تعمیری صحافت

پاور99 فاوندیشن کے زیراہتمام تعمیری صحافت پرپانچ روزہ ورکشاپ جاری

پاور99 فاوندیشن کے زیراہتمام تعمیری صحافت پرپانچ روزہ ورکشاپ جاری

اسلام آباد

آراین این

پاور99 فاونڈیشن کے زیراہتمام تعمیری صحافت پر بڈی ٹیم کا پانچ روزہ ورکشاپ پیر کے روز سے جاری ہے. ورکشاپ میں افغان سٹیزن جرنلسٹس اور پاکستانی صحافیوں کو تعمیری صحافت، اہمیت اورسماج پر اس کے مثبت اثرات کے حوالے سے تربیت دی جارہی ہے. ابتدائی روز پاور 99 فاونڈیشن کی ٹیم نے تعارفی سیشن سےورکشاپ کا آغاز کی. دی کمیونیکیٹرز کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرنجیب احمد نے ورکشاپ کے شرکاء کو پاکستان میں میڈیا کرائسز کے بارے آگاہی دی اور ایک مضبوط، آزاد،مثبت اورتعمیری صحافت کے حامل میڈیا ہاوس کی ضرورت پر زور دیا. انہوں نے کہا کہ ملک میں روایتی صحافت کا بول بالا ہے مگر تعمیری جر نلزم کا فقدان نظر آرہا ہے. مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کا ممکنہ حل کی تجاویز پیش کرنا تعمیری صحافت کی ذمہ داری بنتی ہے جس سماج کے اندر معاشرتی اور ادارتی ایکٹوزم فروغ پاس ورکشات اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے ریڈیو نیوز نیٹ ورک کے ایڈیٹر نگہت آمان نےکہا کہ اس ورکشاپ کا مقصد پاکستان میں تعمیری صحافت کا فروغ ہے جو روایتی میڈیا اکثر نظر انداز کرتا ہے. انہوں نےافغان سٹیزن جرنلسٹس پر زوردیا کہ وہ اس ورکشاپ کے بعد اپنی کمیونٹی میں تعمیری صحافت کو فروغ دیں اور مسائل کے حل کی طرف توجہ مبذول کروائے.

ورکشاپ کے پہلے روز نامور صحافی ریاض میسن اور رُستم ستی ورکشاپ کے شرکاء کو اپنے تجربات اور روایتی میڈیا میں کنسٹرکٹیو جرنلزم کے حوالے سے بریف کیئے. رستم ستی نے کہا کہ اب دنیا بدل گئی ہے نئے اور ڈیجٹل میڈیا نے روایتی میڈیا کو چلینج کیا ہے. انہوں نے کہا کہ ایک زمانے میں پاکستان میں روایتی پرنٹ میڈیا ہی لوگوں کی آگاہی، تعلیم اور تفریح کا ذریعہ تھا جہاں پیشہ ور صحافی اپنی اپنی بیٹ کی خبریں، تفتیشی رپورٹس شائع کرتے تھے مگر اب نئے یا ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے ان میڈیا ہاوس کو چند افراد میں محدود کر دیا ہے.

صحافی ریاض میسن نے بھی سٹیزن جرنلیسٹس سے مخاطب ہوئے اور تعمیری صحافت کی افادیت اور ضرورت پر زرو دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمارے سماج میں بے شمار ایسے مسائل موجود ہے جن کی طرف توجہ دے کر ہم اداروں‌ کو ان مسائل پر کام کرنے کی طرف راغب کر سکتے ہیں، انہوں نے کہا انسانی معاشرے میں انسانوں کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے جن کو تعمیری صحافت کے ذریعے ہائی لائٹ کرنے اور ان کے حل کے لئے تجاویز پیش کرنے کی ضرورت ہے .

یہ بھی پڑھیں۔

افغان خواتین

افغان خواتین کا طالبان کے خلاف احتجاج، اسلام کے دعوی دار دینی تعلیمات کے خلاف جا رہے ہیں: خطاب

افغان خواتین کا طالبان کے خلاف احتجاج، اسلام کے دعوے دار دینی تعلیمات کے خلاف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے