پیر ۱۶ ستمبر۲۰۱۹

احمد فراز کی گیارھویں برسی کل منائی جائے گی۔

ہفتہ, ۲۴   اگست ۲۰۱۹ | ۱۱:۱۷ صبح
Loading the player ...

احمد فراز کو اپنے مداحوں سے بچھڑے گیارہ برس بیت گئے۔ تفصیلی رپورٹ عائشہ آصف سے سنئے

پاکستان کے معروف شاعر احمد فراز 12 جنوری 1931 کو کوہاٹ میں پید اہوئے۔ان کا اصل نام سیداحمدشاہ تھا ۔احمد فراز نے اردوادب اورفارسی میں ماسٹرزکیا ۔ایڈورڈ کالج میں تعلیم کے دوران ریڈیو پر فیچرلکھنےشروع کیے۔جب ان کا پہلا  شعری مجموعہ شائع ہوا تب وہ بی۔اے میں تھے۔ تعلیم کی بعد ریڈیو سےعلیحدہ ہوگئےاور یونیورسٹی میں لیکچرر شپ اختیار کر لی۔اسی ملازمت کے دوران ان کا دوسرا مجموعہ درد آشوب جس کو پاکستان رائٹر گلڈ کی جانب سےآدمجی ادبی ایوارڈعطاکیاگیا۔یونیورسٹی کی ملازمت کے بعد پاکستان نیشنل سنٹر پشاورکے ڈائیریکٹرمقررہوئے۔انہیں 1976 میں اکادمی ادبیات پاکستان کا پہلا سربراہ بنایا گیا۔ بعد ازاں جنرل ضیا کے دور میں انہیں جلا وطنی اختیار  کرنی پڑی۔1989۔1990 چیئرمین اکیڈمی پاکستان،1991۔1993 تک لوک ورثہ اور 1993۔2006 تک نیشنل بک فاونڈیشن  کی سربراہ رہے۔احمد فرازنے متعددممالک کے دورے کیے۔ان کا کلام علی گڑہ یونیورسٹی اور پشاور یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے۔ جامعہ ملیہ بھارت میں ان پر پی ایچ ڈ ی کا مقالہ لکھا گیا جس کا موضوع  احمد فراز کی غزل ہےاور پاکستا ن کی مختلف جامعات میں بھی احمدفراز کے فن اور شخصیت کے حوالے سے پی ایچ ڈی کےمتعددمقالے تحریر ہو چکے ہیں۔ان کی شاعری کے انگریزی، فرانسیسی،ہندی،روسی،جرمن اور پنجابی میں تراجم ہو چکے ہیں۔احمد فراز کے کلام کوپاکستان کے نامور  گلوکاروں نے گایا جن میں مہدی حسن خان صاحب اور میڈم نورجہاں جیسے مشہورنام شامل ہیں۔احمد فراز کےمشہورمجموعہ کلام میں تنہا تنہا، شب خون میرے خواب ریزہ ریزہ،جاناں جاناں ،سب آوازیں میری ہیں،بےآوازگلی کوچوں میں،نابینا شہر میں آئنہ شامل ہیں۔احمد فراز کو آدم جی ادبی ایوارڈاوراباسین ایوارڈسے نوازا گیا۔بھارت میں انہوں نے فراق گورکھ پوری ایوارڈ اور ٹاٹا ایوارڈ  حاصل کیا۔اکیڈمی آف اردو لٹریچر کینڈا نےانہیں ایوارڈ دیا اورحکومت پاکستان کی جانب سےہلال امتیازسے بھی نوازی گیا۔احمد فراز 2008میں 77 برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملےلیکن 11 برس بیت جانےکےبعدبھی وہ اپنے کلام کے ذریعے سے آج بھی لوگوں کے دلوں پرراج کررہے ہیں۔  

تبصرہ کریں