعات پرایک محبت سو افسانے کے نام سے ایک ڈرامہ سیریز لکھی اور اسی کی دھائی میں آپ کی سیریز توتا کہانی  اور تیرے من چلے کا سودہ نشر ہوئی۔آپ کو کہانی لکھنے پر جتنا عبور تھا اسی طرح آپ بہترین قصہ گو بھی تھے جس کی مثال آپ کے  پروگرام زاویہ میں نوجوانوں کی بھرپور تعداد میں شرکت اور آپ کے گھر پر منعقدہ محفلیں ہیں جن میں ہر عمر اور ادب کا متوالا اپنی شرکت کو باعث فخر سمجھتا تھا۔آپ کوحکومت پاکستان کی طرف سے  پرائڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز کے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔اردو ادب کے عظیم افسانہ نگار2004 میں  جگر کی رسولی کی وجہ سے 79 برس کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔         

تبصرہ کریں