جمعہ , 2 دسمبر 2022
گلگت بلتستان

گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات اور ماحولیاتی مسائل

گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات اور ماحولیاتی مسائل

سیاحوں کی جنت وادی پھنڈر

پاکستان کا سوئزرلینڈ کہلانے والا خطہ گلگت بلتستان اپنی دلکش اورتمام تررعنائیوں سے لبریزحسین وادیوں کے سبب مقامی ، ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے توجہ کا مرکزبن چُکا ہے۔ ہرسال لاکھوں سیاح اس خطہء جنت کی سیرکرنے نکلتے ہیں اور دیر تک ان حسین اوردلکش مناظر میں کھو جاتے ہیں۔ انسانی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی رعنائی آسانی سے چشم خیال سے کہاں اُترنے والی ہے یہ تو بس دیر تک بلکہ تا دم مرگ ہر دیوانہ فطرت کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔
چلئے اس تحریری سلسلے میں ہم آپ کو ان حسین ودلکش سیاحتی مقامات کی سیر کیساتھ ساتھ ان کے پروفائل،تاریخ اور بے ڈھنگ و غیر ذمہ دار سیاحت کے اثرات کے بارے بھی بتا دیں گے ۔ میری خواہش ہے کہ اس سلسلے کی پہلی تحریرمیری جنم بھومی اورمیری جنت نظیروادی پھنڈر کے بارے ہی ہو۔

وادی پھنڈر

گلگت شہر سے ایک سو ستانوے کلو میٹر دور موجود گلگت بلتستان کی یہ وادی کسی با کمال مصور کی تخیلا تی کمالات کا مظہر لگتی ہے اور ہردیکھتی آنکھ یقین کر نہیں پا تی کہ اتنی خوبصورت شاہکار بھی تخلیق ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ وادی کسی انسا نی تخلیق یا تخیل کا مظہر ہرگز نہیں بلکہ”یا مصورُ“ کی ایک اعظیم شاہکار ہے جو اپنی کمال ِ قدرت کو انسانوں پرعیاں کر تا ہے۔
سیا حوں کی یہ جنت وادی پھنڈر قدرتی حُسن سے ما لامال ہے اور ہر آئے روز سیاحت اورسیا حوں کی منزل بن کرشہرت کی بلندیوں کو چھورہا ہے۔ یہ خو بصورت وادی پہلی نظر میں با لکل ایک خیالی فن پا رے کا روپ دھار لیتی ہے جو کمال مہارت سے کسی کا غذ پر اُتارا گیا ہو لیکن جوں ہی گمان کی آنکھ یقین کا منظر سمولیتی ہے تو انسانی آ نکھیں اس کے حسین نظاروں سے خیرہ ہوکررہ جاتیں ہیں۔

نام کا وجہ تسمیہ اور پھنڈرکے تین روپ

قیا س کیا جا رہا ہے کہ آج سے سینکڑوں سال پہلے پھنڈر ایک خوبصورت جھیل کی شکل میں موجود تھا اوراسی جھیل کی وجہ سے ہی اس کا نام پھنڈر پڑ گیا۔”پھن“ کھوار زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہتھیلی کا ہے اور ڈار بھی اسی زبان میں گہرے پا نی کے لئے استعمال ہو تا ہے اگر ہم ان دونوں لفظوں سے وجود پانے والے ”پھنڈر“ کے معنی دیکھے تو وہ ہتھیلی کی طرح گہرے پا نی کے معنی دیتا ہے۔
نام کی وجہ تسمیے سے یہ قیاس یقین میں بدل جاتا ہے کہ یہاں بسنے والے مکینوں کی رائے اور معلومات درست ہیں۔ بزرگ فرما تے ہیں کہ اس وادی کا موجودہ روپ اس کا تیسراروپ ہے جب وہ خوبصورت جھیل خشک ہوئی تو یہاں نہایت گھنا جنگل اُگ آیا تھا اور مقا می آبادی جو دالومل اورسیربل میں آباد تھی، جنگل سے مستفید ہو رہی تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مقامی آبادی جنگل سے بہت تنگ آچکی تھیں کیونکہ مختلف انواع کے درندہ صفت جنگلی جانور لوگوں کے مال مویشیوں کے لئے خطرہبن چکے تھے تو لوگوں نے جنگل کو ختم کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کرنا شروع ہو ئے۔بے دریغ کٹائی کے سبب جنگل آہستہ آہستہ ختم ہونا شروع ہوااوریوں پھنڈراپنا تیسرا روپ د ھار لیا اور قرب وجوار کے اونچے مقا مات دالومل اورسیربل سے لوگ یہاں آکر آباد ہنا شروع ہوئے۔
رعنائیوں اورہر موسم میں رنگ بلتے گہرے سبزپانی(دریا) سے مزین یہ وادی اپنے تیسرے روپ میں دنیا بھرمیں مشہوربھی ہوئی اورمحبت کی وادی بن کر اپنی خوبصورتی سے شہروں سے اُکتا ئے ہوئے چہروں کو فرحت بخشتی ہے اورڈھیر ساری محبتیں بانٹ اورسمیٹ رہی ہے۔ اس کے دلدادے سیاح جہاں تین موسموں بہار، گرما اور خزان کے مناظر سے خوب محظوظ ہوتے ہیں تو وہاں اس کے چو تھے موسم یعنی سرما میں یہاں کے مکین موسم کی سرد مہری سے پناہ مانگ رہے ہوتے ہیں۔ اسی اثنا مجھ سمیت کچھ مکین وادی پھنڈر کے چو تھے روپ سے نہا یت خائف اور پر یشان ہیں کیونکہ نیک خواہوں اورسیاحوں ک ظاہری منا ظر اتنے بھا جاتے ہیں کہ ظا ہری آ نکھ وادی میں سراُ ٹھاتے کسی بھی ماحو لیاتی یا موسمی تغیراتی عمل سے ممکنہ مسائل پر توجہ مرکوزنہیں کرپاتی جبکہ مستقل رہائشی مکینوں کی نگاہ شوق نو مبر کے وسط سے مارچ تک سرد وسخت لمحوں کی تیا ری پرمرکوزرہتی ہے اور اسی طرح پھنڈر چپکے چپکے اپنا چوتھا روپ دھاررہا ہے جوکہ ایک انتہائی ہیبت ناک روپ ہے۔ میں ادھررُک جاتا ہوں کیوں پہلی نشست میں ہی ممکنہ ہیبت ناک روپ کے بارے بات کروں جبکہ اس وادی کے بارے بہت کچھ کہا اورلکھا جاسکتا ہے۔

پھنڈرآنے والے سیاحوں کے بارے ایک بات مشترک ہے کہ انہیں پہلی نظر میں یقین ہی نہیں آتا کہ ایسی خوبصورت وادی حقیقی ہوسکتی ہے مگر جب گماں کی آنکھ حقیقت بن جاتی ہے تو وہ اپنے تاثرات ظاہر کر دیتے ہیں، آئے چند سیاحوں کے ریمارک دیکھ لیتے ہیں

گارڈن آف گارڈنز( باغوں کا باغ)

کہا مشہورہے کہ کسی انگریز نے جب پہلی باراس وادی کو دیکھا تو بے اختیار کہنے لگا کہ یہ چھوٹا کشمیر ہے اس کے بعد لوگ آج تک اس وادی کو چھوٹا کشمیر کہتے ہیں۔ممکن ہے کہ اُس گورے کی آمد کے وقت وہ گھنا جنگل اپنی اصلی حالت میں موجود ہو جس پراُنہوں اس وادی کو کشمیر سے تشبیہ دی۔ ایک اورسیاح کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ جب پہلی بار اس ویلی کو دیکھا تو کہنے لگے واہ یہ توباغوں کا باغ ہے۔ باغوں کے اس باغ میں جب ملک کے مشہور سفر نامہ نگار مستنصرحسین تارڈ آئے تواُنہیں جولائی کی ایک خُنک صبح باد آنواز(باد نسیم) نے جگا دیا تو دیوارپر کسی مصور کا ایک شاہکارفن پارہ نظرآیا اوروہ اُس میں کھو گئے۔ جب غورکیا تو فن پارے میں درختوں کے پتے ہلتے محسوس ہوئے تو قریب جاکر دیکھا تو پتہ چلا کہ کھڑکی کے شیشے پرباہر کے نظارے کا عکس نمودار ہے۔ فرماتے ہیں کہ وہ بھاگ کر باہر نکلے تو پھنڈر کی خوبصورتی اُن پرعیاں ہوئی۔
ہمارے دوست اورملک کے نامورپروڈیوسرواینکرپرسن وقاراحمد ملک پہلی بارپھنڈر آئے تو پہلی نظر کے بارے بتاتے ہوئے کہا کہ پھنڈر انہیں کسی کاغذ پرکسی شریر بچے کی شرارت لگی اس کے بعد انہیں خود کوجوتا مارنے کا دل کیا کہ بائیس دوروں میں پھنڈر جیسی خویصورت وادی کیوں نظر انداز رہی۔ انہوں اس خوبصورتی کو ایک ہی لائن میں کیا خوب بیان کرکے پھنڈر کے باسیوں کو اہم پیغام دیا ” سکردو شہر کی وسعت، شنگریلا اورکچورا کا پانی ، چلاس کی برہنہ خوبصورتی، ہنزہ نگر کی سبزہ ہٹ یعنی پورے جی بی کی خوبصورتی اللہ تعالی نے سمیٹ کرایک ہی باسکٹ میں ڈال کر پھنڈر کے باسیوں کے حوالے کر دیا ہے اب مرضی اُن کی ہے کہ فائدہ لینا ہے یا پھر اس باسکٹ کو فٹ بال سمجھ کر کھیلنا ہے”

دیکھنے کو کیا ہے؟

کیا نہیں ہے، جھیل ڈھونڈتی آنکھوں کوٹھنڈک ۳۲ فٹ گہری، ہزار میٹر لمبی، پانچ سور میٹرچوڑی یعنی سینکڑوں ایکڑ پر پھیلی گہری نیلی پھنڈر جھیل کے کنارے مل جاتی ہے۔ خاموش طبع شخصیت اس جھیل کی خاموشی میں کھوسکتی ہے اوراس کی پرواز تخیل کی تیزی کو تیرتی ماہی ہی مات دے کرواپس لاسکتی ہے۔ اسی جھیل میں پہاڑوں کے دیوانوں کو دیوقامت وفلک بوس پہاڑوں کا وجود اورپانی میں ہلتی ان کی عکس ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ فلک شگاف چوٹی پرغروب آفتاب کا عکس بھی فطرت کے قدر دانوں پر بہت کچھ عیاں کرسکتا ہے۔
تھوڑی سی خراماں خراماں مسافت آپ کو پُرسکوں دریا پرلے جائے گی جس کی بہاو کی سمت تعین کرنا آسان نہیں ہوتا اورآپ کو جھک کر ہاتھ لگانا پڑتا ہے کہ سمندر کی سکوت لے کر یہ گہرے سبزرنگ کا پانی کس جانب محو سفر ہے۔

( جاری ہے)

نوٹ : یہ تحریری سلسلہ گلگت بلتستان کے مشہورسیاحتی مقامات اور وہاں پر اُبھرتے ماحولیاتی مسائل کے بارے شروع کیا گیا ہے جو کئی اقساط پرمشتمل ہے

یہ بھی پڑھیں۔

چیف سکریٹری گلگت بلتستان

5مہینوں میں 600 اساتذہ تعینات، 350 آئی ٹی لیب، 200 لائبریاں بنائی گئیں : محی الدین وانی، چیف سکریٹری گلگت بلتستان

چیف سکریٹری گلگت بلتستان محی الدین وانی کا کہنا تھا کہ تعلیمی ایمرجنسی ضروری تھی،صحت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے