ہفتہ ۲۴ اگست۲۰۱۹

کوئی ہے جو لڑکیوں کو روز روز مرنے سے بچائے

منگل, ۲۳   جولائی ۲۰۱۹ | ۰۲:۳۶ شام

تحریر:فرح سلیم

یہ بات بھی درست ہے کی لڑکیوں کی پیدائش ماضی کیطرح ایک حادثہ نہیں رہی۔لیکن اب بھی ہمارے ملک میں ایسے علاقے ہیں جہاں اگر لڑکی پیدا ہو جائے تو ان کے گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ہے۔اور اگر کسی متوسط گھرانے میں کوئی ایسی لڑکی پیدا ہو جائے جس کم شکل وصورت کی ہو۔تو ایسی لڑکیوں کے لیے زندگی کسی سانحے سے کم نہیں ہوتی۔ہوش سبنھالتے ہی لڑکیوں کے ذہن میں یہ چیزڈال دی جاتی ہے کہ تمھاری زندگی کا نصب العین شادی ہے۔اور ایک لڑکی کو باربا ر یہ کہا جاتا ہے۔یوں نہ کروں ،ایسے نہ کرو۔تمھیں اگلے گھر جانے ہے۔لوگ کیا کہیں گے۔زور سے مت ہنسو،سوال نہ کرو۔دھیمے لہجے میں بات کرو،جھک کر چلو۔کوئی کچھ کہے تو آگے سے جواب نہیں دینا۔اور اپنی رنگت  ٹھیک کرو اس پہ کچھ لگاو ۔لوگ کیا کہیں گے۔یہ سب اور اس جسے اور جملےاور متضاد رویوں نے لڑکیوں کو بے انتہا غیر محفوظ کر دیا ہے۔اور زندگی کے ہر مرحلےپر خود کو منوانے کے لیے دوسروں کی قبولیت اور خوشنودی کی محتاج نظر آتی ہیں ۔ آج کی لڑکیوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہمارے معاشرے  میں  اچھے جیون ساتھی کا ہے۔ہم ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں عورت دوسرے درجے کی مخلوق سمجھی جاتی ہے۔جو نہ پسندیدگی کا حق رکھتی ہے۔نہ محبت کا ،نہ کسی مسئلے پر اپنی رائے دینے کا۔کیونکہ  اس کا ہر عمل مرد کی انا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔اور اس معاملے میں  لڑکے والوں کا رویہ حکمرانوں سانظر آتا ہے۔اور اکثر لڑکوں کی مائیں رد کی جانے والی لڑکیوں کی تعداد بڑے فخر سےبتاتی ہیں ۔جیسے گویا میچ کا اسکور بتا رہی ہوں ۔اے!سن میں تو اپنے بیٹے کے لیے چاند سی دلہن لاوں گی ۔اور ابھی تک  سو سے زیادہ لڑکیاں دیکھ چکی ہوں پر کیا کروں موئی کوئی بھی پسند نہیں آئی۔کوئی موٹی ہے تو کسی کا قد چھوٹا ہے۔تو کوئی رنگت کی ٹھیک نہیں ہے۔پریوں کی تلاش میں نکلنے والے لڑکے اور اس کی مائیں بہنیں آئینہ دیکھنا بھول جاتی ہیں ۔انھیں اپنے ہونہار بیٹے کے لیےشریک حیات کی بجائےایک حسین بت کی تلاش ہوتی ہے۔جس کا قد لمبا ہو،میدے جیسی سفید رنگت ہو۔آنکھیں ترکش ہوں ،اس کے علاوہ مال اور گرین کارڈ تواضافی خصوصیات میں شامل ہو گا۔جو شادی منڈ ی میں لڑکی کی قیمت بڑھا دیتے ہیں ۔اعلیٰ تعلیم اور ملازمت تو لڑکی کے لیے عیب سمجھے جاتے ہیں ۔جھنیں اچھے خاصے پڑھے لکھے گھرانوں میں  بھی نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔کیونکہ اکثر لوگوں کے نزدیک تعلیم عورت کوخود سر اوراپنی کمائی خود مختیار بنا دیتی ہے۔ان جیسے لوگوں کے نزدیک بیوی جس قدر حسین ہو۔کم عمر ہو ،کم عقل ہو۔زندگی اتنی ہی اچھی گزرتی ہے۔اکثر لڑکی کودیکھنے کے لیے آنے والوں کا رویہ کسی قصائی سے کم نہیں ہوتا۔جو نظروں ہی نظروں میں لڑکی کو یوں  جانچتے ہیں جیسے لڑکی نہیں قربانی کے لیے کوئی گائے خریدی جا رہی ہو۔پسند نہ آئے تو چہرے پر ایسے ناگوار تاثرات ابھرتے ہیں کہ آگے کچھ کہنے کی ضرورت  باقی نہیں رہتی۔درجنوں گھر گھومنے دعوتیں اڑنے اور سکیڑوں دل توڑنے کے بعدکہیں جاکر لڑکے کے لیے  حور پری کا ا نتخاب تو ہو جاتا ہے۔لیکن دوسری طرف چبھتے ہوئے سوال،نظریں ،رویے ،باربار مسترد کیے جانے کی تکلیف کتنی ہی لڑکیوں کو توڑ کر رکھ دیتی ہے۔اس کا اندازہ صرف وہ ہی  لگا سکتا ہے جو اس عمل سے گزرا ہو۔یہ بھی درست ہے کی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی شریف شریک حیات کی بجائے ہیرو کی تلاش کرتی نظر آتی ہیں ۔اور والدین بھی خاندانی شرافت کی بجاے بینک بیلنس اور فارن میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ہمارے ہاں منافقت اور قدامت پسندی کایہ عالم ہے۔کہ اگر لڑکا اور لڑکی  شادی کے سلسلے میں اپنی پسند کا اظہار کریں تو ایسے ٹھیک نہیں سمجھا جا تا۔ میڈیا کے اثرات کیوجہ سے بھی آج  شادی بیاہ کے معاملات سنگین صورتحال اختیار کر گئے ہیں ۔لڑکیاں نفسیاتی دباو کا شکار ہو رہی ہیں ۔ اور یہ کیسز  شادی نہ ہونے اور منگنی ٹو ٹنے کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔لڑکیاں ڈپریشن ،تنہائی اور مایوسی کا شکار  ہو رہی ہیں ۔ان میں سے بیشتر لڑکیاں احساس محرومی کا شکار ہو کر اپنے آپ کو کسی خول میں بند کر دیتی ہیں ۔اور بعض لڑکیاں تو تنگ آکر خود کشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیتی ہیں ۔ ایک اچھے جیون ساتھی کا انتخاب ہر ایک کا حق ہے۔لیکن ہمارے معاشرے میں یہ حق صرف مردوں تک ہی کیوں محدود ہے۔ آ خربیٹیوں اور بیٹوں کا معاملے میں یہ دہرا معیار کیوں؟   لڑکیوں کو محض شکل و صورت اور لڑکوں کو مال حثییت کی کسوٹی پر ہی کیوں پرکھا جاتا ہے۔ مویشوں کی طرح ڈارئنگ روم میں بار بار بیٹیوں کی نمائش کرنے اور انھیں مسترد کیے جانے کی روایت کو کیوں پروان چڑھا جا رہا ہے۔ کوئی ہے جو اس درد کا مدوا کرے۔ کوئی ہے جو ہزاروں لڑکیوں کو روز روز مرنے سےبچا سکے۔ ھماری پڑھی لکھی اور نوجوان نسل میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اس فرسودہ روایات کے خلاف آواز اٹھا سکے۔اور اپنے عمل سے مثبت مثالیں قائم کر سکے۔ کاش ہم سمجھ سکیں اس سے پہلے کی لفظ شادی لڑکیوں کے لیےخوشی کی بجائے غم اور محرومی کی علامت بن جائے۔اور وہ  مایوسی کے ا ندھیروں میں ہمیشہ کے لیے ڈوب جائیں ۔ اس کے بارے میں زرا سوچیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

نوٹ: یہ خیالات لکھاری کے اپنے ہیں ریڈیونیوز نیٹ ورک کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔



تبصرہ کریں