پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق

کمیشن برائے انسانی حقوق ، پی ایم ایچ کاخصوصی افراد کی شمولیتی ترقی کے لیے اقدامات کا مطالبہ

 

آنکھوں سے محروم زاہد عبداللہ نے خصوصی افراد کے لئے وہ کام کیا جو کوئی آنکھوں والا نہیں کر سکا، یہ بصارت سے محروم بصیرت والے افراد ہیں: فرحت اللہ بابر

اسلام آباد(فداعلی شاہ غذری) پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق

) اور پوٹھوہار مینٹل ہیلتھ ایسوسی ایشن کے ایک پالیسی ڈائیلاگ میں انسانی حقوق کے علمبردار سابق سنیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ یہ ریاست اور معاشرہ خصوصی افراد کے معاملے میں حساس نہیں ہیں اور معاشرے کا رجحان بہت خطرہ ناک ہے کہ جس میں ایک صوبے کا وزیر خصوصی افراد کی پیدائش کو خدا کی طرف سے سزا قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سماج میں اصتلاحات کو بدلنے کی ضرورت ہے جہاں توہین آمیز الفاظ سے ان افراد کو نوازا جاتا ہے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس ملک کے سیاسی پارٹیوں کے مینی فیسٹومیں ان افراد کے لئے خاص چیپٹر رکھے اور وعدے کرے تاکہ ان کی زندگی آسان ہوسکے۔ انہوں نےکہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے منشور میں کئی صفحات شامل ہے مگر آج تک وہ وعدے ایفا نہ ہوسکے۔ فرحت اللہ بابر نے

ذوالقرنین اصغر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر پارٹی کو مجبور کرے کہ منشور میں ان افراد کا ذکر ہو اور پی پی پی سے مطالبہ کریں کہ وہ اپنے وعدے تکمیل کو پہنچائے۔خصوصی افراد کے حقوق کے لئے طویل جنگ لڑنے والے زاہدعبداللہ نے بھی مطالبہ کیا کہ پاکستان میں خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کی ترقی کے لیے ٹھوس قانونی و انتظامی اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔
شرکاء نے حکومت سے پی ایل ڈبلیو ڈیز کا ملک گیر مردم شماری کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ ان کی ترقی کے لیے مالی وسائل کا بہتر استعمال ہو سکے۔ انہوں نے کے لیے مجالس قانون ساز اور پالیسی ساز اداروں میں پی ایل ڈبلیو ڈیز کی مؤثر نمائندگی نہ ہونے پر، خاص طور پر کے پی اور بلوچستان میں، بھی افسوس کا اظہار کیا۔

مقررین نے ریاست و سماج دونوں سے مطالبہ کیا کہ پی ایل ڈبلیو ڈیز کو ‘معذور’ کی بجائے مختلف انداز سے قابل افراد کے طور پر دیکھا جائے، اور انسانی حقوق کے تمام دفاع کاروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ایک منظم تحریک چلائیں تاکہ ریاست پی ایل ڈبلیو ڈیز کی فلاح و بہبود کرنے کے لیے مجبور ہو اور ایسا مؤثر نظام وضع کرے جس سے پی ایل ڈبلیو ڈیز کو گھر، تعلیمی اداروں، اسپتال، بینک اور صنعتوں سمیت تمام جگہوں پر مرکزی دھارے کی آبادی کے ساتھ گُھل مِل کر رہنے میں مدد مِل سکے چاہے گھر ہو یا تعلیمی ادارے یا اسپتال، بینک یا صنعتیں ہوں۔ اس کے علاوہ، سرکاری و نجی شعبوں کی عمارتوں کو بطورِ پالیسی پی ایل ڈبلیو ڈیز کے لیے قابل رسائی بنایا جائے۔
کئی مقررین نے نشاندہی کی کہ معذوریوں کی بروقت تشخیص سے بروقت علاج ممکن ہو جاتا ہے اور نتیجتاً کئی معذوریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ معذوریوں سے متاثر عورتیں صنف اور معذوری کا دہرا بوجھ اٹھاتی ہیں۔

#rnn

یہ بھی پڑھیں۔

افغان خواتین

افغان خواتین کا طالبان کے خلاف احتجاج، اسلام کے دعوی دار دینی تعلیمات کے خلاف جا رہے ہیں: خطاب

افغان خواتین کا طالبان کے خلاف احتجاج، اسلام کے دعوے دار دینی تعلیمات کے خلاف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے