جمعرات ۲۲ اکتوبر۲۰۲۰

مسئلہ مندر کا نہیں نفرت کا ہے

ہفتہ, ۱۱   جولائی ۲۰۲۰ | ۰۵:۵۳ شام

فدا حسین :پاون کمار انسٹیوٹ آف سپیس ٹیکنالوجی کے طالب علم ہیں جو کہتے ہیں کہ مسئلہ مندر کا نہیں بلکہ نفرت کا ہے جو لوگوں کے اندر ہے۔ پاؤن کمار اور ان کے ساتھی دانش کمار جو اسلام آباد کے ایک سرکاری محکمے میں ملازمت کرتے ہیں سے ہماری ملاقات اسلام آباد میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے لئے مندر کی تعمیر کی اجازت دینے کے لئے ہونے والے مظاہرے میں ہوئی۔

دوران گفتگو پاون کمار کا کہنا تھا کہ مندر سے زیادہ مسئلہ لوگوں کے اندر موجود نفرت کا ہے جس نے انہیں یہاں آنے پر مجبور کیا ورنہ وہ اس سے پہلے مندر نہ ہونے کی وجہ سے کسی احتجاج میں نہیں آئے تھے۔

 

                       وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حق میں احتجاجی مظاہرے کے لئے جب کچھ لوگ جمع ہوئے تو حسب معمول مظاہرین اور منتظمین سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے مختلف سوالات پوچھنا شروع کئے۔ پہلا سوال ہر صحافی کا یہی ہوتا ہے کہ مظاہرے کا مقصد کیا ہے یا آپ کے مطالبات کیا ہیں۔ اس طرح دیگر مختلف سوالوں میں ایک سوال یہ تھا کہ کیا اس مظاہرے میں ہندو دھرم سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہیں؟ جواب نفی میں پا کر اگلا سوال یہ ہوتا کہ جن لوگوں کے حقوق کے لئے مظاہرہ ہو رہا ہے جب وہ خود موجود نہیں تویہ مظاہرہ کیا معنی رکھتا ہے۔ اس سوال پرکچھ لاجواب ہو گئے تو کچھ نے ان کی عدم موجودگی کو خوف سے تعبیر کیا۔ تاہم اس سوال کی افادیت اور اہمیت اس وقت ختم ہوئی جب مظاہرے سے دانش کمار نامی نوجواں نے خطاب کیا کیونکہ انہوں نے اپنا تعارف ہندو مذہب کے پیروکار کے طور پرکروایا ۔ اس احتجاجی مظاہرے کے ایک منتظمہ ماہ نور کے مطابق اس مظاہرے میں دانش کمار کے علاوہ بھی ہندو دھرم سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے مگر انہوں نے خوف کی وجہ سے تقریر نہیں کی ماہ نور اس خوف کو بھی جائز سمجھتی ہیں۔ ان کے بقول جو انتہاہ پسندی ملک میں موجود ہے وہ مندر تعمیر کرنے نہیں دے گی مگر وہ اوران کے ساتھی مندرکی تعمیر کے لئے ہرممکن مدد کریں گے۔

 

                            پرانے مندر کے بجائے نئے مندر تعمیر کرنے کے سوال پر دانش کمار کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں مندر شاہ اللہ دتہ میں موجود ہے جو کافی دور ہے اس لئے شہر کے وسط میں اگر مندر تعمیر کیا جاتا ہے تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اعتراض مندر کی تعمیر پر ریاستی وسائل استعمال کرنے پر ہے تو ہندوپنچائت اس کے لئے فنڈز فراہم کر سکتی ہے انہوں نے ریاست سے مندر کی تعمیر کے دوران اور بعد میں اپنی عبادات کے لئے آنے والوں کو تحفظ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

 

                                     اسلام آباد میں ہندو کمیونٹی کی تعداد کے حوالے سے مختلف اعداد و شمار موجود ہیں ۔پاکستان ہندو کونسل کی ویب سائٹ پر دی گئی اعداد شمار کے مطابق اسلام آباد میں ہندوں کی تعداد 276 ہے جبکہ وائس آف امریکہ کے مطابق یہ تعداد 3 ہزار کے لگ بھگ ہے، ہندو کمیونٹی کے لئے کام کرنے والے سماجی کارکن ہارون سربدیال کے مطابق بھی اسلام آباد میں ہندں کی تعداد کم ازکم 25 سو کے قریب ہے۔ پاکستان ہندو کونسل کی ویب سائٹ پر اعداد و شمارکم درج ہونے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ہارون سربدیال کا کہنا ہے کہ اندارج نہ ہونے کی وجہ سے تعداد کم لکھی گئی ہے۔

 

                              پرانے مندر کی بحالی یا نئے مندر کی تعمیر کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ہارون سربدیال نے بتایا کہ ان کے لئے سید پور کا مندر ایسے ہی محترم اور مکرم ہے جیسے مسلمانوں کے لئے خانہ کعبہ اور حجرہ اسود ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت انہیں بحال کر دیتی ہے تو انہیں کوئی نئے مندر کی تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ جبکہ پاون کمار کا کہنا ہے کہ ایک تو سید پور کا مندر آبادی سے کافی دور ہے اور دوسرا وہ کافی خستہ ہو چکا ہے اس لئے انہیں نئے مندر کی ضرورت ہے تاہم وہ اس بات پراتفاق کرتے ہیں کہ اگر پرانے مندر کو بھی بحال کیا جائے تو انہیں قابل قبول ہو گا۔

 

                                   اسلام آباد میں منعقدہ مظاہرے میں موجود سماجی کارکن طوبیٰ سید کہتی ہیں کہ پاکستان ایک کثیر القومیت اور کثیر المذاہب ملک ہے جس کے دارالحکومت میں ہر مذہب کے ماننے والوں کی عبادات گاہیں ہونی چاہیں۔ اس لئے اسلام آباد میں ایک مندر کا ہونا بہت ضروری ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ہرگلی میں مسجد اور مدرسے موجود ہیں ایسے میں ایک مندر کی تعمیر سے کس کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا آئین ہر شہری کو برابر کے حقوق دیتا ہے۔ جس کی بنیاد پر ہندوں کو مندر تعمیر کرنے کی اجازت ہونی چاہے۔ طوبیٰ سید نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے مندر کی تعمیر رکوانے کے لئے دی گئی درخواست خارج ہونے کو خوش آئند قرار دیا۔

 

                             مظاہرے کے شرکا نے مندر کی تعمیر کے حق میں جہاں دیگر پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے انہی میں سے ایک بینر پر اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی خوابوں کی تعبیر قرار دینے والے الفاظ بھی درج تھے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آپ آزاد ہیں، آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لئے۔آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لئے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لئے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔

تبصرہ کریں