DWA اور RNN کے اشتراک سے قدرتی آفات و ماحولیاتی رپورٹنگ پر منعقدہ 3 روزہ ورکشاپ اختتام پذیر

DWA اور RNN کے اشتراک سے قدرتی آفات و ماحولیاتی رپورٹنگ پر منعقدہ 3 روزہ ورکشاپ اختتام پذیر

 

اسلام آباد(آر این این) ڈوچی ویلے اکیڈیمی (DWA) اور ریڈیو نیوز نیٹ ورک (RNN) کے اشتراک سے قدرتی آفات اور ماحولیاتی رپورٹنگ پر منعقدہ سہہ روزہ تربیتی ورکشاپ اختتام پزیر ہوا. اس ورکشاپ میں سندھ، پنجاب، کے پی کے بلو چستان اور گلگت بلتستان سے ماحولیاتی مسائل پر رپورٹنگ کرنے والے منتخب صحافیوں کو قدرتی آفات اور ماحولیاتی تغیر کے بارے تعمیری رپورٹنگ کے گُر سکھائے گئےاورموسمیاتی تبیلیوں کے حوالے سے ماہرین کی رائےاور آراء سنے کا موقع دیا گیا.

ڈی ڈبلیواکیڈیمی سے عاطف توقیر، عاطف بلوچ اور ڈینا سیلبیک نے صحافیوں کو مختلف ماحولیاتی موضوعات پر رپورٹنگ کے طریقے اور تعمیری رہنے کے اصول بتا دیئے اور وہی پر تعمیری رپورٹنگ میں سائنسی ڈیٹا کی اہمیت بھی بتا دی دے گئی. شرکاء کو مختلف گروپوں میں تقسیم کرکے انہیں مختتلف عملی سرگرمیوں میں مشغول رکھا گیا ڈینا سیبلک نے کہا کہ ماحولیاتی تغیر سے دنیا خطرات سے لاحق ہوچکی ہے اور پاکستان کا آٹھواں متاثرہ ملک ہےجہاں مستقبل میں درجہ حرارت کی شدت میں اضافے سے زیادہ مسائل درپیش ہونگے اس لئے اس مسلے پر پاکستان میں زیادہ سے زیادہ آگاہی کی ضرورت ہے. دینا کے مطابق پاکستان میں صرف 30 فیصد لوگوں کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور اس کے اثرات کے بارے معلم ہے جب کہ ملک کی آبادی کا 70 فیصد اس موضوع اور ایشو سے لاعلم ہے. انہوں کہا کہ کاربن کنٹرول اور صنعتوں کی متبادل توانائی پر منتقل کرنے کے عالمی وعدے بھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکے جبکہ پاکستان بھی 2030 تک کاربن کے اخراج میں 50 فیصد کمی اور برقی کاروں پر شفٹ ہونے پر رضا مند ہوا ہے مگر عمل درآمد باقی ہے. دینا نے کہا ماحولیات کو خطرات سے بچانے کے لئے کیئے گئے معاہدوں کا ذکر بھی کیا اور صنعتی ملکوں کی طرف سے Kyoto Protocol پروٹوکول کی خلاف ورزی پر بھی بات کی جس کو قانونی حیثیت حاصل تھی مگر اس پر عمل درآمد نہ ہوسکا.

ورکشاپ میں شریک ماحولیاتی مسائل پر کام کرنے کے لئے ریڈیو، پرنٹ اور ڈیجٹل میڈیا پلیٹ فارمز کی ایک نیٹ ورک کنسٹرکٹیو کلائمیٹ جرنلزم نیٹ ورک (CCNJ) بھی بنائی گئی جہاں ماحولیاتی مسائل اور درپیش خطرات کے بارے آگاہی دینے والی مواد کو شئیر کیا جا ئیگا تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آگاہی دی جا سکے.

ورکشاپ کے پہلے روز پاکستان میں ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور ماحولیاتی تغیر پر عبور رکھنے والے لفٹیننٹ جنرل (ر) ندیم احمد نے شرکاء کو تیزی سے تبدیل ہوتے ماحولیاتی صورتحال پر آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تغیر اور عالمی درجہ حرارت میں شدت سے پاکستان دُنیا کاپانچواں متاثرہ ملک ہے جہاں پچھلے کچھ برسوں سے قدرتی آفات ، بارشوں اور سیلابی صورتحال کے سبب جہاں انسان، جنگلی و آبی حیات متاثر ہورہے ہیں. انہوں نے کہا کہ جہاں ہم اس عالمی مسلے کا شکار ہیں وہاں ماحول پر کام کرنے والے ضلعی ادارے بھی منیجمنٹ، رپورٹنگ اور خطرات کی نشاندہی میں سست روی کا شکار ہیں جو ایک افسوس ناک امر ہے.
جنرل ندیم نے بتایا کہ 1850 سے 2020 تک علامی درجہ حرارت میں ریکارڈ شدت آئی ہے جس کی وجہ دنیا کے بڑے بڑے کاربن پیدا کرنے والے ممالک ہیں مگر کل تک یہ ممالک بات ماننے سے انکار تھے کہ حرارت میں شدت کارخانوں سے اخراج ہونے والے کاربن کی وجہ سے ہے . انہوں نے بتایا کہ عالمی درجہ حرارت 2080 تک 5 ڈگری سے بھی بڑھ جائے گی اور مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے. جنرل ندیم نے شرکاء کو بتایا کہ کہ جہاں ماحولیاتی مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئے مقامی وسائل میں کمی درپیش ہے وہاں پاکستان میں سرکار جی سی ایف جیسے پلیٹ فارم سے استفادہ بھی نہیں اٹھاتی جو اس حوالے سے مالی امداد فراہم کرتے ہیں .

ورکشاپ کے دوسرے روز نثار اے میمن، سابق وفاقی وزیر برائےامور کشمیر و گلگت بلتستان و چئیرمین واٹر فورم پاکستان نے کلائمیٹ چینج اور انڈس ڈیلٹا کو درپیش خطرات پر بات کرت ہوئے کہا کہ کلائمیٹ چینج ایک دریا ہی نہیں بلکہ یہ کئی تہذیبوں کا مالا ہے جو سات ہزار سالا تاریخ رکھتا ہے اور چار ممالک اس سے مکمل یا جزوی مستفید ہو رہے ہیں. نثار اے میمن نے بتایا کہ یہ دریا قراقرم ، ہندوکش اور ہمالیہ کے دامن سے بہتے ہوئے تین ہزار کلو میٹر سے زائد سفر طے کرتا کرکے کوسٹ لائین پر ڈیلٹا میں گرتا ہے اور وہاں تک پہنچنے سے پہلے یہ دریا کئی تہذیبوں کو جنم دیتا ہے اور 40 ملین ایکڑ رقبے کو بھی سیراب کرتا ہے. ایک ہزار میٹر کوسٹ لائین کے گرد بھی بڑی آبادی آباد ہےجو دریائے سندھ سے مستفید بھی ہوتی ہے.
ڈیلٹا کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1940 سے جب ڈیم بنے ہیں ڈیلٹا میں پانی کا مستقل بہاو ایک مسلہ رہا ہے جس کے سبب وہاں پر موجود آبی حیات اور مینگروز خطرے سے دوچارہیں. جب کہ ڈیلٹا میں پانی کا مستقل بہاو کے ساتھ ساتھ سمندر میں کھڑی ہونی والی بحری بھیڑے بھی پالوشین کا سبب بن رہے ہیں. ڈیلٹا میں پانی کے کمی کے سبب وہ مہمان پرندے جو سائبریا ور دیگر سے آتے تھے ان کی زندگی بھی لوگوں کے اپنے بنائے جھیلوں میں خطرے سے دوچار ہوتی ہیں اور ہمیں حکومت اور صاحب اختیار لوگوں کو بار بار یہ بات کہنے کی ضرورت ہے کہ وہ اس عمل کو بھی روکے. انہوں نے مزید بتایا کہ قدرت نے تو ڈیلٹاکو خراب تو نہیں کی ہے یہ ہم ہی اس کے ذمے دار ہیں اور ایک ذمہ دار میں خود ہوں جو آپ کے سامنے کھڑا ہوں کیونکہ میں بھی اس نظام کا حصہ رہا ہوں.

ورکشاپ کے اختتام پر ریڈیو نیوز نیٹ ورک ، پاور 99 فاونڈیشن اور ریڈیو پاور 99 کی ٹیم نے شرکا، ٹرینرز، گیسٹ سپیکرز اور ڈوچی ویلے اکیڈیمی کا شکریہ ادا کیا . یاد رہے پروگرام کے شرکاء کلائمیٹ چینج اور فلڈ ریسپونس کے حوالے سے انڈس ڈیلٹا، قراقرم اور ہندوکش کے دامن میں ، دریائے سندھ سے جُڑے پنجاب، کے پی کے، سندھ اور بلو چستان میں درپیش ماحو لیاتی مسائل پر ریڈیو، ویڈیو اور اخبارات میں تعمیری سٹوریز بھی کریں گے.

#rnn #radionewsnetwork

یہ بھی پڑھیں۔

اسلام آباد

اسلام آباد میں مہنگائی کے خلاف احتجاج چترال، پشاور اور گلگت بلتستان کی سول سوسائٹی شریک ہوئی

اسلام آباد میں مہنگائی کے خلاف احتجاج چترال، پشاور اور گلگت بلتستان کی سول سوسائٹی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے