ہفتہ ۲۴ اگست۲۰۱۹

قلعہ روہتاس

پیر, ۲۲   جولائی ۲۰۱۹ | ۰۳:۵۳ شام

تحریر:فرح سلیم

پاکستان میں  ویسے تو بہت سے تاریخی مقامات ہیں اور ہر ایک کی اپنی تاریخ ہےلیکن قلعہ روہتاس کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے۔ اس کو شیرشاہ  سوری نے948ھجری میں بنوایا تھا۔دراصل گکھڑلوگوں کو بروقت امداد دیتے تھےجو شیر شاہ سوری کو پسند نہ تھا۔تو یہ  قلعہ گکھڑوں کی سر کوبی کے لیے بنایا گیا تھااور اس قلعے پر34لاکھ25ہزار روپے خرچ ہوئے تھے۔اس کی تعمیر میں 13لاکھ مزدوروں نے حصہ لیا تھااور اس کو 4سال7ماہ ور21دن میں مکمل کیا گیا تھا۔دوسرے قلعوں سے ہٹ کر قلعہ روہتاس کی تعمیر چھوٹی اینٹ کی بجائے دیو ہیکل پتھروں سے کی گئی ہے۔ ان بڑے بڑے پتھروں کو بلندیوں پر نصب دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق اس قلعے کی تعمیر میں عام مزدروں کے علاوہ بے شمار بزرگانِ دین نے بھی اپنی جسمانی اور روحانی قوتوں سمیت حصہ لیا۔ ان روایات کو اس امر سے تقویت ملتی ہے کہ قلعے کے ہر دروازے کے ساتھ کسی نہ کسی بزرگ کا مقبرہ موجود ہے، جبکہ قلعہ کے اندر بھی جگہ جگہ بزرگوں کے مقابر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور روایت ہے کہ یہاں قلعے کی تعمیر سے پہلے ایک بہت بڑا جنگل تھا۔ شیر شاہ سوری کا جب یہاں گزر ہوا تو یہاں پر رہنے والے ایک فقیر نے شیر شاہ سوری کو یہاں قلعہ تعمیر کرنے کی ہدایت دی۔ یہ قلعہ چار سو ایکٹر پر محیط ہے، جبکہ بعض کتابوں میں اس کا قطر 4 کلومیٹر بیان کیا گیا ہے۔ قلعے کی فصیل کو ان چٹانوں کی مدد سے ترتیب و تشکیل دینے کی کوشش کی گئی جن پر یہ تعمیر کیا گیا۔ قلعہ اندرونی طور پر دو حصوں میں تقسیم تھا، جس کے لیے ایک 1750 فٹ طویل دیوار تعمیر کی گئی، جو قلعے کے دفاعی حصے کو عام حصے سے جدا کرتی تھی۔ یہ ان قدیم روایتوں کا تسلسل تھا، جن کے تحت فوجوں کی رہائش شہروں سے علاحدہ رکھی جاتی تھی۔ قلعے کے جنگی حصے کی وسعت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ عہد شیر شاہ میں توپ خانے کے علاوہ 40 ہزار پیدل اور 30 ہزار سوار فوج مع ساز و سامان یہاں قیام کرتی تھی۔ قلعے میں 86 بڑے بڑے برج یا ٹاور تعمیر کیے گئے۔  اس قلعے کی سب سےخوبصورت اور عالیشان حصہ فصیل ہے۔یہ حیرت کی بات ہے کہ اتنے بڑے قلعے میں صرف چند رہائشی عمارتیں تھیں ۔اس کے علاوہ اس میں  ایک شاہی مسجد بھی تعمیر کی گی تھی۔قلعے کے جنوبی حصے میں پانی جمع کرنے کی غرض سے ایک تالاب بھی بنایا گیا تھا۔جس کی مرکزی چٹان پر ایک عید گاہ تعمیر کی گی تھی۔شیر شاہ سوری کے عہد میں لوگ عیدگاہ تک پہچنے کے لیے کشتیوں کا استعمال کرتے تھے۔ پاکستان کا صوبہ پنچاب کا ضلع  جہلم میں16کلو میٹراورشہر دینا سےسے 7کلومیٹرکے فاصلے پر قلعہ روہتاس موجود ہے۔اس قلعے کے عین سامنےایک سڑک ہے۔قلعہ روہتاس  کے مین گیٹ سے اندر جاتے ہی انسانوں کی ایک بستی نظر آتی ہےجو وہاں کی رونق بھی ہے اور قلعہ روہتاس کی  تاریخ کی محافظ بھی۔مین گیٹ جیسے شہری دروازہ بھی کہتے ہیں اندر کافی فاصلہ طے کرنے کے بعدقلعہ کا دروازہ آتا ہے۔جیسے دیکھ کرآنکھیں حیران رہ جاتی ہیں کہ آج بھی قلعہ کا دروازہ اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔جس کے پتھر کے وزن کے بارے میں سوچ کر اس وقت  کے مزدوروں  کو داد دینے کو جی چاہتا ہے۔قلعہ روہتاس ان چند قلعوں میں سے ایک ہے۔ جو ہاتھوں سے اکٹھا کیے ہوئے پتھر سے بنایا گیا تھا۔اوپر جائیں تو قلعہ کی دیواروں کے ڈیزاین سادہ مگر مضبوط نظر آتے ہیں ۔ان دیواروں میں بندوق رکھنےیا سپاہوں کے کھڑے ہونے کے مورچے بنے ہوئے ہیں۔جہاں سے پورا علاقہ صاف صاف نطر آتا ہے۔ان مورچوں کےنیچے کی طرف گرم پانی ور گرم تیل ڈالنے کے لیے بھی سوراخ ہیں جو دشمنوں کو بھگانے کے کام آتے تھے۔قلعے کے دروازے سے  اندر جائیں تو شیرشاہ سوری میوزیم بھی ہے۔جہاں شیرشاہ سوری کی چیزیں رکھی گی ہیں ۔اس قلعے کی سائیڈ پر پارک بھی بنایا گیا ہے۔اب یہ قلعہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل مقامات میں سے ایک ہے۔  

تبصرہ کریں