بدھ ۰۳ مارچ۲۰۲۱

بچوں میں اہلیت اور قابلیت بڑھانے کے والدین کی تربیت کے موضوع پر ٹریننگ

منگل, ۲۵   فروری ۲۰۲۰ | ۰۶:۰۶ شام

پلوشہ اقبال:وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بچوں میں میں اہلیت اور قابلیت بڑھانے کے لئے والدین کی تربیت کے موضوع پر منعقدہ ٹریننگ کے ماہرین نے بچوں میں اہلیت اور قابلت بڑھانے کے لئے حمل سے لیکر آٹھ سال کی عمر تک توجہ دینے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لئے ضروری کے والدین میں اس حوالے سے مکمل آگاہی ہو۔ منتظمین کے مطابق ٹریننگ کا مقصد والدین کو یہ باور کرانا ہے کہ روز مرہ کی مصروفیات میں سے تھوڑا سا وقت نکال کے بچوں کے ساتھ بات چیت کرنا ضروری ہے۔

یہ ٹریننگ پاکستان ا لائنس فار ارلی  چائلڈ ہوڈاور اقوام متحدہ کے ادارہ (یونیسف) کے تعاون سے اسلام آباد میں جاری ہے ۔یہ ٹریننگ 27 فروری تک جاری رہے گی۔اس ٹریننگ میں مختلف اداروں میں کام کرنے والے افراد  اور اساتذہ نے   شرکت کی ۔پاکستان ا لائنس فار ارلی  چائلڈ ہوڈ کی سی ای او خدیجہ خان نے ریڈیو نیوز نیٹ ورک کو اس ٹریننگ کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس والدین کو بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ایک سوال کے جواب میں خان نے کہا بچہ مان کے پیٹ سے ہی سیکھنے کا عمل شروع کرتا ہے اس والدین اپنے آپس کے روز مرزہ زندگی کے تعلقات میں محتطاط ہونا چاہیے کیونکہ بچے گھر کے ماحول کا اثر ہوتا ہے۔

 

ٹریننگ میں  شرکت کرنے والے افراد کے گروپس بنا کر بچوں میں اہلیت،قابلیت اور خود اعتمادی پیدا کرنے کے حوالے سے ان میں مباحثہ کرایا گیا  جس میں بچے کی پیدائش سے پہلے اور پیدائش کے بعد آٹھ سال تک کے عمر میں پیش آنے والے واقعات کو زیر بحث لایا گیا ۔ اس مباحثے میں والدین کی اپنے بچوں سے توقعات اور ان توقعات کو پورا کرنے کے طریقہ کار پر بات کروائی گئی۔ اس ٹریننگ  کی افتتاحی تقریب میں جوائنٹ ایجوکیشنل ایڈوائزر پروفیسر محمد رفیق طاہر بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچے کی ابتدائی تعلیم وتربیت اور شخصیت بنانے میں  والدین اور خاندان کے افراد  بہت اہم کرادار ادا کرتے ہیں۔اس لئے اسلام نے ان باتوں کی طرف 1400 سال پہلے ہی خصوصی ہدایات دی گئی تھیں ۔    یونیسف کی کنسلٹنٹ ڈاکٹر ریلنڈس یوس نے ارلی چائلڈ ہوڈ  ڈویلپمنٹ کے حوالےسے ٹریننگ میں شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا  کہ  یہ بہت اہم ہے کہ آپ اپنے بچوں کے ساتھ بات چیت کریں ،اور اس بات کا جائزہ لیں ان کے بات چیت نہ سکنے کی وجہ سے ان کے نشوونما کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اس لئے بچوں پر نظر رکھیں۔ان کا کہنا تھا کہ بچے اکثر اپنے والدین پر بھروسہ نہیں کرتے، خوف زدہ ہوتے ہیں ان کے مطابق اس بنیادی وجہ صرف اور صرف والدین کا بچوں کی نگہداشت کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا جب آپ اپنے بچوں کے ساتھ کھیلیں گے بات کریں گے  تو بچے کو آپ کو سمجھنے میں آسانی ہو گی ،بچوں میں چڑ چڑا پن کم ہو گا۔والدین سے بچوں کو اچھی توجہ ملے گی تو وہ زندگی میں آگے بڑھ پائیں گے۔ڈاکٹر ریلنڈس یوس کا مزید کہنا تھا کہ ماں باپ میں بچوں کے ساتھ بات انتہائی  احتیاط برتنی چاہیے انہوں نے کہا کہ یہ ایک بچے کی نہیں بلکہ آنے والی نسل کی بات ہے۔ ڈاکٹر ریلنڈس یوس نے بچے کی جسمانی اور نفسیاتی نشونما پر بھی زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ نفسیاتی لحاظ سے بیمار بچے کو والدین کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ کا بچہ معاشرے کا مقابلہ  نہیں کر پا رہا،ذہنی طور پر پریشان  ہے،سکول میں بھی پڑھائی کی طرف  توجہ نہیں دے پا رہا   تو  بچے کو والدین کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے والدین روز اپنے بچوں سے بات چیت کرنے کے لئے روزانہ انہیں وقت دیں۔

 

بچوں کی تعلیم و تربیت کی ماہر زہرا نثار نے اپنے پیغام میں والدین کو بچوں کی تعلیم و تربیت کا طریقہ سیکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ  والدین سے مراد صرف وہ نہیں جن سے بچہ پیدا ہوتا ہے بلکہ وہ تمام لوگ اس فہرست میں آتے ہیں جن پر بچوں کی دیکھ بھال کی زمہ داری ہوتی ہے۔ اس سے پہلے انہوں نےبچے کو ماں کا اپنا دودھ پلانے کے حوالے سے مشکل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اکثر اوقات ماں بچے کو جنم دینے کے بعد اس قدر ذہنی پریشانی میں مبتلا ہو جاتی ہے کہ اس کو یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ماں بننے پر خوشی منائے یا غم۔ زہرا نثار کے بقول شدت میں کمی بیشی کے ساتھ ہر ماں ایسی پریشانی کا شکار ہوتی ہے ایسے میں ماں کے لئے بچے کو اپنا دودھ پلانا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ۔زہرہ نثار نے اس صورت حال میں گھر کے بڑوں کو کردار ادا کرنے پر زور دیا تاکہ وہ ماں کو مثبت ماحول مہیا کریں اس ماں میں اپنے بچے اپنا ہی دودھ پلانے کا حوصلہ پیدا ہو۔زہرہ نثار نے والدین کو بچوں کے ساتھ انسیت سے پیش آنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہو جائے گی اور وہ اپنی ہر چیز سے والدین کو بلا جھجک آگاہ کریں گے۔  

تبصرہ کریں