بدھ ۰۵ اگست۲۰۲۰

ضلع استور میں خیموں میں قیام پذیر لوگ امدار کے منتظر

ہفتہ, ۱۸   جنوری ۲۰۲۰ | ۰۴:۰۰ شام

گلگت بلتستان کے علاقے ضلع استوار میں مکانات زلزلے اور برفانی تودے کی زد میں آنے کے وجہ سے خمیوں میں رہنے پر مجبورلوگ امداد کے منتظر ہیں۔

یہ صورتحال مقامی صحافی سبحان سھیل نے پاؤر 99 کے ہفتہ وار پروگرام جو جی بی میں گفتگو کرتے ہوئے بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ  حالیہ برف باری اور زلزلے کے متاثریں جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان خیموں میں رہنے والوں نے ان سخت موسمی حالات سے بچنے کے لئے حکومتِ گلگت بلتستان، مخیر حضرات اور غیر سرکاری تنظموں سے امداد کی اپیل ہے۔  اس حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کا نے حکومت اپنی وسائل کے مطابق کام کر رہی ہے تاہم اس حوالے انہیں وفاقی حوکمت کا تعاؤں درکار ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان نے وفاقی حکومت سے استوار سمیت گلگت بلتستان کے تمام علاقوں کے لئے خصوصی پیکچ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک وفاقی تعاؤن نہیں کرے گا اس وقت گلگت بلتستان نہ تو قدرتی آفات سے متاثرہ لوگوں کی بحالی ہو سکتی اور نہ ہی ترقیاتی کام ۔ انہوں نے نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران کی خان سے گلگت بلتستان میں ہونے والے حالیہ نقصانات کے حوالے سے کوئی بیان تک جاری نہیں کیا ہے جو افسوسناک اور گلگت بلتستان کے بلتستان کے لوگوں کو درپیش مسائل کے حوالے ان کی کوئی دلچسپی نہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور سے متاثر علاقوں فوری طور پر دورہ کرے نقصانات کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔انہوں اس حوالے سے گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال مقپون پر متاثرہ علاقوں کی مسائل وفاقی حکومت تک نہ پہنچانے کا الزام عائد کرتے سخت تنقید کی۔ وزیر اعلیٰ کا متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے رہنما سجدہ صداقت نے کہا وزیراعلیٰ نے مقامی سیاسی رہنماؤں کی ان کے خلاف پریس کانفرنس کرنے کے بعد متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ورنہ انہیں ان علاقوں کے مسائل کے بارئے کوئی احساس نہیں تھا۔ ساجدہ صداقت نے بھی مخیر حضرات اورغیر سرکاری تنظمیوں اور انسانی حقوق کے تنظموں سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں تک فوری امداد پہنچانے کی اپیل کی۔   پروگرام جوجی مکمل سننے اوردیکھنے کے لئے اس لنک پر لک کیجے۔

https://www.youtube.com/watch?v=3fISFTPiAtI 

 



تبصرہ کریں