ارشد شریف قتل کیس

ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کے حکم پرخصوصی جے آئی ٹی تشکیل دی گئی

ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کے حکم پرخصوصی جے آئی ٹی تشکیل دی گئی

اسلام آباد

ارشد شریف قتل کیس کی ازخود نوٹس سماعت کے تیسرے روز سپریم کورٹ کے حکم پر چار رکنی خصوصی جی آئی ٹی تشکیل دی گئی. ڈی آئی جی اسلام آباد اویس احمد، ڈائریکٹر سائبر کرائم ایف آئی اے وقارالدین سید، آئی ایس آئی سے محمد اسلم، آئی بی سے ساجد کیانی اور ایم آئی سے مرتضی افضل خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کےرکن ہیں.

سپریم کورٹ میں کیس کی سماعٹ کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کے حکم پر نئی جے آئی ٹی کی نوٹفکیشن عدالت کے سامنے لایا. گزشتہ روز چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے وفاقی حکومت کی طرف سے تشکیل پانے والی جے آئی ٹی کو مسترد کر کے دوبارہ نئی تحقیاتی ٹیم بنانے کا حکم دیاتھا. کل سپریم کورٹ میں شہید ارشد شریف کی والدہ کی طرف سے ایک رپورٹ درخواست کی صورت چیف جسٹس کو پیش کی گئی تھی جس میں ارشد شریف کے قتل کے حوالے کئی نکات شامل تھے جبکہ ان کی والدہ کی طرفس سے تین طاقتور ترین فوجی آفیسران سمیت دو مزید فوجیوں کا نام شامل کیاہے اور مطالبہ سامنے آیا ہے کہ ان پر ایف آئی کاٹی جا ئے.

چیف جسٹس کی سر براہی میں قائم بینچ کے ایک ممبر نے اٹارنی جنرل سے استفسات کیا کہ جے آئی ٹی اپنی رپورٹ کب تک مکمل کرکے عدالت کو آگاہ کرے گی جس پر کہا گیا کہ یہ سب کنیا کی پولیس پر منحصر ہے کہ وہ کیسا تعاون کرتی ہے. سپریم کورٹ مییں وزرات خارجہ کی طرف سے تحریری جواب بحی عدالت کو جمع کروا دی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ منسٹری طریقہ کار طے کر رہی ہے کہ کس طرھ عالمی اداروں کو بروئے کارلاکر کینیا کی حکومت سے تعاوب کی یقین دہانی کروائی جا سکی . کینای کی ھکومت اور صدر سے وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹیلفونک گفتگو کی ہے جس میں انہوں نے تعاون کا یقین دلایا ہے.

وزرات خارجہ کے خط میں مزید کہا گیاہے کہ کینیا میں پاکستانی ہائی کمیشن کو کیس کی تفتیش میں تیزی لانے کے لیے ہدایات جاری کی جارہی ہیں، دفتر خارجہ شواہد اور تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے دیگر قانونی آپشنز پر بھی غور کر رہا ہے، ارشد شریف قتل میں ملوث ملزمان کی کینیا سے پاکستان منتقلی پر بھی غور کیا جارہا ہے، متحدہ عرب امارات سے شواہد جمع کرنے اور قانونی معاونت کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست بھیج دی گئی ہے، دفتر خارجہ خصوصی جے آئی ٹی کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گا۔

گزشتہ روز ہونے والی سماعت سے قبل ارشد شریف کے بہیمانہ قتل کی تحقیقات سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ یہ قتل غلطی نہیں بلکہ مکمل منصوبہ بندی کی بنیاد پر کیا گیا۔

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی 592 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی آئی بی کے دستخط کے ساتھ جمع کرائی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کو منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا، کینیا پولیس نے قتل کی تحقیقات میں کوئی معاونت نہیں کی، کیس میں کئی غیر ملکی شخصیات کا کردار اہمیت کا حامل ہے، ارشد شریف کے کینیا میں میزبان خرم اور وقار کا کردار اس معاملے میں اہم اور مزید تحقیق طلب ہے

#rnn

Arshad Sharif murder case

یہ بھی پڑھیں۔

افغان خواتین

افغان خواتین کا طالبان کے خلاف احتجاج، اسلام کے دعوی دار دینی تعلیمات کے خلاف جا رہے ہیں: خطاب

افغان خواتین کا طالبان کے خلاف احتجاج، اسلام کے دعوے دار دینی تعلیمات کے خلاف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے