جمعرات ۰۹ جولائی۲۰۲۰

ٹھنڈیانی قدرت کے پرکشش مناظر کی دلکش تصویر

بدھ, ۱۰   جون ۲۰۲۰ | ۰۱:۴۰ شام
Loading the player ...

پلوشہ اقبال:ٹھنڈیانی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقےگلیات میں واقع ایک پہاڑی مستقر یعنی ہل سٹیشن ہے۔ جو ضلع ایبٹ آباد سے 37 کلو میٹر دورہمالیہ کے دامن میں واقع ہے۔

ٹھنڈیانی کے مشرق میں دریائے کُنہار اور کشمیر کے پیر پنجال کےبرف پوش پہاڑی سلسلےاور مغرب میں سوا ت اور چترال کےبرف پوش پہاڑی سلسلے واقع ہیں جبکہ شمال اور شمال مشرق میں کوہستان اور کاغان کا پہاڑی سلسلہ واقع ہے۔ ٹھنڈیانی سطح سمندر سے9ہزار فٹ یعنی دو ہزار سات سو پچاس میٹر بلند ہے۔اس علاقےمیں رہنے والے بیشتر افراد کا تعلق سادات یعنی سید،اعوان،مغل،قریشی،عباسی،جدون گجر اور کارال قبیلوں سے ہے۔ اگرٹھنڈیانی کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو برطانوی ہندوستان میں  یہ علاقہ بٹئی خاندان کے افراد جو عیسائی مبلغ تھے اور سول اور ملٹری سروس میں بھی پائے جاتے تھے کو لیز یعنی اجارہ کے طور پر دیا گیا تھا۔ بعد میں بٹیز نے یہ علاقہ چرچ کی انتظامیہ کو تحفے میں دے دیا ،جہاں برطانوی دور حکومت میں عیسائی مبلغوں،اینگلیکین چرچ کے اہلکاروں اور ایبٹ آباد  کے ساتھ واقع چھاونی میں تعینات افسران  کے لئے دارالصحت اوردیگر بہت سی سہولیات کا قیام عمل میں لایا گیا۔اس کے علاوہ یہاں کچھ نجی یورپی مکانات،ایک کیمپنگ گراونڈ،ایک چھوٹا بازار اور سینٹ زیوئیرجوایک عیسائی مبلغ تھےکا ایک چھوٹا سا چرچ بھی تھا  تا ہم  سینٹ زیوئیر چرچ آج بھی ٹھنڈیانی کے علاقے میں واقع ہے۔جہاں ٹھنڈیانی کا علاقہ موسم گرما میں سر سبز ہریالی کا حسین منظر سیاحوں کو اس کےسحر میں کھونے پر مجبور کرتا ہے۔وہیں پر موسم سرما میں اس  کے پہاڑ برف کی سفید چادر اوڑھ لیتے ہیں تو اس  کا منظر اور دلفریب ہو جاتا ہے اور ایسے دلفریب مناظر سیاحوں کو ایسے علاقوں میں بار بار آنے پر مجبور کرتے ہیں۔

 

 



تبصرہ کریں