پی ٹی آئی

پی ٹی آئی کو کورال چوک اسلام آباد سے چک بیلی موڑ روات تک ریلی نکالنے کی اجازت مل گئی

پی ٹی آئی کو کورال چوک اسلام آباد سے چک بیلی موڑ روات تک ریلی نکالنے کی اجازت مل گئی

اسلام آباد (نمائندہ آراین این ) پاکستان تحریک انصاف کو اسلام آباد میں ریلی نکالنے کی اجازت مل گئی ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور پا کستان تھریک انصاف کے رہنما علی نواز اواعوان کے درمیان ملاقات کے بعد انتظامیہ نے انہیں کورال چوک سے چک بیلی موڑ روات تک ریلی نکا لنے کی اجازت. ریلی کے لئے باقائدہ این او سی جاری کر دی گئی ہے. چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے گزشتہ روز پا کستان تحریک کے وکیل کو کہا تھا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد میں جلسے کے لئے اسلام آباد انتظامیہ کو دوبارہ خط لکھیں. چیف جسٹس کےحکم کے بعد پی ٹی آئی قیادت نے انتظامیہ کو خط لکھی تھی جس پر انہیں اجازت دی گئی ہے.
اس قبل آزادی مارچ کی سیکورٹی کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئی جی اسلام آباد پولیس کی جانب سے رپورٹپیش کی گئی جس میں پولیس کی جانب سے پی ٹی قیادت پر 25 مئی کے روز یقین دہانی کے باوجود ریڈ زون میں داخل ہونے کا الزام دہرایا گیا تھا. رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے سابق وفاقی وزیر و رہنما فیصل واوڈانے پہلے ہی اس بات کا اظہار کر چکا ہے کہ یہ مارث کونی مارچ ہے جبکہ متعدد دفعہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ان پر دوبارہ حملہ ہوسکتا ہے. پی ٹی آئی کے چئیرمین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ان کے بقول ان کے پاس بھی مسلح لوگ موجود ہیں. آئی جی اسلام آباد پولیس نے کہا کہ پولیش مشروط طور پر سکیورٹی فراہم کرے گی.
عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں علی امین گنڈاپور اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات کا ذکر بھی ہے . اسلام آباد پولیش کے سربراہ نے کورٹ کو تجویز پیش کیا ہے کہ پی ٹی آئی سے فنانشل گارنٹی بھی لی جا سکتی ہے کہ کوئی نقصان نہ ہو، پی ٹی آئی مطلوبہ ضمانت دے دے تو کنٹینرز بھی رکھنے کی ضرورت نہیں ہو گی، عدالتی فیصلوں کےمطابق ہی پی ٹی آئی کو احتجاج کی اجازت دی جائے، مطلوبہ شرائط کے مطابق احتجاج ہوا تو سکیورٹی دینے کو تیار ہیں۔

#rnn

یہ بھی پڑھیں۔

3 Pride

کلائمیٹ جسٹس اور انرجی ٹرانزیشن کے موضوع پر صحافیوں کی تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر 

کلائمیٹ جسٹس اور انرجی ٹرانزیشن کے موضوع پر صحافیوں کی تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے