تعمیری صحافت پر ورکشاپ "بڑی ٹیم” کے ساتھ دوسرے روز کی سرگرمیاں

تعمیری صحافت پر ورکشاپ "بڑی ٹیم” کے ساتھ دوسرے روز کی سرگرمیاں

اسلام آباد

پاور99 فانڈیشن کے زیراہتمام تعمیری صحافت پر منعقدہ پانچ روزہ ورکشاپ جاری ہے، دوسرے روز”بڑی ٹیم” کی پیشہ ورانہ تربیت کا آغاز پہلے دن کی جھلکیوں سے ہوا جہاں شرکاء نے اپنی لرننگز کو تازہ کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے.ریڈیو نیوزنیٹ ورک کے ایڈیٹر نگہت آمان نے تربیت کے دوسرے روز سٹیزن جرنلسٹس کو تعمیری صحافت اوراس کےعناصر، ستون ، مثبت سرخیاں بنانے، سنسنی سےاجتناب اور دیگر پیشہ ورانہ پہلوں کے حوالے سے بتائی. انہوں نے عالمی اداروں کی رپورٹس، عالمی صحافت کے تناظر میں تعمیری صحافت کی مثالوں اور پیشہ ورانہ نمونوں سے شرکاء کو آگاہی دی اور بڑی ٹیم کو سرگرمیوں میں مشغول رکھ کران کی اہلیت اورذہنی وسعت بڑھانے کی جستجو کرتی رہی.

تعمیری صحافت

تربیتی ورکشاپ میں شامل سٹیزن جرنلسٹس نے ماضی قریب میں کی گئی اپنی متاثر کن سٹوریز کے بارے ( تھنک پئیر شئیر) پریزنٹیشن بھی دیئے. مختلف گروپس تشکیل دے کر پاکستانی پیشہ ور صحافیوں کی مدد سے تمام افغان سٹیزن صحافیوں کو سرگرمیوں میں مشغول رکھ کر ان کی مہارت بڑھانے کی کوشش کا عمل اگلے تین روز تک جاری رہی گی.

ورکشاپ کے شرکاء کو نیٹ ورکنگ کےتحت پاکستان کے سینئر جر نلسٹ و اینکر پرسن مطیع الللہ جان سے تعارف کیا گیا جو اپنے تجربات کی روشنی میں ٹیم کو کنسٹرکٹیو جرنلزم کے حوالے سے بھی بتایا.اُنہوں نے کہا کہ صحافت ازخود تعمیری ہوتی ہے جس کا مقصدعوام تک سچ کی رسائی ہے. مطیع اللہ جان نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے افغان شہریوں کے بے تحاشا مسائل ہے جن کے حل کی طرف اداروں کی توجہ مبذول کروانا اور حل تجویز کرنا تعمیری صحافت کے زمرے میں آتا ہے.

تعمیری صحافت
تعمیری صحافت

"بڑی ٹیم” کے افغان سٹیزن جرنلسٹس نے پاکستان میں بسے والے افغان شہریوں کے اعدادو شمار، مسائل اور سفری دستاویزات کی عدم فراہمی کے بارے مطیع اللہ جان کو آگاہ کیئے اور یہ بتا دیئے کہ وہ کس طرح اپنی تعمیری صحافت کے زریعے ان مسائل کا حل چاہتے ہیں. انہوں نے کہا کہ ان کی کمیونٹی پاکستان میں بے شمار مسائل کا شکار ہےاور اداروں کی توجہ ان بنیادی مسائل کی طرف بہت کم جارہی ہے جس کے کئی وجوہات ہیں.

#rnn #BBC #VOA #AFP #DW #RNTC #PPI# constructivejournalism #journalism #news #broadcasting #newspapers #journalist

یہ بھی پڑھیں۔

افغان خواتین

افغان خواتین کا طالبان کے خلاف احتجاج، اسلام کے دعوی دار دینی تعلیمات کے خلاف جا رہے ہیں: خطاب

افغان خواتین کا طالبان کے خلاف احتجاج، اسلام کے دعوے دار دینی تعلیمات کے خلاف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے