جمعہ , 2 دسمبر 2022
سیاحتی مقامات اور ماحولیاتی مسائل

گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات اور ماحولیاتی مسائل

گلگت بلتستان کے سیاحتی مقامات اور ماحولیاتی مسائل

سیاحوں کی جنت وادی پھنڈر (2)

خاموش دریا

دریائے پھنڈرکی دلکشی اورخاموشی آپ کو تھوڑی دیر میں اپنی اندر سمونا شروع کر دیتی ہے پل بھر کے مسافر کا لب دریا سے اُٹھ کر کسی اور جانب سفر کرنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ دریا چار سے پانچ کلو میٹر تک سمندر کی مانند خاموش ہے دو سو سے دو سو پچاف فٹ چوڑا دریا کسی طرح دریا نہیں لگتا بلکہ سارے سیاحوں کو یہ غلظ فہمی رہتی ہے کہ یہ دریا نہیں جھیل ہے۔ دریائے پھنڈر دُنیا کی نایاب اورذائقہ دارماہی ٹراوٹ کامسکن ہے اکتوبر سے اپریل تک لب دریا میں تیزی سے تیرتی ٹراوٹ کا نظارہ بڑا دلکش ہے مئی سے ستمبر کے وسط تک ٹراوٹ کا شکار ممکن ہے مگر دیدارگاہے بگاہے کسی کو نصیب رہتا ہے۔ یہ دریا جون کے وسط سے دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے ایک کو پھُک یا چیق سین یعنی چھوٹا دریا جبکہ مستقل دریا کو لوٹ ےعنی بڑا دریا کہتے ہیں۔ ایک مقام پر یہ دریا سال بھر دو حصوں میں بہتا ہے جہاں پھُک اور لوٹ (چھوٹے اوربڑے)کا تعین دریا پرمنحصر رہتا ہے جوکسی سال ایک جانب زیادہ بہاوتو کبھی دوسری جانب زیادہ بہتا ہے۔ اس دریا میں کبھی رافٹنگ اوربوٹنگ نہیں ہوتی جو کہ نہایت خوش آئند بات ہے مگر سال میں ایک دفعہ بطور کھیل یہ سرگرمی ہو تو بھی کوئی حرج نہہں البتہ ماحولیات اورآبی حیات کے ماہرین کی رائے ضروری ہے۔ دریا پر فشنگ عام ہے مگر بطورایک ذمہ دارسیاح متعلقہ ادارہ یا افراد سے شکارکی اجازت لے کرانجام دینا درست فیصلہ ہوگا۔ سرکاری سطع پر۹ مچھلیوں کے شکار کی اجازت دو سے تین سو مقرر تھااب کنزرویشن کے بعد یہ لائسنس پانچ سوسے ہزارتک باآسانی مل جاتی ہے۔

لب دریا کیمپنگ

مقامی افراد ثقافتی لحاظ مہمان نواز ہونے کے باعث کاروباری بالکل بھی نہیں ہیں اس لئے وادی پھنڈر آنے والے سیاح لب دریا یا کسی بھی خالی جگہے پرکیمپ لگایا کیا کرتے ہیں تاہم مقامی کمونٹی کی طرف سے اب معمولی فیس بھی لاگو کردی گئی ہے۔ ان ہی کیمپنگ سائٹس پربظاہرکوئی خطرہ یا مسلہ درپیش نہیں ہوتا مگر حفاظتی اقدامات سیاحوں کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے۔ مقامی افراد سے اجازت یا مقررہ مناسب فیس کی ادائیگی کے بعد سیاحوں کی حفاظت مقامی لوگوں کی ذمہ داری میں آتی ہے۔ تاہم اب اس وادی میں بے شمار ہوٹلز، کیمپنگ ایریاز بن چکے ہیں تو قیام کی بہتر سہولت اورحفاظت ان ہی جگہوں پرممکن ہے۔

ٹریکنگ اینڈ ہائکینگ

وادی پھنڈرمیں ٹریکنگ اورہائکینگ کے شوقیین سیاحوں کے لئے بے شمارپوائنٹس موجودہیں۔ سیاحوں کی آسانی کے لئےچند ایک کا ذکرضروری ہے۔

تاریخی گاوں دالومل

پھنڈرکے پرانے تاریخی بازار گلوغ سے پھنڈرکا پرانا اورتاریخی گاوں دالومل( جہاں سے آبادی کا آغازہوا) کا راستہ شروع ہوتا ہے۔ آدھ گھنٹے سے پونے گھنٹہ پیدل مسافت کے بعد دالومل گاوں کانظارہ شروع ہوتا ہے۔ پھنڈرویلی کی تاریخ دالومل سے شروع ہوتی ہے جہاں غالباً ایک ہزارسال پہلے انسانی آبادی شروع ہوئی۔ چند گھرانوں پر مشتمل نفوس اب اس وقت پوری وادی میں پھیل ک تقریباً سولہ سے اٹھارہ قبائل بن چکی ہیں جبکہ کل نفوس آنوٹیک علی آبد تا بریستو ٹیک دالومل تک کم وبیش چھ ہزار ہیں۔
گلوغ بازارسے تھوڑی ٹریکنگ آپ کو نہ صرف اس تاریخی گاوں سے روسشناس کرا سکتی ہے بلکہ جنت نظیرپھنڈر ویلی کا ایک اور دلکش نظارہ ممکن ہے۔ اسی مقام سے نظارہ کرتے ہوئے کسی کھوار شاعر نے کہا کہ "دالومل شہادت پھنڈر جنتو پھت”
ترجمہ: دالومل گاوں یہ شہادت دیتا ہے کہ پھنڈرجنت کا آدھا حصہ ہے۔

نپورجھیل

دالومل گاوں سے دوگھنٹے کی نہایت آسان ہائکینگ کے بعد ایک خوبصورت جھیل نپور کی سیرممکن ہے۔ جب آپ اس جھیل پرپہنچ جاتے ہیں تواپنی مسافت بھلاکر فطرت کے آغوش میں مدہوشی گلے ملتی ہے۔ فلک بوس پہاڑوں کی سفید چوٹیاں فطرت زدوں کواپنے دامن میں پاکرمسکراہٹ بکھیرتی ہیں۔ اس چھوٹی سی جھیل کے کرامت ساتھ ہی ٹیلے پرکھڑے ہوکر دائیں بائیں کے مناظر میں ہمہ تن گوش ہونے سے انسان پرظاہرہونا شروع ہوتے ہیں۔ یہ کس قسم کے کرامات ہوسکتے ہیں؟ یہ جاننے کے لئے تھوڑی محنت، مسافت اورفطرت سے محبت ضروری ہے۔
ان مقامات کے علاوہ بھی بہت ساری جگہیں ہیں جہاں رعنائی اورخوبصورتی موجود ہے۔ پحنڈر میں کسی ہوٹل یا کیمپ سائٹ میں قیام کے دوران پھنڈر ویلی کے مضافات میں پسچرز، نالوں اور پہاڑوں پر موجود جھیلوں کی فہرست مل سکتی ہے۔

وادی پھنڈرمیں سراٹھاتے ماحولیاتی مسائل

یوں تو دنیا بھر میں بڑھتی عالمی اورعلاقائی درجہ حرارت کے باعث موسمیاتی تغیر، بڑے بڑے صنعتی ممالک میں اخراج ہوتی کاربن ڈائی اکسائیڈ گیسیزکے باٰعث ماحولیاتی تباہی عروج پارہی ہے۔ہمارے ہاں بھی اس تباہی کے خوفناک نتائج آنے شروع ہوئے ہیں۔ وادی پھنڈرمیں بڑھتی سیاحت کے بُرے اثرات سے یہ بات سامنے
آچکی ہے کہ آئندہ چند سالوں میں ماحول کا مسلہ سب سے پیچیدہ معمہ بن کر سامنے آئیگا۔ اس وقت اس وادی میں کیا ماحولیاتی مشکلات ہے ان پر سرسری نظر دوڑا لیتے ہیں کیا پتہ کہ کسی کو اس بات کا احساس ہو ہی جائے اورمقتدر حلقے ماحول کے حوالے سے محتاط ہوتا دیکھائی دے سکے۔

ویسٹ منیجمنٹ

بڑحتی سیاحتی رجحان سے اب وادی پھنڈرمیں ویسٹ منیجمنٹ کا مسلہ سراُٹھا چکا ہے۔ محلوں بازاروں،آبشاروں، دریاوں، جھیلوں اورخوبصورتی سے بھرپوروادیوں میں تا حد نظرپلاسٹک، بوتلیں اوربسکٹ کے ریپرزپڑے ہیں۔ یہاں آتے سیاحوں اور اس وادی میں رہنے والے مکینوں کویہ احساس تک نہیں کہ کس طرح یہ مسلہ آنے والے دنوں میں بڑا مسلہ بن کر اُبھرے گا تووہی پرسیاحت کے فروغ کے دعویدارحکومت اور ضلعی انتظامیہ بھی غافل ہیں۔ مجال ہے کہ کسی کو ماحول کے بارے سوچنے کا موقع ہی ملے۔ ہرآئے روزمنوں کے حساب سے کچہرے ڈیپازٹ ہورہے ہیں اوروہ دن دورنہیں جب ان کا اثرپورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے گا۔

زیرزمین ماحولیاتی طوفان

سرزمین پھنڈرعالمگیر نوعیت کے ماحولیاتی خطرات کے علاوہ زیرزمین ایک اورما حولیاتی طوفان کو جنم دے رہی ہے جو فی الحال ان سنی، ان دیکھی اوران محسوس شدہ مگرایک پیچیدہ مسئلہ بن کر اُبھررہا ہے۔ سینکڑوں گھرا نے اس وقت خا موشی سے انسا نی فضلاء کو ٹھکانے لگا نے کی تگ ودومیں ہرسال گڑھے کھود رہے ہیں جو زیرزمین تین فٹ کی دوری میں پا نی کی موجود گی سے چند مہینوں یا پھر سال کے اندر اندر بھرجا تے ہیں اور یہ عمل دو بارہ دہرایا جارہا ہے۔ اس وادی میں ایسا گھرنہیں رہا جس کے صحن میں زمین کا کوئی ایسا گو شہ مو جود ہو جو گٹر کے لئے نہ کھودا گیا ہو۔ گڑھے کھود نے کا عمل جہاں مقا می لو گوں کے لئے ذہنی و جسمانی اذیت کا باعث ہے وہاں یہ عمل ما حولیا تی آلو دگی کا پیش خیمہ بن کر اُبھر رہا ہے جوآئندہ چند عشروں میں طو فان کی صورت پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لےسکتا ہے۔
وادی پھنڈر کے میدا نی علاقے (گلو غ تا بُک) اس نظام سے بہت متا ثر ہوئے ہیں اورخدشہ ہے کہ آئندہ سالوں میں اس کے اثرات لو گوں کی صحت پروبائی امراض کی صورت پڑنا شروع ہو نگے۔ ہرسال اُ بلتے گٹر کے گڑھے مقامی آبادی کے لئے معا شی پہلو سے بھی اذیت ناک ثا بت ہورہے ہیں۔ روایتی گٹر سسٹم کی جگہ سیوریج کا نظام متعارف کروایا جائے تووادی پھنڈرزیرزمیلن پھلتے پھولتے طوفان سے بچ سکتا ہے ورنہ یہ خوبصورت سیاحتی مقام انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔

ماحولیاتی ایمرجنسی کی ضرورت

بظاہرقدرے تعلیم یافتہ افراد کا سماج اس وقت ماحولیاتی آلودگی اوراس کے تباہ کن اثرات سے غافل نظرآرہا ہے۔ پگھلتے گلیشئیرز،پھیلتی گندگی اوراُبلتے گٹروں سے منہ چھپاکر گزرنے والا استاد، طالب علم، کسان، ریٹائرڈ فوجی، پٹواری اور تحصیلدارسب کے سب اس کے اسباب ہیں جواپنے شاگردوں، ہم جماعت، ہم پلہ اوربچوں، ساتھی ، ماتحتوں اورلوگوں کو ماحول کی سنگینی کے بارے بتانے کے لئے وقت دیتے ہیں اور نہ ہی کسی پلاسٹک کو اُٹھا کر زمین کا بوجھ ہلکا کر سکتے ہیں. یہ ہی نہیں بلکہ حکومت اورانتظامیہ ویسٹ منیجمنٹ کے فنڈز سے دفتروں میں چائے بسکٹ کے اہتمام سے خوب واقف ہیں مگر کسی بھی طرح ماحولیاتی آلودگی پر لب اور نہ ہی کسی مارکیٹ میں کوڑا دان لگانے پر خزانے کا منہ کھولیں گے.

فیچر سٹوری : فداعلی شاہ غذری

یہ سلسلہ جاری ہے اگلی تحریر جلد شائع ہوگی

یہ بھی پڑھیں۔

چیف سکریٹری گلگت بلتستان

5مہینوں میں 600 اساتذہ تعینات، 350 آئی ٹی لیب، 200 لائبریاں بنائی گئیں : محی الدین وانی، چیف سکریٹری گلگت بلتستان

چیف سکریٹری گلگت بلتستان محی الدین وانی کا کہنا تھا کہ تعلیمی ایمرجنسی ضروری تھی،صحت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے