منگل ۲۲ اکتوبر۲۰۱۹

سویک جھیل

ہفتہ, ۲۷   جولائی ۲۰۱۹ | ۰۳:۲۲ شام
Loading the player ...

تحریر:پلوشہ اقبال

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو اللہ تعالی نے بے پناہ خوبصورتی اور وسائل سے نوازا ہے۔پاکستان میں بے پناہ ایسے  سیا حتی مقامات ہیں جو اپنی خوبصورتی  اور دلکشی کے باعث لوگوں کی توجہ کا مرکز ہیں ان ہی میں سے  پرکشش مقام سویک جھیل بھی ہے۔ سویک  قرآن پاک کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے بلندی  سویک جھیل کا شمار پاکستان کے  حسین قدرتی مقامات میں کیا جاتا ہے ۔یہ مقام اکثر سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔اس جھیل کے گرد پہاڑ بہتی آبشار آس پاس ہرے بھرے درخت اور جھیل کا صاف شفاف پانی اس کی خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس جھیل کا پانی اتنا صاف شفاف ہے کے سطح سے ہی مچھلیاں تیرتی  نظر آتی ہیں ۔ اس سیاحتی مقام پر سویک جھیل کے علاوہ بلندو بالا آبشار بھی موجود ہے۔سویک جھیل پاکستان کے صوبے پنجاب میں واقع ہے اور یہاں تک (ایم ٹو۔موٹر وے )کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے۔(ایم ٹو۔موٹر وے) لاہور اور اسلام آباد کو ایک دوسرے سے ملاتی ہے۔سویک جھیل کلر کہار کے گاوں کھنڈوا میں واقع ہے۔کھنڈوا میں پہنچنے کے بعد  آپ اپنی گاڑی میں مزید سفر نہیں کر سکتے ۔رستہ خراب اور خطر ناک ہونے کی وجہ سے آفیشیل جھیپ چلائی جاتیں ہیں جو انتہائی مناسب قیمت پر آپ کو سویک لیک   جانے والے رستے  تک پہنچا دیتیں ہیں ۔ جھیپ کا سفر طے کرنے کے بعد  آپ کو سویک لیک تک پہنچنے کے لئے پیدل سفر طے کرنا پڑتا ہے ۔یہ سفر 45منٹ  پر محیط  ہے  لیکن یہ سفر انتہائی دلچسپ واقع ہوتا ہے کیونکہ اس دوران کئی سحر انگیز نظارے کرنے کا موقع ملتا ہے۔اس دلکش جھیل سے ایک چھوٹی سی ندی بھی نکلتی ہے یہ ندی بھی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔سویک جھیل کا صاف اور شفاف پانی دیکھ کر  ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم کسی اور دنیا میں آ گئے ہیں کیونکہ  آج کے جدید دور میں جہاں ہر طرف گاڑیوں کے شور اور دھوئیں نے ماحول کو آلودہ کر دیا ہے وہاں سویک جھیل جیسے قدرتی مقام کا ہونا  واقع ہی کسی نعمت سے کم نہیں۔اس جھیل  پر عموما سردیوں میں کم اور گرمیوں میں زیادہ رش دیکھنے کو ملتا ہے۔اس جھیل میں کئی سرگرمیاں انجام دی جا سکتی ہیں جیسے کہ تیراکی اور غوطہ خوری وغیرہ ۔سویک جھیل کا پانی بہت زیادہ گہرا ہونے کی وجہ سے یہاں  تیراکی کرنے والوں کے لئے  لائیو جیکٹس بھی دستیاب ہوتی ہیں  تا کہ کسی حادثہ سے  بچا جا سکے۔سویک جھیل کے سر سبز پانیوں کا نظارہ صرف دن کی روشنی میں ہی ممکن ہے کیونکہ رستہ تھوڑا خطر ناک ہونے کی وجہ سے اور سڑک نہ ہونے  کے باعث  اور دیگر سہولیات  جیسے کہ روشنی کا اہتمام ،قیام و طعام کا اہتمام ،نہ ہونے کی وجہ سے  رات کو یہاں آنا ناممکن ہے۔لیکن اگر حکومت   اس  حوالے سے  اقدامات کرے جیسے   تو ان پانیوں کا نظارہ رات  میں بھی ممکن ہے  اور ایسے  اقدامات سے پاکستان میں  سیاحت کو مزید فروغ ملے گا۔

تبصرہ کریں