بدھ ۰۵ اگست۲۰۲۰

انڈونیشیا کے بعد ملائیشیا کا بھی شہریوں کو حج پر نہ بھیجنے کا اعلان

جمعہ, ۱۲   جون ۲۰۲۰ | ۰۱:۳۸ شام

کورونا وائرس کے پیش نظر اہم اسلامی ملک ملائیشیا نے بھی اپنے شہریوں کو رواں برس حج کے لیے سعودی عرب نے بھیجنے کا اعلان کردیا۔

سوا تین کروڑ سے زائد آبادی والے ملک ملائیشیا کی 60 فیصد آبادی مسلمان ہے اور ہر سال وہاں سے 30 سے 31 ہزار عازمین فریضہ حج کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں۔ ملائیشیا کی حکومت نے شہریوں کو حج پر نہ بھیجنے کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب کہ گزشتہ ہفتے ہی مسلمان آبادی والے سب سے بڑے ملک انڈونیشیا نے بھی شہریوں کو حج پر نہ بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ انڈونیشیا کی حکومت نے 2 جون کو تصدیق کی کہ رواں سال کورونا کے باعث ان کے سوا 2 لاکھ عازمین فریضہ حج کی ادائگی کے لیے سعودی عرب نہیں جا سکیں گے۔ انڈونیشیا کے اعلان کے ایک ہفتے بعد ملائیشیا کی حکومت نے بھی رواں سال فریضہ حج کے منصوبے کو منسوخ کردیا۔ ملائیشیا کے وزیر مذہبی امور ذولقفلی محمد البقری نے تصدیق کی کہ اس سال کوئی بھی ملائیشیائی شہری حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب نہیں جائے گا۔ وزیر مذہبی امور کے مطابق کورونا کی وبا کے باعث 31 ہزار 600 عازمین کی حفاظت کے لیے رواں سال حکومت نے حج منصوبے کو منسوخ کیا ہے اور انہیں امید ہے کہ عازمین حکومتی فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ وزیر مذہبی امور کے مطابق کورونا کی وبا کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے تحت حج منصوبے کو منسوخ کیا گیا ہے اور آئندہ سال ان عازمین کو ترجیح دی جائے گی جو رواں برس حج پر نہیں جا سکیں گے۔ دنیا بھر کے اسلامی ممالک سے ہر سال 20 لاکھ سے زائد عازمین فریضہ حج کی ادائگی کے لیے سعودی عرب کے مقدس مقامات کی جانب سفر کرتے ہیں۔ حج اسلام کے فرائض میں سے ایک ہے اور ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ زندگی میں کم از کم ایک بار فریضہ حج ادا کرے۔ پاکستان سے بھی ہر سال ایک لاکھ کے قریب عازمین فریضہ حج کی ادائگی کے لیے سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں، تاہم حکومت نے اب تک رواں سال کے حج منصوبےکے حوالے سے کوئی واضح اعلان نہیں کیا۔ کورونا کے پھیلاؤ کے باعث سعودی عرب کی حکومت نے بھی گزشتہ ہفتے عندیہ دیا تھا کہ رواں سال حج کو محدود کیا جا سکتا ہے۔  

تبصرہ کریں