بدھ ۰۳ مارچ۲۰۲۱

کرونا وائرس کی آڑ میں بیالوجیکل وار!

جمعہ, ۲۸   فروری ۲۰۲۰ | ۱۲:۵۵ شام

ناصر خان : کرونا وائرس یا بیالوجیکل وار ، کھیل سمجھنا ضرری ہے۔

 نوول کرونا وائرس کووڈ-19انسانوں میں پھیلنے والاایک نئی قسم کا وائرس ہے جس کی سب سے پہلے شناخت چین کے شہر ووہان سے ہوئی بعد ازاں یہ چین کےدوسرے شہروں کے ساتھ ساتھ کچھ ممالک میں بھی پھیلا ہے، لیکن دیگر شہروں اور ممالک میں اس کی تعداد بہت کم ہے ۔ اب تک کرونا کووڈ-19نامی اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباًاکیاسی (٨١) ہزار ہو گئی ہے۔  چین کے بعد کرونا وائرس کی زیادہ گونج اب ایران میں ہے اور اب پاکستان میں بھی د و کیسسز کی تصدیق کی خبر ہے ,بتایا جا رہا ہے کہ دنوں متاثرہ مریض ایران سے  ہو کر آئے ہیں ۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس وائرس سے اموات کی شرح دو سے تین فیصد ہے یعنی اکیساسی ہزار افراد میں سے اکیس سو یعنی دو ہزار ایک سو کے قریب لوگوں کی اموات واقع ہوئی ہیں ۔ لیکن مغربی میڈیا اور سوشل میڈیا پر جو طوفان برپا کر دیا گیا ہے اس کے مقاصد کیا ہو سکتے ہیں ؟ پاکستان کی ہی مثال لے لیجیے  دو کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر کہرام مچ گیا ہے۔ لوگوں کو نفسیاتی طورپر ڈرا یا جا رہا ہے ۔چین کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ معاشی طور پر کتنا آگے بڑھ رہا ہے اور اب تقریبا ایک ارب چالیس کروڑ لوگوں کے ملک میں اسی ہزار کے قریب متاثرہ افراد کو جواز بنا کر چین کو کس طرح سے پیش کیا جا رہا ہے ؟  ایسا تو نہیں کہ چین نے اکتالیس سال پہلے اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی اپنا کر ترقی کا جو سفر شروع کیا  اسے متاثر کرنے کی کوشش ہورہی ہے ؟  کرونا وائرس کا پھیلائو کہیں بیالوجیکل وار تو نہیں؟ہم  ،یعنی  پرنٹ ، الیکٹرنک اور  سوشل میڈیا  کے لوگ اندھی تقلید کی زد میں تو نہیں آرہے کہ  وقت گزرنے کے ساتھ ہمیں پتہ چلے کہ تصویر وہ نہیں جو دکھائی گئی۔ لیکن اس کا ہرگز یہ بھی مطلب نہیں کہ کرونا وائرس کو نظر انداز کر کے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خوفزدہ ہو کر چین کے لوگوں سے دوری اختیار نہ کی جائے۔  مسئلہ صرف ووہان میں ہے( جو کہ بتدریج کم ہو رہا ہے) نہ کہ تمام چینی لوگوں میں  اس وقت ووہان کے علاوہ چین کے کسی بھی شہر میں روزانہ کیسسز کی تعداد دس سے کم ہے اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ حل کے قریب ہے ۔اس وائرس کی آڑ میں دوسرا پہلو جو سامنے آیا ہے وہ ہے پروپیگنڈا۔ جنوری کے شروع میں جب کرونا وائرس کا مسئلہ سامنے آیا تو اسے مذہب کے ساتھ تو کبھی کھانوں کی عادات کے ساتھ جوڑا گیا جس کی طب نے تصدیق نہیں کی بلکہ اسے ایک بیماری کہا گیا جو کسی کوبھی لگ سکتی ہے۔ اس سارے پس منظر میں بہت سارے سوالات جنم لیتے ہیں خاص طور پر اس وائرس کی آڑ میں بیالوجیکل وار تو نہیں ؟ اس پر سنجیدگی سے سوچنے اورسمجھنے کی ضرورت ہے۔   ڈین کورنٹز (Dean Koontz) کا 1981 میں  The Eyes of Darknes ناول شائع ہوا اور 1996 میں اسی ناول کا دوسرا مجموعہ شائع ہوا جسے Wuhan- 400  کا نام دیا گیا ۔ یہ ناول کیا ہےاور اس کو سمجھنا کتنا ضروری ہے؟

 



تبصرہ کریں