منگل ۲۲ اکتوبر۲۰۱۹

بھارتی پروفیسر نے پلاسٹک سے پیٹرول بنا ڈالا

پیر, ۰۸   جولائی ۲۰۱۹ | ۰۳:۳۲ شام

پلوشہ اقبال:طالب علموں کو مکینیکل انجینئرنگ پڑھانے والے پروفیسر ستیش کمار نے پلاسٹک سے پیٹرول تیار کر کے سب کو حیران کر ڈالا۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق طالب علموں کو مکینیکل انجینئرنگ پڑھانے والے پروفیسر ستیش کمار نے پلاسٹک سے پیٹرول تیار کر کے سب کو حیران کر دیا ۔انہوں نے  پلاسٹک پائرولیسس نامی تین سطحی عمل  کا استعمال کرتے ہوئے پلاسٹک سے پیٹرول تیار  کر لیا۔اس طریقہ کار میں پلاسٹک کو ری سائیکل کیا جاتا ہے اور پھر اس سے ڈیزل،ایویشن فیول اور پیٹرول تیار کیا جا سکتا ہے۔پروفیسر ستیش کمار کے مطابق اس طریقہ کار کے تحت ایسے پلاسٹک سے بھی پیٹرول تیار کیا جا سکتا ہے جسے ری سائیکل کرنا ناممکن ہوتا ہے اور 500کلو گرام ایسا پلاسٹک جسے ری سائیکل نہیں کیا جا سکتا اس سے 400 لیٹر پیٹرول تیار کیا جا سکتا ہے۔پروفیسر کا کہنا ہے کہ پلاسٹک سے پیٹرول تیار کرنے کے اس طریقے میں نہ پانی استعمال ہوتا ہے اور نہ ہی خارج ہوتا ہے۔اس طریقہ کار کی وجہ سے فضا بھی آلودہ نہیں ہوتی کیونکہ سب کچھ ویکیوم میں ہوتا ہے۔پلاسٹک سے پیٹرول تیار کرنے اور اسے قانوناً فروخت کرنے کے لیے پروفیسر ستیش کمار نے ایک کمپنی بھی چھوٹے پیمانے کی صنعت سے متعلق وزارت میں رجسٹرڈ کرائی ہے۔ایک مقامی انڈسٹری 50/40روپے  فی لیٹر کے حساب سے پروفیسر ستیش کمار کا تیار کردہ  پیٹرول باقاعدگی سے خریدتی ہے۔بھارت میں پیٹرول کی سر کاری قیمت اس سے دوگنی ہے۔پروفیسر ستیش کمار کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ منصوبہ اس لئے شروع کیا تھا  تا کہ ماحول کو فضائی آلودگی سے پاک رکھا جا سکے اور اس کا قطعی مقصد تجارتی بنیادوں پر پیٹرول کی تیاری نہیں تھی۔بھارت کے ذرائع ابلاغ کے مطابق پروفیسر ستیش کمار کی کمپنی روزانہ 200 کلو گرام پلاسٹک سے200لیٹر پیٹرول تیار کر رہی ہے۔    

تبصرہ کریں