بدھ ۰۵ اگست۲۰۲۰

امریکہ میں احتجاج جاری، پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمات درج

جمعرات, ۰۴   جون ۲۰۲۰ | ۱۱:۲۵ صبح

امریکہ میں سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد 50 ریاستوں میں پابندیوں کے باوجود مظاہرے جاری ہیں جبکہ جارج فلوئیڈ کی ہلاکت میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کے مقدمات درج کر لیے گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سیاہ فام شہری کے قتل کے خلاف امریکہ کی 50 ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں جبکہ کچھ شہروں میں پرتشدد مظاہرے بھی ہو رہے ہیں۔ کئی شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم بھی ہوا۔ پورٹ لینڈ، اٹلانٹا اور نیویارک سمیت کئی شہروں میں پولیس نے مرچوں کے اسپرے، آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کرتے ہوئے سیکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا جبکہ ریاست میسوری میں سابق پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔ نسل پرستی کے خلاف مظاہروں کے نتیجے میں لاس اینجلس اور نیویارک سمیت متعدد امریکی شہروں میں ہزاروں افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئیک رسپانس فورس بھی الرٹ کر دی گئی ہے۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں پولیس کی مدد کے لیے سولہ سو فوجی تعینات کر دیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں امریکا کی متعدد ریاستوں میں پھیل جانے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے احتجاج کرنے والے شہریوں کو مقامی دہشت گرد سے تعبیر کرتے ہوئے ان پر لوٹ مار کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب واقع ایک تاریخی چرچ جانے والے مذہبی رہنماؤں اور مظاہرین پر غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ دوسری جانب عوامی احتجاج کے سامنے امریکی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑ گئے۔ جارج فلوئیڈ کی ہلاکت میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ جارج فلوئیڈ کی گردن گھٹنے سے دبانے والے پولیس افسر پر سکینڈ ڈگری مرڈر چارج لگائے گئے ہیں جبکہ دیگر تین پولیس افسران کے خلاف بھی تشدد کر کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اٹارنی جنرل مینیسوٹا  کے مطابق اہلکار کیونگ کو بدھ کو حراست میں لیا گیا اور چوتھے پولیس افسر ڈیرک چائیون کو پچھلے ہفتے گرفتار کیا گیا۔

تبصرہ کریں