جمعرات ۰۹ جولائی۲۰۲۰

دنیا بھر میں ہر سال 26 جون کو در گزر کرنے کا عالمی دن منایا جاتا ہے

جمعہ, ۲۶   جون ۲۰۲۰ | ۱۲:۳۹ شام
Loading the player ...

پلوشہ اقبال:ایک دوسرے کی خطاوں کو درگزر کرنے سے معاف کرنے والے اور معافی مانگنے والے دونوں کے درمیان رشتہ پہلے کی نسبت زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔

دنیا بھر میں ہر سال 26 جون کو درگزر کرنے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ درگزر کرنا کیا ہے؟جب کوئی ایک شخص کسی دوسرے شخص کو جس نے اس کا دل دکھایاہو،اس کے دل کو ٹھیس پہنچائی ہو،یا کوئی ایسا کام کیا ہو جس سے اس کے دل کو چوٹ پہنچےاور لیکن پھربھی وہ شخص ان تمام منفی رویوں کو بھلا کر اس شخص کو معاف کر دے تو اس عمل کو‘‘درگزر’’کرنا کہتے ہیں۔ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر،کسی نہ کسی لمحے میں غلطیاں ہرانسان سے ہو جایا کرتیں ہیں۔کسی کے ساتھ غصہ کرنے کی غلطی،کسی کے ساتھ برے لہجے یا انداز میں بات کرنے کی غلطی،کسی کے ساتھ بد سلوکی کرنے کی غلطی،اپنوں سے بڑوں کے ساتھ اونچی آواز میں بات کرنے کی غلطی اور بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ معمولی معمولی سی باتوں پر سالوں تک  خاندانوں میں لڑایئاں رہتی ہیں ،ایک دوسرے کے گھر آنا جانا بند کر دیتے ہیں۔ہماری زندگیاں ایسی بہت ساری غلطیوں سے بھری پڑی ہیں اسی لئے تو انسان کو خطا کا پتلا بھی کہا جاتا ہے۔لیکن جب ہم سے غلطیاں سرزد ہو جاتی ہیں،اور ہماری وجہ سے کسی دوسرے کے دل کو ٹھیس پہنچتی ہے تو ہمیں اس کے بدلے میں سچے دل سے معافی مانگ لینی چاہیے۔معافی مانگنےسےکوئی چھوٹا بڑا نہیں بن جاتا اور نہ ہی معافی کا تعلق اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ کا تعلق امیر طبقے سے ہے یا غریب طبقے سے یعنی یہ کہا جا سکتا ہے معافی کا تعلق دولت سے نہیں ہوتا ،احساس سے ہوتا ہےاور جس شخص کے دل میں احساس ہی نہ ہوتو پھر وہ دوسروں کو دکھ پہنچا کر کبھی معافی نہیں مانگتا ۔لیکن جس شخص کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوجائے اور وہ اپنی کی ہوئی غلطیوں پر شرمندہ ہواور جس شخص کو دکھ پہنچایا ہو اس سے سچے دل سے معافی مانگنا چاہے تو اس کی غلطیوں کو درگزر کر دینا چاہیے۔کیونکہ جس طرح ‘‘معافی’’کا تعلق اس بات سے نہیں ہوتا کہ معافی مانگنے والا کتنا امیر ہے یا غریب ہے بالکل اسی طرح ‘‘درگزر’’کرنے والے کا تعلق بھی  امیری یا غریبی سے نہیں ہوتا۔بلکہ ‘‘درگزر’’کرنا تو ایک ایسی صفت ہے جو اپنے اندر بہادری لئے ہوئے ہے کیونکہ جو شخص اپنے ساتھ کئے جانے والے برے رویوں اور بد سلوکیوں کو جھیل کر بھی  دوسرے شخص کی معافی کو خندہ پیشانی سے قبول کر لے تو وہ واقع ہی بہادر ہوتا ہے۔اسی لئے آپ   جب  بھی   اپنے ساتھ ہونے والے منفی رویوں کے بدلے میں معافی دے دیں تو یہ مت سمجھیں کہ آپ اندر سے کمزور ہیں بلکہ آپ اس لئے معاف کر دیتے ہیں کیونکہ آپ ایک مضبوط اور بہادر انسان ہوتے ہیں  اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ غلطیاں انسان سے ہو جایا کرتیں ہیں اس لئےان غلطیوں کو ‘‘درگزر’’کر دینا چاہیے اور ‘‘درگزر’’کردینے سے معاف کرنے والے اور معافی مانگنے والے دونوں کے درمیان پیار اور زیادہ بڑھ جاتا ہے،ان کے درمیان رشتہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔‘‘درگزر’’کرنے کی ایک اور خوبصورت بات یہ ہے کہ جس شخص نے آپ کو رنجش،دکھ یا تکلیف پہنچائی ہوتی ہے ان رنجشوں،دکھوں اور تکلیفوں کے بدلے میں آپ  اس شخص کو معاف کر کے جو تحفہ دیتے ہیں وہ تحفہ درگزر کرنے کا ہوتا ہے،اور دنیا بھر میں جو ‘‘درگزر’’کرنے کا دن منایا جاتا ہے یہ ایک موقع ہوتا ہےچیزوں کو دوبارہ سے صحیح کرنے کا،اپنے رشتہ داروں کے ساتھ معاملات درست کرنے کا پرانے منفی رویوں کو بھول جانے کا،نئے سرے سے قدم آگے بڑھانے کا۔

تبصرہ کریں