معذور خواتین
معذور خواتین

آئی سی آر سی کے زیر اہتمام معذور خواتین کو درپیش مسائل پر قومی مکالمہ کا انعقاد

معذور خواتین کی آواز کو مرکزی دھارے اور فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے: آبیہ اکرم

اسلام آباد

پاکستان میں معذور خواتین کے موجودہ حالات کا جائزہ لینے اور ان کو درپیش چیلنجز کو اجاگر کرنے کے لیے انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (ICRC) اور نیشنل فورم آف وومن وِد ڈِس ایبیلیٹیز (NFWD) نے ‘نیشنل سمٹ فار دی امپاورمنٹ آف وومن وِد ڈِس ایبیلیٹیز’ نے ایک قومی مکالمے کا انعقاد کیا۔ ملک بھر سے معذور خواتین، نمائندہ اداروں، متعلقہ حکام اور انسانی تعمیر و ترقی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں پر مشتمل سو سے زائد شرکاءمکالمے میں شریک ہوئے اور خصوصی افراد کی شمولیت کے لئے ساز گار ماحول تشکیل دینے کے سفر کو مستحکم انداز میں جاری رکھنے پر اتفاق ہوا.

صنفی مساوات کے انڈیکس میں پاکستان ان 188 ممالک میں 147 ویں نمبر پر ہے، جہاں معذور خواتیں نظر انداز کی جانے والی ایک بڑی اقلیت ہیں۔ سمٹ کے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے این ایف ڈبلیوڈی کی سی ای او آبیہ اکرم نے کہا، معذور خواتین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور ان کو خود مختار بنانے میں ایک ایسے ماحول کا کردار کلیدی ہے جو رکاوٹوں سے پاک ہو۔ یہ مقصد تب تک حاصل نہیں کیا جاسکتا جب تک ان خواتین کی آواز کو مرکزی دھارے اور فیصلہ سازی کے عمل میں شامل نہ کرلیا جائے۔

آئی سی آر سی کے مشیر برائے سوشل انکلوژن محمد اقبال نے کہا، پاکستان میں زندگی کے تمام شعبوں میں معذور بچیوں اور خواتین کی شمولیت کے لیے فوری کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس میں ان کی وکالت، شعبہ جاتی سطح پر صلاحیت سازی کے پروگرام ترتیب دینا اور کثیر الجہتی ایجنسیوں کے تعاون سے ان کے لیے سپورٹ کے امکانات کو بڑھانا شامل ہے۔

سمٹ کے شرکاء نے انفرادی اور ماحولیاتی ضروریات کی بنیاد پر جامع پالیسیوں اور خدمات کی فراہمی کو ڈیزائن کرنے کے لیے (معذور افراد کے) ڈیٹا کو الگ رکھنے کے لیے منظم کوششوں کی ضرورتوں پر زور دیا۔انہوں نے مروجہ چیلنجوں پر تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ کارامد تجربات کو بھی سامنے رکھا۔ خواتین کی بھرپور شراکت کے ساتھ ساتھ امتیازی سلوک اور ہتک سے نمٹنے کے طریقوں کے لیے سفاشات بھی پیش کیں۔
سمٹ میں ہونے والی بات چیت کے نیتیجے میں استعدادِ کار کو بڑھانے، وکالت اور شراکت داری کے فروغ کے لیے ایکشن پلان تشکیل دیاگیا تاکہ فیصلہ سازی اور پالیسی سازی کے عمل میں معذور لڑکیوں، خواتین اور ان کی نمائندہ تنظیموں کو شامل کرنے میں آسانی ہو۔
تقریب میں شریک فوزیہ لونی نے کہا، پاکستان میں معذور افراد کی معاشرتی عدمِ شمولیت کے معاملے کو عورتوں اور لڑکیوں کے نقطہ نظر سے دیکھنا اور سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ہم اِس ڈائیلاگ کے ذریعے اس خلا کو پُر کرنے پر آئی سی آر سی کے شکر گزار ہیں۔

آئی سی آر سی 1984 سے پاکستان میں مقامی اداروں اور حکام کی شراکت سے معذور افراد کی سماجی شمولیت اور بحالی کی پائیدار سہولیات تک رسائی کے لیے جسمانی بحالی کا پروگرام چلا رہی ہے۔ آئی سی آر سی کے ڈِس ایبیلیٹی وژن 2030 کا مقصد جامع، قابلِ رسائی، محفوظ، باوقار زندگی پر مبنی اقدامات کو ڈیزائن کرنا، معذور افراد کے لیے کام کے ماحول کو بہتر بنانا اور قانون و پالیسی کے ایسے ماحول کو تشکیل دینا ہے جو انسانی سرگرمیوں میں ان کی شمولیت کو فروغ دیتا ہے۔

#rnn

یہ بھی پڑھیں۔

افغان خواتین

افغان خواتین کا طالبان کے خلاف احتجاج، اسلام کے دعوی دار دینی تعلیمات کے خلاف جا رہے ہیں: خطاب

افغان خواتین کا طالبان کے خلاف احتجاج، اسلام کے دعوے دار دینی تعلیمات کے خلاف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے