عالمی درجہ حرارت

عالمی درجہ حرارت میں شدت سے متاثرہ ممالک میں پاکستان 5ویں نمبر پر ہے : لفٹینٹ جنرل ریٹائڑد ندیم احمد

عالمی درجہ حرارت میں شدت سے پاکستان مُتاثر ہونے والے ممالک میں 5ویں نمبر پر ہے : لفٹینٹ جنرل ریٹائڑد ندیم احمد

قدرتی آفات میں امدادی کاروائیوں کے لئے انتظار سے بہتر ہے قومی فنڈ تشکیل دیا جائے: شر کاء سے خطاب

اسلام آباد (آر این این ) ڈی ڈبلیو اکیڈیمی اور ریڈیو نیوز نیٹ ورک کے اشتراک سے قدرتی آفات اور ماحولیاتی رپورٹنگ پر منعقدہ سہہ روزہ تربیتی ورکشاپ کے پہلے روز پاکستان میں ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور ماحولیاتی تغیر پر عبور رکھنے والے لفٹیننٹ جنرل (ر) ندیم احمد نے شرکاء کو تیزی سے تبدیل ہوتے ماحولیاتی صورتحال پر آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تغیر اور عالمی درجہ حرارت میں شدت میں شدت سے پاکستان دُنیا کاپانچواں متاثرہ ملک ہے جہاں پچھلے کچھ برسوں سے قدرتی آفات ، بارشوں اور سیلابی صورتحال کے سبب جہاں انسان، جنگلی و آبی حیات متاثر ہورہے ہیں وہاں ماحول پر بُرے اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں. عالمی درجہ حرارت میں شدت سے دنیا میں بہت سے ممالک اس وقت مشکلات سے دو چار ہیں جہاں مختلف قسم کے مسائل سامنے آرہے ہیں جن سے نمٹنا تنہا کسی بھی ملک کے لئے ممکن نہیں رہا ہے. پاکستان میں جہاں ڈسٹرکٹ لیول پر ماحو لیاتی ادارے منیجمنٹ، رپورٹنگ میں سست ہیں وہاں ان کے ہاں سب سے زیادہ متاثرہ اور خطرے سے دو چار علاقوں کی ایسسمنٹ بھی نہیں کرتے جو کہ ایک افسوس ناک امر ہے.

جنرل ندیم نے بتایا کہ 1850 سے 2020 تک علامی درجہ حرارت میں ریکارڈ شدت آئی ہے اور دنیا کے بڑے بڑے کاربن پیدا کرنے والے ممالک کل تک یہ بات ماننے سے انکاری

.تھے کہ حرارت میں شدت آنے سے اوزون لیئر کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے مگر اب ان کو یقین ہوگیا کہ بڑے بڑے کارخانوں سے کاربن کا اخراج حرارت بڑھا دیتی ہے اور ماحولیات پر بُرے اثرات نمودار ہورہے ہیں. اُنہوں نے کہا کہ ڈیٹا یہ بتاتی ہے کہ اگر حالات پر قابو نہ کیا گیا تو عالمی درجہ حرارت 2080 تک 5 ڈگری سے بھی بڑھ جائے گی اور مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے. انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ کہ جہاں ماحولیاتی مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئے مقامی وسائل میں کمی درپیش ہے وہاں پاکستان میں سرکار جی سی ایف جیسے پلیٹ فارم سے استفادہ بھی نہیں اٹھاتی جو اس حوالے سے مالی امداد فراہم کرتے ہیں . جی سی ایف کے لئے خود کو ان کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا عمل تھوڑا سخت ہے لیکن مشکل نہیں ، مگر پاکستان میں اس وقت جی ایس بنک اور این آر ایس پی ان کے ساتھ منسلک ہوچکے ہیں تاہم جی ایس بنک کچھ کریڈٹ لیتا ہے.

عالمی درجہ حرارت
لفٹینٹ جنرل ریٹائڑد ندیم احمد عالمی درجہ حرارت بڈھنے اور اس کے پاکستان پر اثرات سے متعلق گفتگو کررہے ہیں

پاکستان میں تیزی سے بدلتی ماحولیاتی صورتحال اور اس کے سبب درپیش مسائل پر بات کرت ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم دنیا میں کم کاربن پالوشن کے زمہ دار ہیں اور 5 ویں متاثر ملک کے باسی ہیں. کاربن کنٹرول کے تحت کارب کریڈٹ بھی حاصل کیئے جا سکتے ہیں مگر ہم صرف دنیا سے مالی معاونت اور قرضے مانگ رہے ہیں. یہ عام روایت بن چکی ہے کہ جب بھی کوئی ماحولیاتی ہنگامی صورتحال درپیش ہوتی ہے تو ہم ادحر اُدھر سے فنڈ خرچ کر رہے ہوتے ہیں یا تو پھر دنیا کی طرف دیکھتے ہیں.اس صورتحال میں بھی بہتری لائی جا سکتی ہے انہوں نے مشورہ دیا کہ ایک قومی کولیشن بنانے کی ضرورت ہے جہاں تمام صوبے سالانہ ایک ارب روپے کہیں سے بھی نکال کر جمع کرے، گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر کا حصہ وفاق ادا کرے اور یہ فنڈ ہنگامی صورتحال میں کام آئیگا. کے تحت دنیا ہمارے مسائل محدود ہیں اس لئے ہمیں اپنی آبادی پر کنٹرول کرنا سب سے اہم کام ہے، ہماری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور نیچرل ریسورسز اور دستیاب محدود زمین کم پڑ رہی ہے. پاکستان میں شدید موسمیاتی تبدیلی کے باعث متوقع بارشیں اور سیلابی صورتحال ملک میں خُشک سالی اور قحط سالی کے باعث بنیں گے. انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں خوراک کی کمی کے شکار بچے ہیں جو نہ صرف اپنے لئے بلکہ گھر والوں کے لئے پریشانی کے سبب بنیں گے.

جنرل ندیم نے کہا کہ پاکستان میں دستیاب سائنٹفک ڈیٹا کے مطابق قدرتی آفات بارش برسانے والے نظام میں تبدیلی کے باعث پیش آرہے ہیں۔ ان تمام آفات کی نوعیت ایک ہے تاہم ایریاز میں تبدیلی آرہی ہے۔ جنرل ندیم احمد نے مثال دی کہ کئی عشروں تک بارشیں کشمیر میں ہورہی تھی اب یہ نظام خیبر پختونخواہ پر زیادہ بارش برسا رہا ہے جہاں زیادہ بارشیں ریکارڈ ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تغیر سے ہم بہت کچھ کھو رہے ہیں اور بہت کچھ سہہ رہے ہیں اس لئے ہم سب کو مل کر ماحولیات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے. قدرتی آفات اور ماحولیاتی رپورٹنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جنرل ندیم نے کہا کہ کسی بھی قدرتی آفت کے دوران سب سے اہم انسانی زندگی ہوتی ہے اور بشریتی پہلو توجہ کا مرکز ہوتا ہے اور صحافیوں کو بھی سب سے پہلے اس پہلو پر نظر رکھنا چاہئے.

#rnn #radionewsnetwork #dwacademy

یہ بھی پڑھیں۔

اسلام آباد

اسلام آباد میں مہنگائی کے خلاف احتجاج چترال، پشاور اور گلگت بلتستان کی سول سوسائٹی شریک ہوئی

اسلام آباد میں مہنگائی کے خلاف احتجاج چترال، پشاور اور گلگت بلتستان کی سول سوسائٹی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے