جرمنی

جرمنی 2026 تک پاکستان کے ہنر مندی کے شعبے میں اپنا کام جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے: سفارت کار

یورپی یونین، جرمنی اور ناروے کے اشتراک سے لاہور میں سینٹر آف ایکسی لینس کاقیام عمل میں لایا گیا

لاہور
صوبہ پنجاب میں سکلز سیکٹر میں بہتری کی غرض سے یورپی یونین، جرمنی اور ناروے نے ایک جدید ترین سینٹر آف ایکسی لینس (CoE) برائے ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (TVET) بنا کرحکومت پنجاب کے حوالے کیا۔ اس مرکز کو صوبے میں نوجوانوں اور تدریسی عملے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز اور تربیت کے مواقعوں سے لیس کیا گیا ہے۔
یہ نئی سہولت ایک موجودہ TVET سینٹر کی اپ گریڈیشن کا نتیجہ ہے جسے TVET سیکٹر سپورٹ پروگرام اور یورپی یونین (EU)، جرمنی کی وفاقی وزارت برائے اقتصادی تعاون اور ترقی (BMZ) اور ناروے کی حکومت کی جانب سے فنڈ زفراہم کئے گئے ہیں۔

آنے والے سالوں میں یہ سہولت ایک تربیتی ماحول تیار کرے گی جو ایک قابل اور مسابقتی افرادی قوت تیار کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔ یہ مرکز اساتذہ کی سلسلہ وار تربیتی ماڈل پر تربیت اور نوجوانوں کو ہنر مندی کی تربیت فراہم کرنے کے لیے اس خطے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس سینٹر میں جدید لیب کی سہولیات، کیرئیر کاؤنسلنگ اور جاب پلیسمنٹ کی خدمات ایک ہی چھت کے نیچے دستیاب ہوں گی۔

تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے چیف آپریٹنگ آفیسر TEVTA پنجاب، اختر عباس بھروانا نے ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کو ایک مکمل اور فعال سینٹر آف ایکسی لنس میں تبدیل کرنے کے لیے ترقیاتی شراکت داروں اور ڈونرز کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ” صوبائی حکومت اور ٹیوٹا پنجاب ذمہ داری کے ساتھ ان وسائل اور جدید مشینری کا استعمال کریں گے۔ یہ سہولت نہ صرف پنجاب میں نوجوانوں کے لیے بلکہ اساتذہ کے لیے بھی سیکھنے کے مواقعوں کی نئی راہیں کھولتی ہے”۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، پاکستان میں یورپی یونین کے وفد کے تعاون کے سربراہ اووی ڈیو مائیک نے کہا کہ TVET” کا شعبہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں یورپی یونین کے لیے بدستور ایک ترجیحی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنے جدید ترین آلات کے ساتھ، یہ مرکز ایک نیا وژن مرتب کرتا ہے اور TVET کے شعبے میں معیاری تربیت فراہم کرنے کے لیے ایک نمایاں علامت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ مرکز TVET کو بین الاقوامی معیارات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے دیگر سرکاری اور نجی شعبے کے اداروں کے لیے اعلیٰ نمونے کے طور پر ثابت ہو گا۔”

جرمن سفارت خانے میں ترقیاتی تعاون کے سربراہ، ڈاکٹر سیباسٹین پاسٹ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "سینٹر آف ایکسی لینس کی چھتری کے تحت پنجاب میں نہ صرف ملازمتوں پر انحصار کرنے بلکہ انٹرپرینیورشپ ماڈلز کو فروغ دینے کی بڑی صلاحیت پوشیدہ ہے ۔ جرمنی 2026 تک پاکستان کے ہنر مندی کے شعبے میں اپنا کام جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔”

ڈاکٹر منصور زیب خان، نیشنل ٹیم لیڈر، GIZ پاکستان نے ذکر کیا کہ، "مجھے امید ہے کہ حکومت پنجاب اور TEVTA اس مرکز کو بہترین قیادت فراہم کرکے سینٹر آف ایکسی لینس کو مکمل طور پر فعال رکھنے کے لیے تمام اقدامات کریں گے۔ یہ مرکز ایک بہترین افرادی قوت پیدا کرنے اور لیبر مارکیٹ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اعلیٰ معیار کے انسانی وسائل اور ٹرینرز کی تیاری کو یقینی بنائے گا۔”

چیئرمین TEVTA نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے TVET ایس ایس پی اور ڈونرز کی انسٹی ٹیوٹ کو سینٹر آف ایکسی لینس میں تبدیل کرنے کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ، ” سینٹر آف ایکسی لینس نجی شعبے کے ساتھ طویل عرصے تک شراکت کے علاوہ عملے کی تربیت کے ساتھ پنجاب کے نوجوانوں کو طلب پر مبنی تربیت (ڈیمنانڈ ڈریون ٹریننگ) فراہم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرنے کے لیے ایک مرکزی مقام کے طور پر کام کرے گا۔”
چیئرمین NAVTTC ، شاہد خان نے بھی تقریب میں شرکت کی اور نوجوانوں کی تربیت کے اس منصوبے کو سراہا ۔

#rnn

یہ بھی پڑھیں۔

افغان خواتین

افغان خواتین کا طالبان کے خلاف احتجاج، اسلام کے دعوی دار دینی تعلیمات کے خلاف جا رہے ہیں: خطاب

افغان خواتین کا طالبان کے خلاف احتجاج، اسلام کے دعوے دار دینی تعلیمات کے خلاف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے