جمعرات ۰۹ جولائی۲۰۲۰

انجینئر اسماعیل کی جیت نہیں علاقے میں نفرت کی فصل بونے کا آغاز

بدھ, ۰۱   اپریل ۲۰۲۰ | ۰۷:۳۶ شام

تحریر : فدا حسین

گلگت بلتستان سے پاکستان پیپلز پارٹی کے جنرل سیکریڑی اور ضلع گانچھے حلقہ نمبر 3اور گلگت بلتستان 24سے انجینئر محمد اسماعیل انتخابات میں حصہ لیتے ہیں ۔ انہوں نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد جعفر کو شکست دینے کے بعدپیپلز پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔اس بات کو کم از کم 20سال گزر چکے تھے جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو ناقابل شکست تصور کرنے لگے اس سوچ کو عملی طور پر تبدیلی کرنے کی ہمت کسی بھی نہیں ہو رہی تھی اتنے میں محمد شفیق نے سال 2005پاکستان مسلم لیگ ق کے ٹکٹ سے انجینئر اسماعیل کے خلاف میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ۔مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ جس کے بعد 2010میں دوبارہ انتخاب لڑا اس میں بھی انہیں شکست کا سامنا ہوا تاہم 2015کے انتخابات انہیں کامیاب قرار دیا گیا یوں انجینئر اسماعیل کے ناقابل شکست ہونے کا تاثر ختم ہو گیا۔تاہم انجینئر اسماعیل نے اپنی شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے نتائج کو الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کر دیا مگر فیصلے کو کئی بار التوا میں رکھنے کے بعد بلاآخر گزشہ روزاسماعیل کو ایک ووٹ سے کامیاب قرار دیا گیا ۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ شفیق کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے ہوئے 2مہینہ مکمل ہونے والا ہے ۔اس فیصلے کو انجینئر اسماعیل کے حامی حق کی فتح قرار دے رہے ہیں تو ان کے مخالفین فیصلے پر کڑی تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ انجینئر اسماعیل کے حامیوں کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔انجینئر اسماعیل کے حامی جس انداز میں اس پر خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ یہ لوگ اس فیصلے سے مستقبل میں علاقے پڑنے والے منفی اثرات سے نابلد ہیں جس کا واضح اشارہ اس وقت سوشل میڈیا پر جاری بحث سے لگایا جا سکتا ہے۔

 

   یہ فیصلہ جہاں عدالتی نظام پر طمانچہ ہے اسی طرح یہ فیصلہ علاقے میں نفرت کو پرواں چڑھانے کا اہم ذریعہ بھی ہے ۔ کیونکہ فیصلہ سیاست کے سینے میں دل نہ ہونے کے تاثر مزید تقویت پہنچائے گا۔ شفیق کے حامی کہیں گے مخالفین نے قبر تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑا ۔ وہ یہ بھی کہیں گے کہ انجینئر اسماعیل نے شفیق کی وفات پر جو چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا وہ محض اپنی سیاست چمکانے کے لئے منافقت کے سوا کچھ نہیں۔ جس کا آگے چل کر نقصان یہ ہوگا کہ آئندہ کسی بھی قسم کی مفاہمت کی جگہ بھر پور نفرت کے سیاست کی جائے گی جس کا منطقی انجام خاکم بدہن کو خون کی صورت میں نظر آرہا ہے ۔   اب تک ضلع گانچھے باہمی پیار و محبت و اخلاص کی وجہ سے اپنی پہچان رکھتا ہے جہاں پر کسی سے اختلاف ہو تو محض مخالف کی زندگی تک محدود ہے اس کا عملی ثبوت ہم نے مسلک نوربخشیہ کے ایک سخت گیر رہنما فقیر محمد ابراہیم کی ناگہانی موت کے وقت مشاہدہ کیا تھا اس میں تمام مسلک کے لوگ بلاتفریق ان کے جنازہ میں شامل ہوئے تھے اس سے پہلے یہ مظاہرہ مسلک نوربخشیہ کے ایک عالم دین مفتی محمد عبداللہ کی طبعی موت کے وقت بھی ہوا تھا ۔     اس فیصلے کے تحت اسمبلی کا حلف لینے کی صورت میں ضلع گانچھے امن کی اس دولت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہو جائے گا۔ یہ بات پاکستان پیپلز جو وقت مفاہمت اور عدم تشدد کی سیاست یقین رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے ان کی اس بنیادی پالیسی کے بھی خلاف ہے اس لئے انجینئر اسماعیل صاحب اس فیصلے کو اپنی کامیابی سمجھنے کے بجائے علاقے نفرت کی فصل بونے کا آغاز سمجھ کر غیر مشروط طور دستبرداری کا اعلان کرنا چاہیے اگرچہ یہ اعلان انہیں شفیق کے موت کے فورا بعد ہی کر دینا چاہیے تھا مگر ابھی وقت ہے کہ اسمبلی ممبر بننے کا حلف لینے کے بجائے یہ کہے میں چونکہ ہمارا مقابلہ شفیق سے تھا اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے اس لئے میں اس پر فیصلے کے بنیا د پر حلف نہیں لوں گا اس سے ان کے سیاسی قد کاٹھ کسی حد تک اضافہ ہو جائے گا اگر وہ شفیق کی وفات کے فورا بعد ہی کرتے تو بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ۔   اگرچہ انجینئر اسماعیل ایسا کوئی اعلان کرتے ہیں تو اس کا تحریک انصاف کو وقتی طور پر ضرور نقصان ہوگا کیونکہ انہیں اس سے سیاسی پوائنٹ سکورنک کا موقع نہیں ملے گا جیسے کہ ہمارئے برخوردار بھائی فاچومحمد یوسف نے سید شمس الدین کی مچلو میں شفیق کی خلا پر کرنے کے بیان پر تنقید کے جواب میں اسلام آباد میں انجینئر اسماعیل کی ایک تصویر کولیکر کیا تھا ۔ایسے لوگوں کی یہ کوشش ہوگی کہ کسی طرح اس معاملے کا اچھالا جائے انہیں ابھی اس نتائج کا اندازہ نہیں ہے ۔ یہ فیصلہ جہاں عدالتی نظام کو سوالیہ نشان ہے وہ مبادا کہیں شفیق صاحب کو غلط الفاظ سے یاد کرنا شروع کریں ۔ دوسری بات یہ ہے اسمبلی کے لئے صرف دو مہینے کی مدت رہ گئی ہے اس لئے ان ممبر اسمبلی کا حلف اٹھانا صرف نمائشی ہوگا۔اس لئے دانشمندی کا تقاضا ہے کہ انجینئر اسماعیل علاقے میں نفرت کی فصل بونے سازش کوسمجھتے ہوئے آرام سے آئندہ انتخابات کے تیاری جاری رکھیں۔

تبصرہ کریں