پیر ۱۷ فروری۲۰۲۰

عدالت بمقابلہ عدالت

منگل, ۲۶   نومبر ۲۰۱۹ | ۰۵:۰۷ شام

تحریر: فدا حسین


آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن معطل ہوتے ہی سوشل میڈیاپر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں ۔ ویسے تو دنیا بھر میں عدالتی فیصلوں کی تعریف یا ان فیصلوں پر تنقید ہوتی ہے مگر پاکستان کی تاریخ تھوڑی سی مختلف اس لئے ہے کہ یہاں پر اکثر اوقات عدالتیں نظریہ ضرورت کو دوام بخشتی آئی ہیں جس کی وجہ سے آج تک جمہوریت اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکی ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے فیصلے کو لوگوں نے اسی تناظر میں دیکھا۔ عدالت نے حکومت کو نواز شریف کا نام غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تو پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ لوگوں کی طرف سے عدالتوں کے وقار پر سوال اٹھانا شروع ہو گیا تھا۔ سوال اٹھانے والوں میں عام کارکن سے لے کر وزیراعظم تک شامل تھے وزیر اعظم کے بیان پر چیف جسٹس نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت کا طاقتور اور کمزور کے لئے الگ الگ فیصلہ کرنے کے تاثر کو مسترد کیا تھا ۔ اب آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کر کے چیف جسٹس نے اپنے موقف کو سچ ثابت کرنے اور عدالت کے بارے میں منفی تاثر کوزائل کرنے کی کافی کوشش کی ہے، اس لئے اب سوشل میڈیا پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو ہیرو کے طورپر دیکھا جا رہا ہے۔جبکہ دوسری طرف(خصوصی) عدالت کو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے متعلق بھی فیصلہ کرنا ہے مگر اب اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں خصوصی عدالت کو فیصلہ کرنے سے روکنے کی درخواست دائر کر دی گئی ہے اس میں مزے کی بات یہ ہے کہ عدالت سے تمام لوگوں کے لئے یکساں طریقے سے فیصلہ کرنے کا التجا کرنے والی حکومت خود طاقتور کے لئے مدعی بنی ہے جوعدالتی ساکھ کومضبوط یا متاثر کر سکتا ہے۔ اس لئے اب معاملہ عدالت بمقابلہ عدالت ہے کیونکہ ایک منصف اعلیٰ نے حاضر سروس سپہ سالار کو عدالت میں طلب کیا ہے تو دوسرے کے سامنے سابق سپہ سالار کے بارے میں فیصلہ کرنے سے رکواناہے۔لاہورہائی کورٹ نے فیصلہ کرنے سے روکنے کی درخوست کو قابل سماعت قرار دے دی ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے فرمایا تھا کہ عدالتوں کی سب سے بڑی طاقت نظام انصاف پر لوگوں کا اعتماد ہے۔ مگر کیا واقعی لوگوں کو نظام انصاف پر اعتماد ہے ؟ اس کا جواب ہاں میں ملنا بہت مشکل ہے ۔اس تمام تر صورحال کے پیش نظر عدالتوں پر لوگوں کا کتنا اعتماد ہے اس بارے میں حتمی رائے قائم کرنا بہت مشکل ہے۔ نظام انصاف پر لوگوں کا اعتماد بحال کرنے لئے عدالتوں کو مزید کئی آگ کے دریا عبور کرنے ہیں ان میں عام لوگوں کو بروقت انصاف کی فراہمی سب سے اہم ہے ۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے مطابق سزاے موت پانے والے ہر پانچ میں سے دو افرادبے گناہ ہوتے ہیں ۔پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی سال 2017کی رپورٹ کے مطابق 3لاکھ 33ہزار مقدمات عدالتوں میں زیر التوا ہیں زیر التوا مقدمات کی اتنی بڑی تعداد عدالتوں کی ساکھ کو متاثرکرنے کے لئے کافی ہیں ۔کسی فیصلے کے خلاف کوئی اپیل میں جائے تو اس کی سماعت کتنی جلدی منظور ہوتی ہے اس بارئے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے اس کی سب سے بڑی مثال سپریم کورٹ کی فیض آباد دھرناکیس فیصلے کے خلاف حکومتی اپیل پر تاحال کسی پیش رفت کا نہ ہونا ہے اس لئے عدالت بمقابلہ کا گمان بار بار ہوتا ہے۔واقفان ِحال کے مطابق جسٹس فائز عیسیٰ کو اسی فیض آباد دھرناکیس کی آگ کے دریا میں ڈالا گیا ہے جہاں سے وہ اس وقت نکلنے کی کوشش میں ہیں۔

تبصرہ کریں