جمعرات ۲۲ اکتوبر۲۰۲۰

مولویوں کی دعوت، جھوٹا میڈیا اور اجڑا چمن

بدھ, ۲۹   اپریل ۲۰۲۰ | ۰۱:۲۵ شام

تحریر: فدا حسین

ایک دفعہ کسی نے چند مولویوں کی اپنے گھر پر دعوت کی  ان میں سے جب کوئی باہر جاتا دوسرے صاحبان اس کے متعلق کہتے کہ  یہ تو بالکل بیل ہے بیل، جب دوسرا نکلتا تو کہا جاتا کہ یہ تو گدھا ہے گدھا۔ یوں سب ایک دوسرے کو کسی نہ کسی جانور سے تشبہہ دیتے رہے۔ میزبان ساروں کی بات سنتے رہے۔ جب کھانے کا وقت آیا تو دستر خوان پر گھاس بھوسا اور چارہ وغیرہ رکھ دیا گیا اس پر مہمانوں نے حیرت کا اظہار کیا تو میزبان نے جواب دیا کہ آپ لوگوں نے ایک دوسرے کی جو خوبیاں بیان کی تھیں اسی کے مطابق آپ کے لئے کھانا تیار کیا گیا ہے۔حالیہ ایک بیان مین مولانا طارق جمیل صاحب کا میڈیا کو جھوٹا کہنا بھی بالکل ایسا ہی ہے۔

 

           کیا ہم بھول گئے کہ شعیب شیخ نے پاکستان میں بول نیوز شروع کیا تو دوسرے میڈیا ہاوسز کس طرح ان کے پیچھے  پڑے رہے؟ اے آر وائی اور جنگ جیو ایک دوسرے کے خلاف جس طرح کی رپورٹنگ کرتے ہیں کیا دونوں چینلز پرایک دوسرے کے خلاف ہونے والی رپورٹنگ سچ ہے؟ دنیا ٹی وی پر معروف سرمایہ کار ملک ریاض کے حوالے سے مہربخاری اور مبشر لقمان کے پروگرام کو کس کھاتے میں ڈالا جائے؟    

 

                آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی حامد میر صاحب کا کہنا تھا کہ اس وقت  پاکستان میں صرف غیر اعلانیہ سنسرشپ عائد نہیں بلکہ غیر اعلانیہ مارشل لاء نافذہے ۔ ایسا عجیب و غریب مارشل لاء جس میں پارلیمنٹ موجود ہے، عدالتیں بھی موجود ہیں اور ٹی وی چینلز پر آپ کو میں اور عاصمہ شیرازی سوالات کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن پیچھے سے پارلیمنٹ، عدلیہ اور میڈیا کوئی اور کنٹرول کر رہا ہے تاکہ کوئی ایسا بیانیہ نہ بن پائے جس سے ان کے مفادات کو ٹھیس پہنچے ۔

 

                   اب حامد میر صاحب سے یہ کون پوچھے کہ حضور آپ طارق جمیل صاحب سے ساروں کے بارے میں غلط فہمی پیدا کرنے کے بجائے نام لینے کا مطالبہ کرتے ہیں مگرآپ خود ایسی پابندی عائد کرنے والی طاقتوں کا نام نہیں لیتے۔ کیوں؟ آپ کو آئی ایس پی آر کی طرف سے منظور پشتین کو پروگرام میں بلانے کی  اجازت نہ ملنے سے وقتا فوقتا منعقد ہونے والے پشتوں تحفظ موونٹ کے جلسوں کو نہ دکھانے کا جواز تو قابلِ فہم ہے مگر دوسرا سوال یہ ہے کہ آپ نے اپنے ادارے میں تنخواہیں  نہ ملنے پر احتجاج کرتے ملازمین کے لئے کتنے پروگرام کئے؟ کیا اس کے لئے بھی آئی ایس پی آر سے اجازت درکار ہوتی ہے؟  

 

                   یہ معاملہ صرف جنگ جیو، یا حامد میر تک محدود نہیں ہے۔ جس وقت بول نیوز کے صدر سمیع ابراہم صاحب کرونا ریلیف فنڈ کے لئے منعقدہ ٹیلی تھون میں موجود تھے تو ادھر صحافیوں کا سوشل میڈیا پر  بول نیوز کے صحافیوں کو تنخواہ نہ دینے کے الزام میں احتجاج جاری تھا۔ کیا کسی نے سمیع ابراہیم کو اپنے ٹیلی ویژن پر اس موضوع پرگفتگو کرتے کراتے دیکھا ہے؟ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر شکیل قرار کے مطابق نائنٹی ٹو نیوز نے ایک طرف انگریزی اخبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو دوسری طرف مبینہ طور پر کچھ صحافیوں کو نوکریوں سے برخاست کیا ہے ۔ کیا اس پر کہیں بات ہو رہی ہے ؟سچ نیوز کے پرگرام میں مہمان نوید ستی نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن صاحب پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد کئے تو پروگرا م کے میزبان رانا عدیل کو ہی نوکری سے برخاستگی کا پروانہ تھما دینے کو کیا نام دیا جائے؟ 

 

 

                   سلیم صافی صاحب اپنے پروگرام میں مولانا طارق جمیل کے ساتھ گفتگو میں جھوٹ بولنے کااعتراف کرتے ہیں۔سپریم کورٹ بار میڈیا ایسوی ایشن کے سیکریڑی اطلاعات ابرار حسین استوری صاحب کہتے ہیں کہ ان سے واقعاتی رپورٹنگ کے بجائے مخصوص انداز میں رپورٹنگ کروائی جاتی ہے ۔

 

 

                     اب صحافیوں کے اپنے کارناموں کی جانب ذرا آئیے کہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں چھانٹی کے نام پر راقم سمیت کئی صحافیوں کو مشکوک قرار دے کر ممبرشپ ختم کر دی گئی حالانکہ اس کی وجہ سیاسی تھی ۔ اس صورتحال میں مولانا طارق جمیل کی بات پر ناراضگی چورکی داڑھی میں تنکا نہیں تو اور کیا ہے ورنہ انہوں نے ایسی کون سے بات کی تھی جو صحافتی دنیا میں نہیں ہوتا ؟

 

                        اب اجڑے چمن اور عمران خان کو آخری امید قرا ر دینے کی  طرف آجائیے ۔یہ وہ باتیں ہیں جس پر ذاتی طور پر مجھے بھی دکھ اور اعتراض ہے مولانا صاحب کو یہ بات ہرگز نہیں کرنی چاہیے تھی ۔ اعتراض اس وجہ سے نہیں کہ سابقہ حکومت نے بھرا ہوا خزانہ حکومت کے حوالے کیا ہو اور مولانا صاحب جھوٹ بول رہے ہوں بلکہ مولانا صاحب کی اس بات سے خوشامد کی بوآتی ہے جو کہ مولانا طارق جمیل جیسی شخصیت کو ہرگز زیب نہیں دیتی۔ یہ وہ الزام ہے جو ہر نئی حکومت سابقہ حکومت پر عائد کرتی آئی ہے ۔ ایسے بیان پرحزب اقتدار کی خوشی اور حزب مخالف کی ناراضگی دونوں فطری ہے ۔ اس بات کو آسانی سمجھنے کے لئے 6یا9میں سے ایک عدد کو ٹیبل پر آمنے سامنے بیٹھے دو اشخاص کے درمیان رکھیں  وہ  عدد  دونوں کو مختلف نظر آئے گا ایک شخص کہے گا یہ 6 ہے تو دوسرا شخص ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اسے 9 قرار دے گا۔         

 

                      حامد میر صاحب نے مولانا صاحب کی نواز شریف سے لگائی گئی امید یاد دلائی ہے تو کسی نے خواجہ سعد رفیق صاحب کے لئے کی گئی دعا کو سوشل میڈیا کی زینت بنا کر اپنے تئیں مولانا کو آئینہ دکھانے کی سعی کی ہے معلوم نہیں کہ ایسی سعی کرنے والوں کے اپنے کردار میں کتنے تضادات ہوں گے۔

 

 

                      اب تو میری قوم کی بیٹیوں کو کس نے نچایا پر عمران خان کے ہی جلسے میں شریک خواتین کا رقص جوڑ کر اجڑے چمن کی بات پر خوش ہونے والے ہمارئے انصافی بھائیوں کی خوشیوں کو بھی مخالفین نے غارت کردی ہے۔

تبصرہ کریں