بدھ ۰۳ مارچ۲۰۲۱

کسی کو آئی ایس آئی ایجنٹ کا طعنہ تو کوئی اپنے مہاجرین ساتھوں کی رہنمائی کے لئے پر عزم

بدھ, ۱۹   فروری ۲۰۲۰ | ۰۶:۲۸ شام

فدا حسین: سید سعید ہاشمی پاکستان اس وقت آئے جب سویت یونین کے خلاف ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی تھی لیکن سویت یونین کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو افغانوں کی کثیر تعداد نے دوسروں ملکوں کی طرف ہجرت شروع کی تاکہ وہ اپنے بھال بچوں کو محفوظ رکھ سکیں۔ان ملکوں میں سے ایک پاکستان بھی ہے کیونکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہ رست لمبی سرحد ہونے کی وجہ سے پاکستان آنے والے افغان پناہ گزنیوں کی تعداد سب سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

 اس ہجرت کو 40سال مکمل ہونے پر پاکستان نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یواین ایچ سی آر کے تعاؤن سے بین الاقوامی مہاجرین کانفرنس بلائی جس میں اقوام متحدہ کے سیکریڑی جنرل انتونیو گوتریس،اقوام متحدہ کے کمشنر برائے مہاجرین فلپو گرینڈی، ترکی، ایران ،جاپان اور افغان حکومتی نمائندوں کے علاوہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق کانفرنس میں شرکت کرنے والے لوگوں کی تعداد 500سے زائد تھی ۔ان لوگوں میں سے سویت یونین جنگ سے پہلے پاکستان آنے والے سیدسعید ہاشمی اور مہاجرین کمیپ میں ہی آنکھ کھولنے والی صفیہ ابراہیم خیل بھی شامل تھیں۔ لمبے قد ، سفید لمبی داڑھی اور سفید پگڑی پہنے کانفرنس میں شریک سعید ہاشمی کا ریڈیو نیوز نیٹ ورک سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اب وہ افغانستان کی بجائے پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے بقول افغانستان میں ابھی حالات ساز گار نہیں تاہم حالات ساز گار ہو بھی جائیں تب بھی انہوں نے مستقل طور پر واپس جانے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔ وہ یہاں پر قیام کے دوران پاکستانیوں کے حسن سلوک سے متاثر بھی نظر آئے اس لئے انہوں نے پاکستان کو مکہ اور مدینہ کے بعد سب سے زیادہ مقدس مقام قرار دیا ۔سعید ہاشمی بتاتے ہیں کہ وہ اس عرصے میں افغانستان آتے اور جاتے رہے رہیں وہاں جانے اور آنے کے تجربات بیان کرتے ہوئے سعید ہاشمی کا کہنا تھا کہ افغان پولیس اب انہیں مہاجر نہیں بلکہ آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دیتی ہے ۔ مہاجر کیمپ میں پیدا ہونے والی صفیہ ابراہیم خیل ریڈیو نیوز نیٹ ورک سے گفتگو میں مہاجر یوتھ کی نمائندگی کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ پاکستان نے ان کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا ہے انہیں یہاں تعلیم حاصل کرنے سمیت ہر قسم کی سرگرمیوں کی آزادی دی گئی ان کے خیال میں دونوں ملکوں کو ماضی کے تلخ تجربات کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہیے۔ صفیہ ابراہیم خیل اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جب وہ مہاجرین کمیپ سے نکل کے جب کالج پہنچییں تو ان کے کلاس فیلوز کو یقین نہیں آتا تھا کہ وہ مہاجر کیمپ میں رہتی ہیں آہستہ آہستہ انہوں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ انہوں نے صرف گھر چھوڑا ہے مگر ان میں میں ٹیلنٹ اتنا ہی ہے جتنا کسی اور سٹوڈنٹ میں ۔ صفیہ کے بقول ان کے پاکستاتی دوست ہی افغان مہاجرین کی آواز ہیں اور اپنے ملک میں مہاجرین کی مثبت ساکھ کو اجاگر کرتے ہیں اور اسی طرح صفیہ اپنی کمیونٹی میں اپنے میزبان (پاکستان) کی نمائند ہ بن کر پاکستان  کی مثبت ساکھ کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہیں یہ ایک دو طرفہ عمل ہے ۔ دونوں ممالک عوام کے درمیاں ایسے روابط کے علاوہ دونوں  سائیڈز کے ارباب اختیار کے درمیاں باہمی اعتماد سازی کے لئے ٹھوس اقدامات کے بغیر امن اور استحکام آنا ممکن نہیں ہے۔افغانستان کا دورہ کر کے آنے والے بعض پاکستانیوں کے مطابق ان کو افغانستان میں اپنی شناخت ہی چھپانا پڑتی ہے تاہم سابق سفارت کار تسنیم اسلم اس تاثر کو درست نہیں سمجھتیں، ان کے مطابق یہ بعض لوگوں کی دونوں ملکوں کے تعلقات خراب رکھنے کی انفرادی کوشش ہے ۔ سعید ہاشمی بین الاقوامی برادری سے پاکستان کی مدد کرنے کی بھی اپیل کرتے ہیں وہ وزیر اعظم عمران خان کی اس وزیزہ پالیسی کی تعریف کرتے ہیں جس میں پاکستان میں پیدا ہونے والے افغان مہاجرین کو شہریت دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔صفیہ ابراہیم خیل کے مطابق پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کا سب سے بڑا مسئلہ ان کے اندارج کا ہے جس کی وجہ سے انہیں تعلیم حاصل کرنے سمیت روزمرہ زندگی کے مختلف مراحل پر پرمشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ افغان پناہ گزنیوں کی اپنے وطن واپسی کے حوالے سے یواین ایچ سی آر کے ترجمان قیصر آفریدی کے مطابق افغان حکومت مہاجریں کو دوبارہ سنبھالنے کے  قابل نہیں ہوئی ہے۔اس لئے انہوں نے ان مہاجرین کو فوری واپس نہ بھیجنے کا مشورہ دیا ہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے ان مہاجرین کی باعزت واپسی کے لئے طریقہ کار وضع کرنے اور وسائل فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شامل ہو کر پاکستان کی حوصلہ افزائی کی ہے، اورمہاجرین کو سنبھالنے کے پاکستانی کوششوں کا اعتراف کیا ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہونا چاہیے ۔وزیر خارجہ نے اس کانفرنس سے پاکستان کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا کے زائل ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ تاہم انہوں نے پاکستان سے افغان مہاجرین کی اپنے وطن واپسی کے لئے کوئی ٹائم فریم دینے سے انکار کیا ۔اس سے پہلے شاہ محمود قریشی نے کانفرنس کے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی سے پہلے کانفرنس میں افغانستان کے لئے ایک امن معاہدہ کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

 



تبصرہ کریں