بدھ ۰۳ مارچ۲۰۲۱

قلعہ دراوڑ صحرائے چولستان کے ماضی کی لازوال یاد گار

بدھ, ۰۳   جون ۲۰۲۰ | ۱۰:۵۰ صبح
Loading the player ...

پلوشہ اقبال: قدیم وادی ہاکڑہ اور موجودہ صحرائی چولستان میں واقع قلعہ دراوڑ تاریخ میں دلچسپی لینے والے افراد کے لئےاہم مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔

قلعہ دراوڑ صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ میں صحراے چولستان کے قریب واقع  ہے ۔صدیوں پہلے صحرائے چولستان سر سبز وادی پر مشتمل تھا اور اس وادی کو تاریخی دریائے ہاکڑہ سیراب کرتا تھا اسی وجہ سے اس وادی کو وادی ہاکڑہ بھی کہا جاتا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ وادی صحرا میں تبدیل ہوتی چلی گئی اور دریائے ہاکڑہ بھی ریت میں کہیں چھپ گیا ۔ صحرائے چولستان سے ماضی کی بہت سی یادگاریں وابستہ ہیں ۔ قلعہ دراوڑ بھی تاریخی لحاظ سےصحرائے چولستان کی انہی ماضی کی یاد گاروں میں سے ایک لازوال یاد گار سمجھا جاتا ہے ۔ اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور کے سابقہ پرنسپل  ڈاکٹر نصر اللہ خان ناصر کی  (قلعہ درواڑ) کے حوالے سے دستاویزی رپورٹ کے مطابق صدیوں پہلے بھٹی خاندان سے تعلق رکھنے والے اس علاقے کے حکمران راجا ججا سے اس کے بھانجے نے  گھر بنانے کے لئے زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کیا۔ جب راجا ججا کو معلوم ہوا کے اس کا بھانجا یہاں پر ایک قلعہ تعمیر کر رہا ہے اور اس کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں تو اس نے قلعے کی تعمیر رکوا دی۔ جس کے بعد  راجا ججا کی بہن نے اس کو خط لکھا کہ اے راجا تم بھٹی ذات کے ہو اور میرا بیٹا بھاٹیہ خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ دونوں قبیلے ایک ہی قوم سے تعلق رکھتے ہیں تو تم اپنے بھانجے کو (کوٹ) یعنی قلعہ تعمیر کرنے دو۔ قلعہ دراوڑزیادہ تر راجھستان کے راجپوت حکمرانوں کے قبضے میں رہا اور بعد میں1733 عیسویں میں نواب آف بہاولپور صادق محمد خان اول جن کاتعلق عباسی خاندان سے بتایا جاتا ہے نے اس قلعے پر قبضہ کیا تھا ۔ 1733 عیسویں سے پہلے قلعہ درواڑ کے حوالے  سے کوئی ٹھوس تاریخی شواہد نہیں ملتے کہ یہ قلعہ کس نے تعمیر کروایا تھا اور اس کے معمار کون تھےتاہم اس قلعے کی تاریخ کے ساتھ کچھ روائتیں منسوب کی  جاتی ہیں ۔

 

 

مزید تفصیل پلوشہ اقبال کی اس رپورٹ میں

تبصرہ کریں