بدھ ۰۵ اگست۲۰۲۰

سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا باضابطہ طور پر ختم

بدھ, ۲۰   مئی ۲۰۲۰ | ۰۲:۴۳ شام

سعودی عرب نے باضابطہ طور پرمجرموں کو تعزیر میں کوڑے مارنے کی سزا ختم کردی ہے۔

تعزیر کے زمرے میں ایسے جرائم آتے ہیں جن کی شریعت اسلامی نے سزا (حد) مقرر نہیں کی ہے اور قاضی (جج) قرآن وسنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے ان کی سزاؤں کا تعین کرسکتا ہے۔ سعودی عرب کی وزارتِ عدل نے ٹویٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اب کوڑوں کے متبادل کے طور پر جیل یا جرمانے یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔ عدالتیں مقدمات کی سماعت کریں گی، ان کا جائزہ لیں گی اور ہر مقدمے کا اس کی نوعیت کے اعتبار سے منصفانہ فیصلہ کریں گی۔‘ عرب خبررساں ادارے کے مطابق اس ضمن میں سعودی عرب کے وزیر انصاف ولید السمعانی نے  گزشتہ روز  تمام عدالتوں کو ایک سرکلر جاری کیا جس میں عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے کہ عدالتوں کو تعزیر کے طور پر اب کوڑے لگانے کی سزا دینے کے بجائے قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دینا ہوں گی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کی عدالتِ عظمیٰ نے اپریل میں ماتحت عدالتوں کے نظام میں ایک شاہی فرمان کے تحت کوڑوں کی سزا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس حوالے سے عدالتِ عظمیٰ کے جنرل کمیشن نے عدالتوں کے لیے رہنما اصولوں پر مبنی ایک ہدایت نامہ جاری کیا تھا۔ سعودی عرب کے انسانی حقوق کمیشن نے کوڑوں کی سزا کے خاتمے کا خیرمقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ایک اہم عدالتی اصلاح ہے۔ اس کا شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد کی براہِ راست نگرانی میں نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ یہ گذشتہ پانچ سال کے دوران میں کی جانے والی انسانی حقوق کی 70 اصلاحات میں سے ایک ہے۔ کمیشن کے مطابق: ’اس عدالتی اصلاح سے سعودی عرب میں مقیم شہریوں اور مکینوں کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ خواتین، ورکروں، نوجوانوں اور ضعیف العمر افراد سمیت سب کا معیار زندگی بلند ہوگا۔‘ سعودی کمیشن کا کہنا تھا کہ مملکت میں ایک عرصے سے اس بات پر اتفاق رائے پایا جا رہا تھا کہ کوڑوں کی سزا موجودہ صورت حال سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی ہے۔ بہت سے مقدمات میں تو جج خود ہی قانون کی تشریح کرتے ہوئے ملزموں کو کوڑے مارنے کی سزا سنا رہے تھے۔ واضع رہے سعودی عرب میں مختلف قسم کے جرائم پرکوڑے مارنےکی سزا دی جاتی تھی جب کہ دیگر جسمانی سزا، جس میں چوری کے جرم میں ہاتھ کاٹنے، سزائے موت یا قتل اور دہشت گردی کے جرم میں سر قلم کرنے کی سزائیں ہیں تاہم اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

تبصرہ کریں